پاکستان میں ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا مریض ہے


پاکستان سمیت پوری دنیا میں 10اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ 1992ء سے عالمی ادارہ صحت کے تحت یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصدعوام میں ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج ذہنی بیماریوں سے بچاؤ کا شعور بیدار کرنا ہے۔ کسی بھی عالمی دن کے منانے کا اصل مقصد ہی عوام میں اس دن کی نسبت سے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ایسے مسائل پر قابو پایا جائے۔ صحت اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور پھر ذہن سب کچھ کنٹرول کرتا ہے۔ عقل کے بغیر انسان کی جسم کی کوئی اہمیت نہیں۔

امید کی جارہی تھی کہ 2020ء تک ڈپریشن چوتھے نمبر سے دوسرے نمبر پر آجائے گا لیکن یہ 2008ء میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آگیا تھا۔ اور اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو جلد ہی یہ پہلے نمبر پر آجائے گا۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً پچاس کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمام امراض کے مقابلے میں اعصابی نفسیاتی بیماری کا حصہ 28 فیصد ہے۔ جس میں ڈپریشن کا بوجھ 10 فیصد ہے۔ تحقیق کے مطابق ڈپریشن کی وجہ سے دنیا میں 130کھرب روپے کا سالانہ نقصان ہو تا ہے۔ برٹش جرنل آف سائیکیٹری بیس سٹڈیز شائع ہوئی جن کے مطابق پاکستان میں 33 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ جب کہ دنیا میں اس وقت ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد 5 سے 7 فیصد ہے۔

پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی مطابق وطنِ عزیزمیں نفسیاتی اور ذہنی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے۔ پاکستان میں لوگوں پر ذہنی دباؤ باقی دنیا سے چار یا پانچ گناء زیادہ ہے۔ کے پی کے میں 80 فیصد ملک میں 50 فیصد آبادی کسی نہ کسی طرح ذہنی یا نفسیاتی امراض کا شکار ہے۔ پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کے اعداد و شمار کے تحت ملک میں 33 فیصد لوگ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن 4 فیصد لوگ وہم 3 فیصد بے جاء خوف کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

جب کہ اس کے علاج کے لیے صرف 450ماہرینِ نفسیات دستیاب ہیں۔ 2011کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک فرد کسی حد تک ذہنی طور پر تناؤ مایوسی یا دیگر ایسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 85 فیصد تک دماغی امراض میں مبتلا افراد کے علاج کے سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ زندگی جوں جوں تیزی کی طرف گامزن ہوگی ڈپریشن کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔

عالمی ادارہِ صحت کے مطابق دنیا سے 10سے 20 فیصد نوجوان ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ تناؤ ٗیا ڈپریشن کا مرض نوجوانوں کی عمر20سے 40سال تک ہونے کے زیادہ امکان ہوتا ہے۔ مردوں کی نسبت خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہیں۔

وطن عزیز میں غربت میں اضافے کے باعث نوجوانوں میں ذہنی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کی اس حوالہ سے رائے یہ بھی ہے کہ ملک میں عدم تحفظ تعلیم میں عدمِ مساوات بے روزگاری غربت مہنگائی کے باعث ذہنی انتشار میں مبتلا افراد کی تعداد گزشتہ برسوں کی نسبت 100 فیصد اضافہ ہوا۔ جس کے باعث نوجوان نسل میں اکثریت مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث ذہنی کرب سے دوچار ہو تے ہیں۔ وہی اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ جس نے ملک و قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوتا ہے وہی بے چینی ٗذہنی دباؤ کے باعث ذہنی طور پر مریض بن کر ملک و قوم کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔

کئی حادثات اس وجہ سے بھی پیش آرہے ہیں کہ کئی نوجوان بزرگ خواتین ذہنی سوچ کے باعث اپنے آپ سے اشاروں میں باتیں کرتے اور سوچ کی دنیا میں غرق ٹریفک کے نیچے آجاتے ہیں یا پھر اچانک راستے کے نشیب وفراز میں گر کر زخمی ہو تے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں 05کروڑ سے زائد افراد ذہنی امراض سے دوچار ہیں۔ اور پھر ہمارے ہاں ان کی دیکھ بھال کا کوئی معقول انتظام و انصرام نہ ہونے کے باعث یا تو یہ افراد انتہائی تکلیف میں زیست کے ایام بسر کر رہے ہیں یا پھر نیم حکیموں سے علاج کرواتے ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں