مایا اینجلو: سیاہ فام عورت سے شاعری اور حقوق تک


rabi waheedمایا اینجلو امریکی سیاہ فام نسل سے تعلق رکھنے والی ایک سیاہ فام فیمنسٹ ہیں۔ جو بہ حیثیت ایک گلوکارہ، رقاصہ، اداکارہ، موسیقار اور ہالی وڈ کی پہلی سیاہ فام ہدایت کارہ کے طور پر اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ لیکن اُن کی وجہ شہرت کا غالب حصہ ایک ادیبہ، مضمون نگار، ڈراما نگار، شاعرہ اور شہری حقوق کی کارکن کے طور پر سامنے آیا۔ انھوں نے ڈاکٹر مارٹن لوتھرکنگ جونئر اور میلکم ایکس کے لیے انسانی حقوق کے حوالے سے کام کیا۔ انھوں نے دو صدارتی کمیٹیوں  Gerald Ford 1975اور Jimmy Carter 1977 میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے انہیں قومی تمغہ برائے فنون (National Medal of Arts) سے نوازا اور 2010 میں امریکی صدر بارک اوباما نے صدارتی تمغۂ آزادی(Presidential Award of Freedom) جو امریکہ کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے، مایا کو دیا۔ مایا اینجلو کو پچاس سے زائد اعزازی اسناد(Degrees)  سے نوازا گیا۔ مایا اینجلو نے اپنی ذاتی زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کیا۔ مایا کو بطور عورت چھوٹی عمر میں ہی ایک عورت ہونے کے جرم کا احساس دلایا گیا۔ جنسی تشدد، عورت ہونے کے ناطے دوسری درجے کی مخلوق کے تصورات وغیرہ مایا کے ساتھ ایک آسیب کی طرح موجود رہے۔ خاص طور پر جنسی زیادتی کا تصور تو انہیں عمر نہ بھولا۔ اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا تفصیلی ذکر مایا نے اپنی سوانح حیات میں بیان کیا ہے۔ مایا لکھتی ہیں کہ میں بچپن میں اپنی دادی کے پاس رہتی تھیں۔ مایا اپنی والدہ کے قریبی مرد دوست کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد خاموشی کے پانچ سالہ لمبے دور میں چلی گئیں۔ اس وقت مایا کی عمر صرف سات سال تھی۔ مایا نے اس واقعہ کے بعد خود کو کتابوں کے مطالعہ میں گم کر لیا۔ یوں مایا صرف کتابیں ہی نہیں پڑھتی تھیں بلکہ ایک عورت کی تہذیبی، فطری اور تانیثی شناخت کو بھی کھوجنے لگیں۔ اسی دوران انھوں نے ایڈگر ایلن پَو، چارلس ڈکنز، ولیم شکسپیئر، لنگسٹن ہیوز، پال لارنس ڈنبر جیسے ادیبوں کا مطالعہ کیا۔ بارہ سال کی عمر میں ماہرِ تعلیم مسز فلاور نے مایا کو دوبارہ بولنے کی طرف مائل کیا۔ جس کا ذکر مایا بچوں کی کتاب Moment of friendship میں یوں کرتی ہیں:

maya2“مسز فلاور نے مجھے بولنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ مجھے تعلیم کی اہمیت سے واقف کروایا مجھ میں شاعری کا ذوق پیدا کیا۔”

مایا اینجلو کی چھ سوانح عمریاں ہیں۔ جو اُنھوں نے گاہے گاہے اپنی زندگی میں درپیش مسائل کے پیشِ نظر لکھیں۔ مایا محض ایک ادیبہ یا ہالی وڈ کی اداکارہ ہی نہیں رہیں اور نہ ہی ایک دم شہری حقوق کی علم بردار بن گئیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت سے مسائل کو جھیلا۔ وہ مختلف ہوٹلوں میں کبھی باورچی کبھی رقاصہ اور کبھی گلوکارہ کے طور پر بھی کام کرتی رہیں۔ حتی کہ مایا اینجلو نے بس کنڈیکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

مایا کی شادی ایک جہاز رانی کے ماہر Tosh Angelou کے ساتھ ہوئی جو نسلی اعتبار سے امریکی سفید فام تھا۔ مایا کی ایک نظم Passing time مایا کی ذاتی ازدواجی زندگی کو کھولتی ہے۔ مایا لکھتی ہیں کہ خاوند اور بیوی کا تعلق ایسا ہے جیسے صبح اور رات کا تعلق۔

مایا اینجلو ایک سیاہ فام شاعرہ تھیں۔ انھوں نے ساری عمر عورت کی تانیثیت کی جنگ لڑی۔ وہ بیک وقت ایک سیاہ فام غلام اور ایک عورت کی زندگی کی وجہ سے امریکی جدید معاشرے میں بھی حقیر اور کم ذات تصور کی جاتی رہیں۔ مایا نے اپنی حیثیت کو منوایا اور ایک ہمہ گیر پیغام کا موجب بنیں۔ مایا کی شاعری محض کتابی یا تخلیاتی نظمیں نہیں۔ بلکہ اُن کی سوانح کو بھی منعکس کرتی ہیں۔ مایا اکثر نظموں میں صیغہ واحد متکلم میں بات کرتی ہیں لیکن سیاہ فام عورت کی اجتماعی آواز بن جاتی ہیں جو غلامی سے نجات پانے، زندگی میں حق حاصل کرنے اور باوقار مقام پانے کی خواہش رکھتی ہے۔ “میں اٹھوں گی” مایا کی وہ نظم ہے جو ان کے پختہ عزم کا احاطہ کرتی ہے جس میں مایا کی زندگی کے کچھ سوانحی (Autobiographical) نقوش بھی آ گئے ہیں۔

maya“غیر معمولی عورت” ایک غیر معمولی نظم بھی ہے۔ تانیثی حوالے سے اس نظم کو بہت سی جگہوں پر کوڈ کیا جاتا رہا ہے۔ اس نظم میں مایا اینجلو کا اپنی ذات پر اعتماد اور یقین واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور عام عورت کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ عورت کو اُس کے غیر معمولی پن اُس کی شخصیت کے سحر، پُر اسراریت اور خوبصورتی کا احساس دلانا چاہ رہی ہیں۔ عورت جس کو مرد حاکم معاشروں میں دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا ہے۔ اس نظم میں حد سے زیادہ پُر اعتماد اور اپنی شخصیت کی خوبیوں سے آشنا دکھائی دے رہی ہے اور شاید مایا اینجلو ہر عورت کو ایسا ہی غیر معمولی طور پُر اعتماد دیکھنا چاہتی ہیں۔

مایا کی شہرت کی ایک وجہ امریکی صدر بل کلنٹن کی دعوت پر ایک نظم “صبح کی نبض پر” لکھنا اور براہِ راست تحت الفظ پڑھنا بھی ہے۔ یہ نظم بلا تفریق نسلی احترام، مذہبی تفریق سے کنارہ کشی اور انسانی ہم آہنگی پُر زور دیتی ہے۔

مایا اینجلو ایک تانیثی ادیبہ کے طور پر دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔ وہ 2014 میں وفات پاگئیں۔ ان کی نظمیں انسانی حقوق خصوصاً حقوقِ نسواں کی نمائندہ بن گئیں ہیں۔ اُردو میں مایا اینجلو پر خاص کام نہیں ہُوا۔ اُن کی پوری زندگی ایک پُر تاثیر ادیبہ اور متحرک تانیثی کارکن کی زندگی ہے۔ اُردو میں تانیثی شناخت کا جو احیا کیا جا رہا ہے اُس میں مایا کا ذکر ایک مشعل کی طرح نظر آنا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments