میری کتاب سو برس بعد پڑھی جائے گی


asif-farrukhi_1ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پل کی خبر بھی ہے اور سو برس کا سامان بھی۔ یہ قصّہ کسی اور کا نہیں، مارگریٹ ایٹ وڈ سے شروع ہوتاہے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ادیب اور ناول نگار جنہوں نے اپنے ناولوں میں بنی نوعِ انسان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا تخیّلاتی احوال اس کمال سے رقم کیا ہے کہ ان کو موجودہ زمانے کے سربرآوردہ لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں اور ہم ایسے پڑھنے والے ہر نئی کتاب کا شدّت سے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مگر مار گریٹ ایٹ وڈ نے اپنی نئی کتاب مُہر بند کردی کہ اسے سو برس کے بعد پڑھا جائے کیوں کہ یہ کتاب جس کاغذ پر چھپے گی، ابھی اس کاغذ کے لیے جنگل میں پودے اُگائے جا رہے ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی ایک فن کارہ کیٹی پیٹرسن (Katie Paterson) نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کی مدّت سو برس ہوگی اور جس میں شامل ہونے والے ادیبوں سے کہا جائے گا کہ اگلے سو برس تک، یعنی 2116ء تک ہر سال ایک کتاب تیار کریں اور یہ کتاب سو برس کے بعد سامنے آئے۔ ان کتابوں کی اشاعت جس کاغذ پر ہوگی اس کے لیے ایک ہزار درخت ایک جنگل میں اگائے جا رہے ہیں جو ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔

اس منصوبے کو مستقبل کا کتب خانہ یا فیوچرز لائبریری کا نام دیا گیا ہے۔ مارگریٹ ایٹ وڈ پہلی ادیبہ ہیں جنھوں نے اس کتب خانے کے لیے اپنی تحریر بہم پہنچا کر اس کا باقاعدہ آغاز کیا۔

ایک خصوصی تقریب میں مارگریٹ ایٹ وڈ نے اپنے مسودہ منتظمین کے حوالے کیا اور ناروے میں ان درختوں کو دیکھا جن سے سو برس کے بعد اس کتاب کی اشاعت کے لیے کاغذ تیار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب کا نام Scribber’s Moon  ہے اور آئندہ سو برس تک اس کتاب کے بارے میں محض اسی قدر تفصیل معلوم ہوسکے گی۔

مارگریٹ ایٹ وڈ بھلا اس موقعے پر اپنے مخصوص انداز میں ادبی گفتگو سے کیسے چوک سکتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سارے سلسلے میں جادوکی جیسی باتیں ہیں۔ یہ ’حُسنِ خوابیدہ‘ یا Sleeping Beauty کی معروف کہانی جیسا ہے۔ یہ تحریریں اگلے سو برس تک نیند کے عالم میں رہیں گی اور جب دوبارہ جاگیں گی تو پھر margaret woodجی اٹھیں گی۔ وقت کا یہ دورانیہ پریوں کی کہانی والا ہے۔ وہ شہزادی بھی تو سو برس تک سوتی رہتی تھی۔

اس موقع کے لیے مارگریٹ ایٹ وڈ نے خاص طور پر ایک مختصر مضمون بھی لکھا۔ ’’میں وقت کے دورانیے میں ایک مسوّدہ بھیج رہی ہوں۔۔۔ کیا اس کو وصول کرنے کے لیے کوئی انسان موجود ہوگا جو اس کا انتظار کر رہا ہو گا؟ کیا کوئی ’ناروے‘ باقی ہو گا؟ کوئی ’جنگل‘ باقی ہو گا؟ کوئی ’’کتب خانہ‘‘ ہو گا؟ یہ سوچنا بھی کس قدر عجیب ہے کہ میری آواز، جسے خاموش ہوئے بہت عرصہ بیت چکا ہوگا، سو برس کے بعد اچانک دوبارہ جاگ اٹھے گی۔۔۔‘‘

ایٹ وڈ نے اس مستقبل کا پورا نقشہ بھی کھینچ دیا۔ ’ہمیں نہیں معلوم کہ اس کو کون پڑھنے آئے گا؟ ہم وقت کے دورانیے میں زیادہ کی تبدیلی یا morphing  سے بھی تو نبٹ  رہے ہیں۔ ہم جو الفاظ آج استعمال کررہے ہیں ان میں سے کون سے مختلف، قدیم اور متروک ہو جائیں گے؟ کون سے نئے الفاظ زبان میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سے فٹ نوٹ کی ضرورت محسوس ہوگی۔ کیا اس وقت لوگوں کے پاس کمپیوٹر ہوں گے؟ کیا وہ اس کو کسی اور نام سے پکاریں گے؟ وہ اسمارٹ فون کا مطلب کیا سمجھیں گے؟ کیا یہ لفظ اس وقت موجود ہو گا؟‘‘

مستقبل کے کتب خانے کے اس تصوّر میں انسان کے لیے امید کا امکان موجود ہے۔ اس منصوبے کی محرک کیٹی پیٹرسن نے کہا کہ اس سلسلے میں دنیا بھر کے ادیبوں میں سے انتخاب کیا جائے گا۔ وہ خود تو موجود نہیں ہوں گی لیکن یہ سلسلہ ان کے بعد بھی جاری رہے گا۔ مارگریٹ ایٹ وڈ نے کہا کہ اگر ہم سمندروں کو بچا سکے اور ہمہ گیر وبائی امراض سے محفوظ رہ گئے تو نسلِ انسانی بھی باقی رہے گی۔ اس سلسلے میں اگلے مصنّف برطانیہ کے ڈیوڈ مچل (David Mitchell) ہیں جنہوں نے اس اقدام کو اعتماد کا ووٹ قرار دیا ہے تباہی کے جس قدر وسیع امکانات کے سائے تلے ہم زندہ ہیں، اس کے باوجود مستقبل میں ایک ایسا روشن اور چمکیلا امکان ہوگا کہ جہاں ایسے فن کارانہ عمل کو مکمل کیا جا سکے جس کا آغاز سو برس پہلے کے لوگوں نے کیا تھا جو اس وقت تک مرکھپ چکے ہیں۔ حال ہی میں ڈیوڈ مچل نے اپنا مسودہ کتب خانے کے سپرد کیا تو یہ قصّہ پھر تازہ ہو گیا۔

یہ تو پڑھے لکھے اور کتاب دوست معاشروں کی باتیں ہیں، جو ایسے موقعوں پر سہانے خواب معلوم ہوتی ہیں۔ یہ احوال پڑھ کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ اس سلسلے میں Margaret Atwood-584ہمارے کسی ادیب کے نام کا انتخاب ہو جائے تو کیسا رہے؟ سو برس بعد کیا اس زبان کی کتاب کی اشاعت اور پڑھنے والوں تک رسائی کے امکانات بہتر ہوں گے؟ اگر ایسا ہونا ممکن ہے تو شاید کئی لوگ اپنی اپنی کتابوں کو لکھ کر ٹائم کیپسول میں محفوظ کرانا پسند کریں گے کہ آج کی بے یقینی سے مستقبل کا امکان بہتر۔

پھر خیال آیا کہ کیوں نہ اس پیشکش کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ ایک نہیں ایسے کئی لکھنے والے ہیں جن کی تحریروں کو جوں کا توں مستقبل کے حوالے کر دیا جائے۔ سو برس بعد کے لوگ ان سے خود نبٹ لیں گے۔ فی الحال ہماری جان تو چھوٹ جائے گی، ہمارے زمانے کا گرد و غبار تو چھٹ جائے گا، تھوڑا سا سہی۔۔۔

میرے اردگرد بھی ایسے کئی لوگ ہیں جو بڑے صبر کے ساتھ اس جنگل کے اُگ آنے کا انتظار کر رہے ہیں جس کے درختوں سے وہ کاغذ بنے گا جس پر ان کی کتابیں چھپ سکیں۔


Comments

FB Login Required - comments