بالاکوٹ کی محرومیاں ۔۔۔ آخر کب تک ؟


بالاکوٹ تاریخی اہمیت کا حامل پہاڑوں کے بیچ ایک چھوٹا سا شہر ہے پاکستان سمیت دنیا میں لوگ اس کو تین وجوہات کی وجہ سے جانتے ہیں۔ اس کی شہرت کی پہلی وجہ برصغیر میں تحریک آزادی کی اٹھنے والی تحریک کے مجاہد سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کے مزارات کا یہاں ہونا ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور ہند کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے سید احمد نے طاغوتی قوتوں جن میں سکھ، مرہٹے اور جاٹ شامل تھے کے خلاف ہندوستان سے اسلام کی سر بلندی اور ایک ازاد اسلامی ریاست کے حصول کے لئے جہاد کا اعلان کیا وہ 1825 میں 7 ہزار کے لشکر کے ساتھ پشاور پہنچے اور اکوڑہ کے مقام پر راجہ رنجیت سنگھ کے بھیجے ہوئے لشکر کو شکست دی اور آگے چل دیے جب حضرو کے مقام پہنچے تو ان کا سامنا سکھوں کی فوج سے ہوا زبردست معرکہ آرائی کی اور دشمنوں کے دانت شکست سے کھٹے کیے اور فتح کا علم بلند کیا۔ اس دوران مختلف لڑائیاں لڑی گئیں تحریک آزادی کو لے کر آگے بڑھے، کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کی خاطر اپنے لشکر کے ساتھ بالاکوٹ کے مقام پر پہنچے لیکن راجہ رنجیت سنگھ کے جنرل شیر سنگھ نے ان کا پیچھا کیا، سید احمد کے لشکر کے کچھ سپاہیوں نے غداری کی اور بالاکوٹ میں گمسان کا رن پڑا جس میں سید احمد شہید اور ان کے شاگرد سید اسماعیل شہید نے اپنے بچے ہوئے رفقا کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے 6 ستمبر 1831کو جام شہادت نوش کیا۔ ان کی یہ تحریک ان کی قربانیوں اور شہادت کی بدولت 1947 کو پاکستان جیسی عظیم مملکت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ان کا مزار آج بھی ان کی عظیم قربانیوں کا یاد دلاتا ہے لیکن افسوس یہاں کی تحصیل حکومت اور میونسپل جیسے ادارے اس عظیم یادگار سے بے خبر ہیں ان کا مقبرہ آج انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور گمنامی کی کی دلدل میں گم ہوتا چلا جا رہا ہے

اس شہر کی پہچان کی دوسری وجہ اس کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ یہ شہر وادی کاغان اور ناران کا دروازہ کہلاتا ہے ہر سال ملک بھر سے اور بیرون ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور پھر یہاں سے وادی کاغان اور ناران جیسی دلفریب وادیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ سیاح دریائے کنہار کا لطف اٹھاتے ہوئے اس کے پانی کی تند و تیز موجوں کا نظارہ کرتے ہوئے دریا کے ساتھ وادی کاغان اور ناران پہنچ جاتے ہیں۔ ناران کاغان کے علاقے سیاحوں کے لئے جنت سے کم نہیں ہیں یہاں پر چھم چھم کرتی آبشاریں، جھرنے ہیں اور جھیلیں ہیں سیف الملوک جیسی شہرہ آفاق جھیل بھی اسی وادی میں واقع ہے۔ سیاحوں کے ٹھہرنے کے لئے اعلی معیار کے لگژری ہوٹل بھی موجود ہیں اور کم اور سستی قیمت کے بھی جو یہاں کے لوگوں کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ بالاکوٹ کی صرف یہ وادی اپنے دامن میں کروڑوں کا کاروبار سمیٹے ہوئے ہے جو لاکھوں لوگوں کے گھروں کے چولہے جلائے ہوئے ہے۔ لیکن افسوس حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہاں پر بیسک انفراسرٹکچر موجود نہیں سڑکیں انتہاء دشوار گزار ہیں سڑک اور دریا کے کنارے حفاظتی انتظامات موجود نہیں پبلک مقامات پر ٹوائلٹس موجود نہیں جس کی وجہ سے بدبو اور تعفن پھیل رہا ہے اور وادی کا حسن ماند پڑ رہا ہے۔ اور نہ اس کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے خاطر خواہ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ کاغان ڈویلمنٹ کے نام پر ایک ادارہ بنایا گیا ہے جو محض دفتر اور تنخواہیں لینے تک محدود ہے اور ایک شخص کو تاحیات چیرمین بنایا گیا ہے جس سے اس ادارہ کا ایک مخصوص خاندان کی ملکیت ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

اس کی پہچان کی تیسری وجہ کے پیچھے ہزاروں دکھی داستانیں ہیں اس کی پہچان کا تیسرا پہلو اہم بڑا کرب ناک ہے جو اس شہر میں8 اکتوبر 2005 کو صبح کے وقت تباہ کن اور قیامت خیز زلزلہ کا پیش آناہے یہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا زلزلہ تھا جس کی ریکٹر سکیل پر شدت 7۔ 6ریکارڈ کی گئی ایک مخصوص اندازے کے مطابق اس کا شمار اب تک کے بڑے زلزلوں میں ہوتا ہے جس میں شرح اموات کی تعداد لاکھوں میں رہی اور سرکاری اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس میں شدید زخمی ہونے والوں کی تعداد 138000جن میں سکول میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 19000 رہی 2005 کے تباہ کن زلزلہ نے چند سیکنڈ میں ہنستے بستے، سرسبز شہر کو تہس نہس کر دیا، یہ کھنڈر بن گیا اور پل بھر میں لاکھوں زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں اور لاکھ سے زائد زندگیاں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئیں کوئی اپاہچ ہو گیا تو کوئی عمر بھر کے لئے ماں، باپ، بہن ِبھائی جیسے میٹھے رشتوں سے محروم ہو گیا، ہزراوں سہاگنوں کے سہاگ اجڑ گئے، بہنوں سے ان کے ویر بچھڑ گئے، جب یہ قیامت صغری برپا ہوئی تو ہر طرف آہ و بکا چیخ و پکار اور لاشے اور ان لاشوں سے تڑپتی سسکتی روحیں پرواز کر رہی تھیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ تھا جس میں چند سیکنڈ کے دوران لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے خاندانوں کے خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گئے، اس زلزلہ نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا تھا جس میں مظفر آباد شہر سمیت باغ راولاکوٹ کو بھی تہس نہس کر دیا اور یہاں بھی لاکھوں لوگ منوں مٹی تلے دب گئے۔ لاکھوں اموات کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں انفراسٹرکچر، رابطہ سڑکیں، سرکاری و نجی عمارتیں بھی راکھ کا ڈھیر بن گئیں2005کے اس تباہ کن زلزلہ میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک اور قوام متحدہ کی ایجنسیز کے مطابق تباہ ہونے والے انفراسٹکچر اور نقصانات کا تخمینہ 5۔ 3ارب ڈالر لگایا گیا۔

8اکتوبر2018کے اس سانحے کوتیرہ سال مکمل ہو چکے ہیں یہ شہر اجڑ کر بس چکا ہے۔ لیکن افسوس سے سے کہنا پڑ رہا ہے یہ شہر آج بھی زلزلے کی یادیں تازہ کر دیتا ہے کیوںکہ اول تو اس سے ہمارے پیاروں کی یادیں وابستہ ہیں جو اس دن ہم سے بچھڑ گئے اور شہید ہو گئے اور ہم ان کی یاد میں اس دن کو ان کے لئے اجتماعی قرآن خوانی اور دعا کرتے ہیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں َاور دوسرا اس دن کو علاقہ کے سیاسی مناتے ہیں جو تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں اور پھر سے اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے، فوٹو سیشن اور میڈیا میں کوریج کے لئے اظہار یکجیتی کے نام پر غریب عوام کو جھوٹے سپنے دکھا کر چلے جاتے ہیں اور سال بھر کے لئے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب۔

اکیسیویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں رہتے ہوئے بھی یہ شہر کسی اجڑے گھر کا منظر پیش کرتا ہے بالاکوٹ اور ا کے درجنوں گاؤں آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے یہاں پر ا ب بھی ہزاروں خاندان ٹینٹوں میں، عارضی شیلٹرز میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، نہ تو ان کے لئے رہنے بہتر رہائش کا سامان موجود ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی، زلزلہ متاثرین کے بچے آج بھی ننگی زمین اور کھلے آسمان تلے تعلیم کا چراغ جلائے ہوئے ہیں اگر شہر بالاکوٹ کے مرکزی ہائی سکول کی بات کی جائے تو یہ آج بھی عارضی شیلٹر میں چل رہا ہے حالانکہ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس سکول کا دورہ بھی کیا تھا کیونکہ یہاں پر طلبہ کی اجتماعی قبریں بھی موجود ہیں جس سے اس سکول کو میڈیا میں بھر پور کوریج بھی ملی اور ہر سال 8 اکتوبر کی بڑی تقریب کا انعقاد بھی اسی میں کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ سکول آج تک تعمیر نہ ہو سکا، اس کے علاوہ بالاکوٹ کی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جو زلزلہ میں تباہ ہوئی تھی آج تک تعمیر نہ ہو سکی یہ ہسپتال تیرہ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہیں بن سکا جبکہ المیہ یہ ہے کہ ہسپتال آج بھی چند کمروں پر مشتمل کرائے کے گھر میں چل رہا ہے۔ جس میں بنیادی آلات کے نہ ہونے کی وجہ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر مریضوں کو مانسہرہ یا ایبٹ آباد علاج کے لئے جانا پڑتا ہے، زلزلہ میں متعدد سرکاری عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر ہو گئیں جو آج تک تعمیر نہ کی جا سکیں جن میں پولیس سٹیشن بالاکوٹ، پوسٹ آفس، نادرہ آفس اور عدالتوں کی اہم عمارتیں جو تاحال تعمیر نہ ہو سکیں مزید ان کے علاوہ درجنوں گاؤں آج بھی رابطہ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے دنیا مافیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گئے ہیں اور لوگ میلوںپیدل سفر کر کے شہر کو پہنچتے ہیں۔

ماہرین ارضیات نے بالاکوٹ کو ریدزون قرار دیا تھاجس کی وجہ سے حکومت وقت نے بالاکوٹ کے باسیوں کے لئے ایک نیا شہر تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بالاکوٹ سے 13کلومیٹر دور بکریال کے مقام پرنیو بالاکوٹ سٹی شہر بنانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ شہر تعمیر ہو سکا نہ متاثرین کو ابھی تک ایک سنگل پلاٹ الاٹ کیا گیا ہے حالانکہ اس شہر کی تعمیر کے لئے اربوں کی مالی امداد آئی جس سے ایسے مزید کئی شہر تعمیرکیے جا سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے غریب عوام کی اس امداد میں بھی بے ضابطگیاں کی گئی اور یہ فنڈ کچھ اس وقت کے سیاسی نمائندوںنے ہڑپ کر لیا اور بقایا ہمارے نمائندوں کی نا اہلی کی وجہ یوسف رضا گیلانی لے اڑے۔ بالاکوٹ کی عوم آج بھی اپنے حقوق کے لئے سراپا احتجاج ہے اور صوبائی، وفاقی حکومت اور اس علاقے سے منتخب ہونے والے نمائندوں سے سوال کرتی ہے کہ ان کا حق کب دیا جائے گا؟ ُٰ ان کے بچوں کو اچھی تعلیم کب ملے گی؟ ان کے مریضوں کے زخموں پر مرہم کب رکھا جائے گا؟ ان کو پانی بجلی اور سڑک کب ملے گی؟ ہزاروں دکھی داستانیں لئے ضعیف چہرے آج بھی اس سوال کے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ کب تک ٹین پر پرستی بارش اور پھر اس سے پیدا ہونے والی، سماعتوں کو تکلیف دیتی آواز سنیں گے؟ ان کو وہ شہر کب دکھایا جائے گا جس میں وہ اپنے بچوں کو اچھلتے، کودتے اور کھیلتا دیکھ سکیں گے؟ آخر کب تک۔ ؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

خالد چوہدری کی دیگر تحریریں
خالد چوہدری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں