کنواں اور لال بجھکڑ!


دنیا کے عظیم کلاسیکی عسکری ماہرین میں شمار ہونے والے سن زو کے بقول مثالی جنگ وہ ہوتی ہے جس میں دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہتھیار نہ اٹھانا پڑے۔ مثالی دشمن وہ ہوتا ہے جو حریف کی کمزوریوں کو ہی اس کے خلاف ہتھیار بنا دے۔ مثالی عسکری حکمتِ عملی یہ ہے کہ دشمن جب کوئی فاش غلطی کر رہا ہو تو اس کی توجہ میں ہرگز ہرگز خلل نہ ڈالو۔ اگر تمہاری کسی حرکت سے دشمن کو اپنی غلطی کا ادراک ہو گیا اور وہ سنبھل گیا تو سمجھ لو تم آدھی جنگ اسی وقت ہار گئے۔

اس اعتبار سے اگر میں کسی دشمن ملک میں بیٹھ کر اس دنیا کو دیکھوں تو مجھے اس ملک سمیت کئی ممالک نظر آتے ہیں جن سے مجھے کوئی فزیکل جنگ لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بھلا ایک ایسا ملک جس کا ہر سماجی طبقہ و ادارہ خود سے ہی مسلسل برسرِ پیکار ہو کوئی پاگل دشمن ہی ہوگا جو ایسی کسی ریاست سے جنگ میں الجھ کر اپنی افرادی قوت اور وسائیل ضایع کرے۔

اگر میں کوئی ذہین بیرونی دشمن ہوں تو مجھے بس اتنا کرنا ہے کہ آرام سے گلوبل تھیٹر کی گیلری میں بیٹھ کر ایسے ممالک کو ایک گریک ٹریجڈی کے کرداروں کے طور پر دیکھوں اور ان کے خود ایجاد کردہ مصائب سے لطف اندوز ہوتا رہوں۔ مجھے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو بس اتنا کہ اگر میری دشمن ریاست کوئی ایک اندرونی آگ بجھانے میں کامیاب ہو جائے تو اسے مصروف رکھنے کے لیے دوسری آگ کو ذرا سی اور ہوا دے دوں تاکہ اندرونی پیکار سے اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ وہ ریاست کبھی مجھے کسی بھی سطح پر چیلنج کرنے کے بارے میں بھی سوچے۔

بطوربیرونی دشمن مجھے تشویش تب ہو گی جب حریف اپنے سماجی محکوموں کو مطمئن کرنے کی راہ پر چل پڑے اور یہ طبقات خود کو اپنی ہی ریاست میں اجنبی نہیں بلکہ برابر کا حصہ دار سمجھنے لگیں۔

بحیثیت بیرونی دشمن مجھے ایسی ریاستوں سے بھلا کیا خطرہ ہو سکتا ہے جہاں کا پورا نظام ہی لڑاؤ اور حکومت کرو کے اصول پر استوار ہو۔ جہاں اقتدار کی لڑائی اس بنیاد پر ہو رہی ہو کہ اس بار مجھے موقع دیجیے میں سامنے والے کے مقابلے میں کم چوری کروں گا، میں اس کی طرح دن دہاڑے ڈاکہ نہیں ڈالوں گا بلکہ رات کو وارادت پر نکلوں گا۔ پچھلی بار تو آپ نے دھوکا کھا لیا مگر اس بار اس پر اعتماد مت کرنا کیونکہ یہ تو مردے کے تن پر کفن تک نہیں چھوڑتا۔ میں کم ازکم یہ نیچ حرکت نہیں کروں گا۔

یہ تو اتنا کمینہ ہے کہ سو میں سے نوے روپے اپنی اور اپنے سے اوپر والوں کی جیب میں ڈالتا ہے اور دس تمہارے لیے چھوڑتا ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ سو میں سے کم ازکم چالیس روپے تم پرلگاؤں گا۔ اگر تم نے باقی ساٹھ بھی مانگے تو اوپر والوں کو کیا منہ دوں گا جنھیں میں نے بڑی مشکل سے منایا ہے کہ میری عزت کی خاطر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اس بار بس اس بار سو میں سے ساٹھ روپے پے گذارہ کر لو اور صرف ایک بار چالیس ان مفلوک الحالوں پر خرچ کرنے دو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ تمہاری رحم دلی، دریا دلی اور قوم دوستی کے پھر سے گن گانے لگیں گے۔ اور جب تم اگلی بار انھیں سو میں سے دس روپے بھی دو گے تو تمہاری پچھلی فیاضی کے سبب تم سے دوبارہ اتنی جلدی بدظن نہ ہوں گے۔

دیکھو مجھ میں اور سامنے والے میں یہ فرق ہے کہ اس نے تمہیں کہا کچھ اور کیا کچھ۔ تھا وہ ظالم اور بنا رہا ہے تمہارے آگے مظلوم۔ مگر میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں قتل ضرور کروں گا مگر بتا کر، سامنے سے آؤں گا اس کی طرح پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپوں گا۔ میں تمہیں کھلے میدان میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا بلکہ تمہارا جسم درخت کی چھاؤں میں رکھوں گا۔ اگر میں اتنا بھی نہ کر سکوں تو پھر مجھ میں اور ان میں کیا فرق رہے گا۔

اگر میں بطور بیرونی دشمن اس ملک کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتا تو میرے لیے اس سے اچھی خبر اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ اپنے پچھلوں کو ایک نمبر کا بدعنوان، نا اہل، بے حس و بکاؤ اور خود کو مسیحا بتاتی رہیں۔ اس سے زیادہ مسلسل توہین ایک عام آدمی کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو جیتا وہ مسیحا جو ہارا وہ نوسر باز۔ اور اگلی بار جب وہی نوسر باز جیتا تو پھر مسیحا اور جو ہارا وہ ایک بار پھر راکھشس۔ جب تو اقتدار میں نہیں ہوگا تو میں تیرا احتساب کروں گا کیونکہ جب میں اقتدار میں نہیں تھا تو تو نے بھی میرا کڑا احتساب کیا تھا۔

اس کا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے حالات سے جوجنے والی ریاست میں رفتہ رفتہ عام آدمی کا نہ تو اپنے فیصلے پر یقین باقی رہتا ہے اور نہ ہی ان پر جو اس کی قسمت کے فیصلے پر مامور ہوں۔ لہذا اصلاحات کے نام پر جو تبدیلی لائی جائے گی، عام آدمی اسے اپنے اندر نسل در نسل زمانہ وار ٹھونسے گئے دائمی شک کے ترازو میں زندگی بھر بدزنی کے باٹوں سے ہی تولتا رہے گا۔ کوئی بھی قوم اگر اس طرح کے پے درپے دھوکا دینے والے تجربات کے سبب اجتماعی مالیخولیا میں مبتلا ہو جائے تو پھر بطور دشمن ایسی قوم کو میں اپنے لیے کوئی چیلنج سمجھنے میں کیوں وقت ضایع کروں۔

بہت سی قومیں اسی دور سے گزری ہیں جب انھیں یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جس ذہنی کنوئیں میں وہ بند ہیں اس سے باہر کیسے نکلیں۔ بہت عرصہ پہلے ایک آرمینائی لوک کہانی پڑھی تھی کہ ایک اندھے گہرے کنوئیں میں بہت سے لال بجھکڑ رہتے تھے۔ یہ کنواں ہی ان کی کائنات تھا۔ مگر نیلا آسمان اور کنوئیں کے اوپر سے اندر جھانکتی سرسبز جھاڑیاں اور کبھی کبھار ان میں لگنے والے رنگ برنگے پھول دیکھ کران لال بجھکڑوں میں بھی کبھی کبھی یہ تمنا جاگ اٹھتی کہ دیکھیں تو سہی یہ آسمان کنوئیں کے برابر ہی ہے یا اس سے بھی بڑا ہے اور یہ جھاڑیاں کیا بلا ہیں اور یہ پھول اتنے بھلے کیوں لگتے ہیں؟

مگر جب بھی کوئی مہم جو لال بجھکڑ کنوئیں سے باہر نکلنے کے لیے اوپر جانے کی اپنی سی کوشش کرتا تو دوسرے لال بجھکڑ خوفزدہ ہو کر یا مارے حسد اس کی ٹانگ کھینچ لیتے۔ صدیاں یونہی گزرتی چلی گئیں۔ پھر ایک دن کسی لال بجھکڑ نے انھیں کہا کہ اگر تم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے بس ایک بار یہ تجربہ بھی کر دیکھو کہ ایک کے کندھے پر ایک کھڑے ہوتے چلے جاؤ اور جو پہلا آدمی اس ترکیب سے کنوئیں سے باہر نکلے وہ ہاتھ بڑھا کر دوسرے کو کھینچ لے اور اگر وہ دونوں اس نتیجے پر پہنچیں کہ کنوئیں کے باہر کی دنیا بھی خوبصورت ہے تو پھر دونوں کنوئیں کے باہر اگی جھاڑیوں کی لچکیلی ٹہنیوں سے ایک رسہ بٹیں اور یہ رسہ کنوئیں میں لٹکا دیں تو سب کے سب باہر نکل آئیں گے۔ بصورتِ دیگر ہم کبھی بھی نہ دیکھ پائیں گے کہ کنوئیں سے باہر کیا کیا ہے؟ آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو جو لال بجھکڑ کنوئیں سے آزاد ہوگئے وہ کیا کر رہے ہیں اور جو کنوئیں میں آج تک پڑے ہیں ان کے بارے میں کوئی کیوں سوچے۔ ان سے دشمنی بھی کوئی کیوں کرے؟
بشکریہ ایکسپریس۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں