امریکی امداد بند ہونے کے بعد کچھ اسٹریٹیجک پراجیکٹس کی فنڈنگ میں رکاوٹ


قیام پاکستان کے کچھ ہی سالوں بعد سے شروع ہونے والی امریکی امداد بالآخر بند ہو چکی اور پاکستان اہستہ اہستہ امریکی امداد کے بغیر جینا سیکھ رہا ہے۔ اصلی اور دیرپا ترقی کے لئے ایسا ہونا ضروری بھی تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ملنے والی امریکی مدد کے پیچھے ”ڈو مور“ کی ایک لسٹ بھی ہوتی جسے اگر پورا کریں تو امداد ملتی رہتی ہے اور اگر اسے بوجوہ پورا نہ کر سکیں تو امداد بند ہونے اور نہ ملنے کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے

سب سے پہلے امریکہ نے پاکستان کی امداد کے لئے معاہدہ سنہ 1954ء میں کیا تھا۔ اس وقت بزور طاقت دنیا کی تاریخ میں پہلے اول حاضر سروس فوجی وزیرِ دفاع کی ذمہ داری جنرل ایوب خاں نے سنبھالی ہوئی تھی اور ملک کے اصلی فیصلہ ساز بھی وہی تھے۔ امریکی امداد کے اس معاہدہ کی بنیاد جون 1953ء میں جنرل ایوب خان نے امریکہ کے دورہ کے موقع پر کمیونزم کے خلاف اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے رکھی اور کہا کہ ”اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج ہوسکتی ہے“۔ امریکی چونکہ جنرل ایوب خاں کو بہت پسند کرتے تھے اسی لئے امریکی امداد کے عوض 1954ء میں دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ دفاعی سمجھوتہ پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ایماء پر پاکستان ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) معاہدہ میں اور پھر 1955ء میں بغداد پیکٹ میں شامل ہوا جس نے بعد میں سینٹو کہا گیا۔ اس فرماں برداری کے عوض امریکہ نے پاکستان کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی

جنرل ایوب خان نے صدر کینیڈی کے دور میں بھی بطور اول فوجی صدر۔ پاکستان سنہ جولائی 1961ء میں امریکہ کا دورہ کیا۔ اس دورہ کے نتیجہ میں اگلے مہینہ یعنی اگست میں صدر کنیڈی نے پاکستان کو 12 عدد ایف 104 لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے۔ یہ امداد بھی سیٹو اور سینٹو معاہدہ میں شرکت کے عوض تھی

امریکی صدر لنڈن جانسن نے پاکستان اور بھارت میں کشمیر پر سنہ 1965ء کی جنگ ہوئی کی وجہ سے پاکستان کی امداد بند کردی۔ اس کے بعد رچرڈ نکسن صدر بنے تو انہوں نے صدر جنرل یحییٰ خان کی وجہ سے امریکہ اور چین کے مابین سفارتی تعلقات قائم کروانے کے عوض پاکستان کی امداد بحال کر دی گئی۔

اسی دوران 1971ء کی جنگ میں صدر نکسن اور وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے تعلقات پاکستان سے ٹھیک تھے مگر اس جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے ملکی قانون کے مطابق پاکستان کی فوجی امداد بند بھی کردی البتہ اردن سے پاکستان کو کچھ لڑاکا طیارے منتقل کروائے اور اپنے اتحادیوں ایران، سعودی عرب اور ترکی سے پاکستان کیمدد کے لئے کہا۔ مگر سنہ 1971ء میں امریکہ نے جنگ کی وجہ سے بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کی امداد بند کی۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم بھٹو کے ابتدائی دور میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے البتہ 1975ء میں امریکہ نے پاکستان کی امداد جزوی طور پر بحال کردی۔
پھر 1979ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں یورینیم افزودہ کرنے کے لئے لیبارٹری بنانے پر امداد دوبارہ بند کردی۔

سنہ 1980ء میں پاکستان کی امداد اس وقت بحال ہوئی جب سوویت یونین نے افعانستان میں فوج اتار دی۔ اس دوران امریکہ نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی معاشی اور فوجی امداد کا 5 سالی پیکج دیا جبکہ افغان جنگجوؤں کو سی آئی اور عرب ملکوں سے ملنے والی براہ راست اور بالواسطہ امداد کے بارے تخمینہ کئی سو ارب ڈالر کا لگایا جاتا ہے جس سے پاکستان کا نہیں البتہ افغان وار لارڈز اور ان کے پالن ہاروں کا بہت فائدہ ہوا۔ اسی دوران سنہ 1986ء میں بھی امریکی نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر کا پیکج دیا۔

پھر 1988ء میں جمہوری حکومت آنے کی وجہ سے اور افغانستان سے سوویت یونین کے نکل جانے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر دوری آگئی۔ سنہ 1990ء میں امریکہ کے صدر جارج بش سینئر نے پریسلر ترمیم کے قانون کے تحت پاکستان کے ایٹی پروگرام کے باعث امداد بند کردی۔ تاہم 2 سال بعد غذائی اور معاشی امداد پر سے پابندی اٹھالی جبکہ طے شدہ معاہدہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایف 16 طیاروں کی سپلائی بھی بند کر دی

پھر مئی 1998ء میں پاکستان اور بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو امریکہ نے دونوں ملکوں کی معاشی امداد بھی بند کردی اور صرف انسانی ہمدردی کے لئے دی جانے والی معمولی معاشی اور غذائی امداد جاری رکھی۔

جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران صدر کلنٹن نے انڈیا جاتے ہوئے 5 گھنٹہ اسلام آباد قیام کیا اور جنرل مشرف سے ملاقات میں درخواست کی کہ پاکستان اسامہ بن لادن کو پکڑ کر امریکہ کو دے دیں تو وہ پاکستان کو زبردست معاشی مدد کریں گے۔ پاکستان نے ایسا نہیں کیا لہذا وہ امداد بھی نہیں مل سکی۔ اس دوران سویلین حکومتوں کے دوران یعنی سنہ 1991ء سے سنہ 2000ء تک وقتاً فوقتاً جو امریکی امداد پاکستان کو ملی اس کی مجموعی مالیت صرف 50 کروڑ ڈالر تھی۔

ستمبر 2001ء میں امریکہ پر مبینہ القاعدہ کے حملہ کے بعد پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا اتحادی بن گیا۔ اس بار اس کا کردار کمیونزم کے خلاف امریکی کے اتحادی کا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اس کے اتحادی کا تھا اور پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیا گیا اور فوجی اور معاشی امداد بحال کردی گئی۔ اور امریکہ نے سنہ 2002ء سے سنہ 2010ء جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 28 ارب 42 کروڑ ڈالر دیے۔

امریکی تھنک ٹینک سینٹرل فار گلوبل ڈوپلنمنٹ اور امریکی کانگریس کی رپورٹ کی جانب سے فراہم کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ نے سنہ 2002ء سے سنہ 2015ء تک کیری لوگر کے تحت ملنے والی امداد سمیت مجموعی طور پر 39 ارب 93 کروڑ ڈالر دیے جبکہ سنہ 2016ء۔ 2017ء سے ہم ٹرمپو بابا کی طرف سے ڈومور مطالبہ کا شکار ہیں جبکہ پاکستان ”نومور“ کا نعرہ لگا رہا ہے۔

اگر پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد کا بغور جائزہ لیں تو یہ واضح ہے کہ یہ امداد امریکی مقاصد پورا کرنے کے لئے ایک ترغیب تھی اور ان مقاصد کی تکمیل سویلین حکومتوں کی بجائے فوجی حکومتوں کے ادوار میں بخوبی ہوتی رہی ہے۔

اس ملتے رہنے والی امداد کی وجہ سے ہم نے اپنے بہت سے اہم ترین منصوبوں کی تکمیل اور انہیں چلانے کے لئے بھی امریکی ڈالرز کے منتظر رہتے ہیں۔ اپنے وسائل سے ہم 71 سال پورے ہونے کے بعد بھی اسٹریٹیجک منصوبوں کی فنڈنگ پوری کرنے کے قابل نہیں بن سکے جو بطور قوم و ملک بہت شرمناک ہے۔

پاکستان کی اقتصادی صورتحال سنہ 2016ء سے دگرگوں صورتحال کا شکار ہے جس کی وجہ سے اسٹریٹیجک نوعیت کے بعض منصوبوں کی فنڈنگ بھی متاثر ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے واقفان کہتے ہیں کہ چونکہ 2013ء سے 2017ء کے دوران ملنے والی امریکی امداد کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ان ڈالرز کو نیوکلئیر پراجیکٹس اور افواج پاکستان کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا لہذا پاکستان اپنے وسائل سے ان پراجیکٹس کی فنڈنگ کرتا رہا تھا۔ مگر 2016ء سے امریکی امداد مکمل بند ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اپنے وسائل کے ذریعہ ان بیش قیمت اور مہنگے پراجیکٹس پر فنڈنگ کچھ لیول تک محدود کرنی پڑی ہے۔

دوسری طرف اسٹریٹیجک ادارے سابقہ حکومت اور خصوصاً اسحق ڈار سے بہت نالاں ہیں۔ باخبر ذرائع یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ اسحق ڈار جان بوجھ کر اداروں کی فائلیں مہینوں روکے رکھتے تھے اور کسی فون کال کا جواب دینے سے بھی کتراتے تھے۔ ان ذرائع کے مطابق یہ صورتحال 2016ء کے بعد پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کا أغاز 2013ء میں ن لیگ کی حکومت کے آغاز سے ہی ہو چکا تھا۔ میڈیا میں بھی ”ن“ لیگی حکومت کے آغاز میں اسٹریٹیجک اداروں کے بڑوں کی وزیر خزانہ اسحق ڈار سے ملاقاتوں کی خبریں چلتی رہی ہیں جن میں بظاہر اسحق ڈار کی طرف سے اسٹریٹیجک اداروں کی فنڈنگ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ پیدا کرنے کا اعادہ بھی کیا گیا تھا۔

اس الزام کا جواب دیتے ہوئے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ”میں نے انہیں کہا کہ 8 فیصد گروتھ تک ملک کو لے جانے دیں۔ ترقی ہونے دو۔ کئی کئی سو ارب کہاں سے دوں، ملک کو ترقی کرنے دیں۔ یہ میرا جرم تھا، میں نے اپنے ملک کے مفاد میں اپنا منہ بند کیا ہوا ہے میرے صبر کا امتحان مت لیں، میں نے اس ملک کی خدمت کی ہے“۔

وجہ کوئی بھی ہو مگر سچ یہی ہے کہ اسٹریٹیجک منصوبوں کی فنڈنگ پر رکاوٹیں موجود ہیں۔ یہ منصوبے ملک کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو چلتے رہنا چاہئیے۔ البتہ یہ طے ہے کہ ان منصوبوں کو چلانے کے لئے ہمیں اہنے وسائل پر بھروسہ کرنا ہوگا اور دوسروں کی دست نگری بھولنی ہوگی۔ امریکی امداد بند ہونے سے ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا سبق ملے گا اور یہ ایسا سبق ہوگا جسے ہمیں کبھی بھی نہیں بھولنا ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں