بڑی میڈم اور نالائق ترین خواتین


امتحانی مرکز کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر وضع قطع اور عمر کی خواتین، تعلیم یافتہ کہلانے کی چاہ میں فقط ڈگری حاصل کرنے کی خاطر سر جھکائے پرچہ حل کرنے میں مصروف تھیں۔ امتحانی نگران عملے کی بددلی اور تھکاوٹ ان کی ہر ہر ادا سے ظاہر ہو رہی تھی۔ بڑی میڈم کافی فراغت سے کرسی میز لگائے بیٹھیں سموسے کھا رہی تھیں۔ جبکہ دیگر جونیئر عملہ ایک کے بعد ایک پرچہ ہاتھ میں پکڑے ہمارے سروں پر حاضر ہو جاتیں کہ لو رول نمبر ڈھونڈ کر فلاں فلاں معلومات درج کرو۔

کمرے کے دروازے پر کھڑا ایک بچہ اپنی والدہ کی بے توجہی پر نالاں زور زور سے روئے جا رہا تھا۔ مگر مجال ہے کہ کمرے میں موجود کسی بھی خاتون نے اس بچے کے ساتھ کسی قسم کی واقفیت کا اظہار کیا ہو۔ ایک نوعمر بچی بچے کو چپ کروانے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی مگر بچہ تھا کہ میں نہ مانوں“ کا پختہ عہد کیئے ہوئے نظر آرہا تھا۔

ایک تو گرمی کے دن، اوپر سے لوڈشیڈنگ اور سب سے بڑھ کر نگران عملے کی بدمزاجی۔ رہی سہی کسر بچے کے بے سروپا راگ نے پوری کر دی۔ ہمارا دماغ تو سفاچٹ ہوا سو ہوا۔ لیکن جو جلال بڑی میڈم کو چڑھا۔ الامان الحفیظ۔ پوری آواز سے دھاڑیں، یہ کس کا بچہ ہے؟ جواب ندارد۔ انگریزی کا پرچہ نہ ہوا روزمحشر ہو گیا۔ ماں بچے کو پہچاننے سے انکاری۔

میڈم کی زبان گویا آگ اگلنے لگی۔ ”پتہ نہیں کہاں سے آجاتی ہیں دنیا کی نالائق ترین عورتیں۔ ہم نے غلطی کی کہ اس بار ان نالائقوں کا سینٹر یہاں بنانے دیا۔ “
نالائق ترین عورتیں کا خطاب سیدھا دل پر جا کے لگا۔

تیوریوں پر بل چڑھا کر غصے بھری نظروں سے بڑی میڈم کو گھورنے کی کوشش کی مگر ان کے جاہ و جلال کے سامنے ہماری گھوری خودساختہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس پلٹی اور روتے ہوئے بچے پر جا کر جم گئی۔ جس کے رونے کی سپیڈ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اتنے میں ایک بیزار ترین شکل والی صاحبہ اٹھیں اور ادائےبےنیازی سے چلتی ہوئی بچے کے پاس پہنچیں، اس کے ایک زور دار تھپڑ جڑا اور گھسیٹتے ہوئے ایک طرف لے گئیں۔

یہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے قائم کردہ ایک امتحانی سینٹر کی روداد ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جس کو فاصلاتی تعلیم کے طریقہ کار پر کام کرنے والی دنیا کی چوتھی سب سے بڑی یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے۔ ہر سال اس یونیورسٹی میں داخلے کی شرح پچھلے سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس ادارے کی بدولت رور دراز پسماندہ علاقوں کے علم کے متلاشی افراد خصوصا خواتین گھر میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس ادارے نے ہر طبقے کو نوازا ہے۔ خاص طور پر معذور افراد جو ناقابل رسائی سکول، کالجز کی وجہ سے پڑھائی کو جاری نہیں رکھ سکتے تھے وہ بھی اس طریقہ تعلیم سے بھرپور مستفید ہو رہے ہیں۔ داخلے کے لئے عمر کی کوئی حد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ملازمت کے ساتھ ساتھ ا پنی ڈگری بھی امپروو کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ شادی شدہ خواتین بھی بچوں کے جھمبیلوں سے وقت نکال کر امتحان دینے پہنچ جاتیں ہیں۔

وقت پر کتابوں کی ترسیل، اسائنمنٹس، امتحانات، نتائج اور نئے داخلے، سب کام وقت پر بہت منظم طریقے سے سرانجام پاتے ہیں۔ لیکن اس سب خصوصیات کے باوجود اس ادارے میں پڑھنے اور ڈگری حاصل کرنے والوں کے بارے میں لوگوں کی عمومی رائے نالائق ترین لوگ کیوں ہے؟ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ وابستگی کے باوجود اس کی ڈگری کو وہ حیثیت حاصل نہیں ہے جو دیگر یونیورسٹیز کو حاصل ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طالب علم ہونے کی حیثیت میں نے یہ بات محسوس کی ہے کہ یونیورسٹی کے سلیبس اور کتابوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ناصرف تمام مضامین کی کتب کو ازسرےنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے بلکہ کچھ نئے اور جدید کورسز متعارف کروانے پر بھی انظامیہ کو غور کرنا چاہیے۔ مانا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اور نہ ہی مجھے موجوڈہ کتب کے مصنفین کی لیاقت پر کوئی شبہ ہے۔ لیکن اگر ادارہ واقعی اپنی ڈگری کی قدر کو لوگوں میں منوانا چاہتا ہے تو اپنے سلیبس کو ہر گھڑی بدلتی تاریخ اور جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرے تاکہ آ یندہ کوئی بھی بڑی میڈم ہمیں نالائق ترین خواتین کہنے کی جرآت نہ کر سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں