کشمیر: خزاں کی بہاروں کے رنگ


اس بار کشمیر جنت نظیر کا چکر مختصر ضرور تھا مگر کئی لحاظ سے یادگار اور قابل ذکربھی تھا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سال ہا سال کے سفر مسلسل کے باوجود مسافر کے نزدیک سفر اور زندگی کے حوالے سے کچھ گوشے اور پہلو تشنہ ہی رہتے ہیں۔ پھر کسی دن اچاک کسی آگہی کے لمحے کے دوران رازوں بھرے گوشے انسانی شعور پر منکشف ہوتے جاتے ہیں۔ حیات، ذات اور کائنات کے اسرار کھلتے ہیں اور زندگی نئے رنگوں اور راگوں سے آشنا ہو جاتی ہے۔ کشمیر کا ذکر آتے ہی ذہن میں پھولوں، تتلیوں، رنگوں، رعنائیوں، جگنوؤں، خوشبو، سبزے، سر سبز و شاداب قطعوں، ہرے بھرے درختوں، نوخیز کلیوں، معطر غنچوں، خوش رنگ شگوفوں، پر نور بہاروں، بل کھاتی پگڈنڈیوں، اڑتے بادلوں، چہچہاتے پرندوں، مترنم آبشاروں، شوریدہ جھرنوں، قوس قزح کے رنگوں، بلند و بالا چٹانوں، برف پوش چوٹیوں، شور کرتے دریاؤں و نالوں، نرم خرام ندیوں اور نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں پھوٹتی شفق کا تصور آتا ہے۔ شاعر نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ

شگفتہ شگفتہ جمیل و حسیں
ہمارا کشمیر خلد کی سر زمیں

مگر اس بار ہم بہاروں کے عروج پر نہیں بلکہ خزاں کی زرد روں میں عازم سفر ہوئے تھے۔ پت جھڑ کا موسم کئی بار پہلے بھی دیکھا ضرور تھا مگر اس طرح محسوس کبھی نہیں کیا تھا۔ ہر سو پھیلی ہوئی خزاں کی بہار دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔ بقول شاعر

چھوتی ہےذرا تن کو ہوا چبھتے ہیں رگوں میں کانٹے
سو بارخزاں آئی ہوگی محسوس مگر اس بار ہوئی

درختوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے زرد زرد پتوں کا منظر جہاں بے ثباتیء عالم کا نقش دلوں میں بٹھاتا تھا وہاں اس کی اپنی دل نشینی اور دل آویزی بھی دیدنی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ گلزار زادیاں اپنا زیور اتار رہی ہیں۔ درختوں سے الگ ہو کر پاؤں تلے آکرپیلے، مضمحل اور دریدہ تن پتوں کے چٹخنے کی درد بھری آوازیں محبوب سے دائمی وچھوڑے کی سسکیاں بن کر پورے ماحول پر سوگواری کی فضا طاری کر رہی تھیں۔

شاخوں سے برگ گل نہیں جھڑتے ہیں باغ سے
زیور اتررہا ہے عروس بہار کا

کشمیر پر بہار حسن خزاں کی باہوں میں سمٹ رہا تھا۔ درختوں پر زرد پتوں کی بہار کی چادر سی تنی تھی۔ آزاد پتن کا پل عبور کرتے ہی کشمیر کی ٹھنڈی ہواؤں نے خوش آمدید کہا۔ بلندی کی طرف ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی سڑک انسان کو ہر آن نت نئے منظر سے آشنا کرتی ہے۔ سڑک کے دونوں طرف خزاں کے رنگوں میں رنگتے سر سبز و شاداب قطعے اور بے لباس ہوتے درختوں کی قطاریں اور فلک بوس چوٹیوں کی خوبصورتی انسان کو مبہوت کیے دے ریے تھی۔ دریائے نیلم تھوڑی دیر تک ہمارے قدموں کے ساتھ ساتھ چلتے چلتے اب دور پہاڑوں کے دامن میں ایک پتلی لکیر کی طرح گم ہو رہا تھا۔ مغربی افق پر سورج کی الوداعی کرنیں شام کی دلہن کو مہندی لگا رہی تھیں۔ ہوا اس طرح دبے پاؤں چل رہی تھی جیسے دور کوئی بانسری بجا رہا ہو۔ پہاڑوں کی وادیوں پر بنے کچے پکے مکانوں کے دالانوں سے اٹھتا دھواں عجیب سحر طاری کر رہا تھا۔

بادل، پربت، دریا، چشمے، جنگل، صحرا
کیوں بھاتے ہیں میں ان سب کا کیا لگتا ہوں

ہندوستانی زیر انتظام کشمیر، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر کا لافانی و ملکوتی فطری حسن واقعی بے مثال ہے۔ سر دست ہم آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی بات ہی کریں تو اس میں بھی بے شمار سیاحتی اور تفریحی مقامات قدم قدم پر سیاحوں کے قدم روک دیتے ہیں۔ راولاکوٹ شہر سے ذرا پہلے کھڑک کا خوبصورت و سر سبز و شاداب علاقہ آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار ابراہیم خان صاحب کی جنم بھومی ہے۔ تھوڑا سا آگے جائیں تو شہر کے بائیں طرف شیخ زید ہسپتال کے سامنے کیپٹن حسین خان شہید ڈگری کالج و یونیورسٹی واقع ہے۔

کیپٹن حسین خان 1947 کے جہاد آزادی کشمیر کے نامور ہیرو تھے جنہوں نے تہی دست مگر بہادر و سر فروش کشمیریوں کے جذبہ حریت کے ذریعے آزاد کشمیر کے خطے کو ہندوستان کے تسلط سے نجات دلائی تھی۔ تولی پیر، چھوٹا گلہ جھیل، وادیء پرل، پوچھ میڈیکل کالج، زرعی یونیورسٹی، عید گاہ اور دھرم شالہ کے علاوہ حسین کوٹ بھی فطری حسن سے مالا مال علاقہ ہے، جہاں کیپٹن حسین خان جیسا مرد حر آسودہ خاک ہے۔

اس کے علاوہ راولاکوٹ کے نواح میں بے شمار چھوٹے بڑے گاؤں اور قصبے دیکھنے کے قابل ہیں مگر افسوس کسی حکومت نے بھی آزادکشمیر جیسے جنت نظیر خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ تولی پیر جو ضلع پونچھ ہی کا نہیں بلکہ پورے کشمیر کا خوبصورت ترین اور سحر انگیز فطری حسن سے مزین تفریحی مقام ہے، اس تک رسائی کے لیے جو شکستہ اور ٹوٹا پھوٹا راستہ استعمال کیا جاتا ہے وہ سڑک کے نام پر تہمت ہے۔ شاید اسی شکستہ حال و بد حال راستے کے لیے مصطفے زیدی نے شکوہ کیا تھا

انہیں پتھروں پہ چل کے آ سکو تو آؤ
میرےگھرکےراستےمیں کہیں کہکشاں نہیں ہے

راولاکوٹ اور اس سے ملحقہ خوبصورت علاقوں کا فطری رعنائیوں سے معمور حسن ہزار رنگ تو بہار کے موسم میں پورے جوبن پر ہوتا ہے، مگر خزاں رت میں بھی اس کی دل آویزی کی اپنی بہار ہوتی ہے۔ وسط دسمبر تک پوری وادیء پرل برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہے مگر افسوس کہ برف باری کے دیدہ زیب مناظر دیکھنے کے لیے ادھر جانے والے راستے جگہ جگہ بند ہو جاتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی حکومت گوئیں نالہ سڑک کے خطرناک اور سلائیڈنگ زدہ مقامات کو پختہ اور مضبوط کرنے کی بساط بھر کوشش تو کر رہی ہے مگر اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی آتے ہوئے والدین کی قبروں نے پاؤں کی زنجیر بننے کی کوشش کی مگر کیا کریں گاؤں کی جادوئی فضاؤں سے دوری میری مجبوری ہے کیونکہ شہر میں میری مزدوری ہے۔ سو کشمیر کی ہریالی کوچھوڑ کر پنڈی شہر میں رہنا ضروری ہے۔ سو والدین کے ڈھیروں کو نم آنکھوں سے الوداعی بوسہ دیا، فاتحہ پڑھی اور سوگوار روح، دکھی دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں