امیر علی ٹھگ، تاریخ اور افسانہ کے سنگم پر


رسوائی کا افسانہ عام طور پر عمر کی مدّت سے لمبا ہوتا ہے۔ زندگی کی کتاب سے ورق خشک پتّوں کی طرح ایک ایک کرکے جھڑتے جاتے ہیں، لیکن بعض ناموں کے ساتھ رسوائی کی ایک ایسی داستان وابستہ ہو جاتی ہے جو ان کی موت کے وقفے کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ امیر علی ٹھگ بھی ایسے ہی رسوائے زمانہ ناموں میں سے ایک ہے جن کی بدنامی ان کے ساتھ انجام کو پہنچنے کے بجائے، وقت کے فاصلے پار کرکے آج بھی ہمارے سامنے ایسی داستان کے طور پر موجود ہےکہ جب یاد آتی ہے، تجسّس اور حیرت کو برانگیخت کرتی ہے۔ وقت اور مقام کی حد بندیاں ہی نہیں، امیر علی ٹھگ کی رسوائی واقعیت اور افسانویت کے تلوار سے باریک خط امتیاز کو بھی توڑ کر روایت، داستان اور اساطیر کی منزلوں میں سفر کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

لکھنے والے نے اسے جرائم اور بدنامی کے مرّقعے کے طور پر پیش کیا لیکن آج ہمیں اس میں جابجا ہیرو ازم نظر آتا ہے اور اس کے سیدھے سادے بیان ہی پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور قوت تخیل کو حیرت کا سامان مہیّا ہو جاتا ہے۔ آپ اسے تاریخ سمجھ کر پڑھیں یا افسانہ، امیر علی ٹھگ ایسا کردار بن گیا ہے جو روایات اور لیجنڈز (Legends) کا حصّہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کی افسانوی اہمیت کے سامنے اس کی اصلی زندگی کی واقعاتی اہمیت، جو اگر کبھی موجود بھی تھی، تو دب دبا کر ایک غیراہم تفصیل بن گئی ہے۔ دوسری لیجنڈز کی طرح، اس کا بھی قد کاٹھ اتنا بڑا ہے کہ اس نے اپنے خالق اور بیان کار کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ امیر علی ٹھگ کے نام سے واقف بہت سے لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اس کی زندگی کی شیرازہ بندی کرنل میڈوز ٹیلر نام کے کسی پرانے انگریز کی مرہون منّت ہے۔ یہ سطور انہی کرنل میڈوز ٹیلر کے تعارف کے طور پر لکھی جارہی ہیں۔ جنھوں نے ٹھگوں کے اس ٹھگ کی کہانی بیان کرکے اسے ہمیشہ کے لیے ٹھگ لیا۔ لیکن آخر کار فائدہ ٹھگ ہی کا ہوا، ساہوکار کا نہیں۔

ٹھگوں کو کیفرکردار تک پہنچانے والے بعض اوقات خود زمانے کے ہاتھوں لٹ کر خاک ہو جاتے ہیں۔ کرنل میڈوز ٹیلر کا شمار انگریزی ادب کے کتب خانے میں ایک ایسی شکستہ الماری کے اجزاء میں ہوتا ہے جس پر گرد کی تہہ جم چکی ہے اور جن کو تقریباً بھلایا جاچکا ہے۔ انگریزی ادب کے اس سرمائے کو جو کبھی سلطنت برطانیہ کے افسانوی وقائع کے طورپر پُروقار اور شاندار معلوم ہوتا ہوگا اب دیمک اور محقّق ہی توّجہ کے قابل سمجھتے ہیں۔ کتابوں کے اسی گرد آلود اور خاک بسر سرمائے کو اینگلوانڈین ادب کہا جاتا ہے اور یہ کتاب اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔

میڈوز ٹیلر کی آپ بیتی کے دیباچہ نگار نے اس امر پر بہت زور دیا ہے کہ وہ نہ تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے سول سروس سے وابستہ تھا نہ برطانوی فوج کا عہدہ دار۔ وہ نظام حیدرآباد کا ملازم رہا۔ اسے کبھی کلکتہ یا بنگال جانے کا موقع نہیں ملا اور انگریزی حکومت سے اس کی واقفیت نظام کے وسیلے سے رہی۔ اس نے کئی برس شوراپور میں گزارے اور انگریزی حکومت نے نظام سے معاہدہ کر کے ان کی ریاست کے بعض علاقوں کا انتظام سنبھالا تو مغربی برار کا علاقہ میڈوز ٹیلر کے زیرنگرانی آیا۔ اڑتیس سال کی ملازمت کے بعد خطاب و اعزاز کے ساتھ ریٹائرمنٹ حاصل کی اور سرکار انگلیشیہ کا پنشن دار مقرر ہوا۔

ملازمت کے دوران 30۔1829ء کے لگ بھگ میڈوز ٹیلر کا ٹھگوں سے براہ راست واسطہ پڑا، جب جبل پور اور بعض دوسرے علاقوں میں کپتان سلیمن نے ٹھگوں کی سرکوبی کا بیڑا اٹھایا۔ وسطی ہندوستان کے علاقے میں ٹھگ پکڑے گئے تو میڈوز ٹیلر نے شہادت جمع کرنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کردیں اور قتل و غارت گری کی داستانیں سُن سن کر دستاویز تیار کرتا رہا۔ اسے اس بات کا صدمہ تھا کہ اس کے جانے پہچانے علاقوں میں بہت سے ایسے افراد ٹھگ اور ٹھگوں سے متعلق نکلے جن کے بارے میں اسے پہلے سے شک تھا لیکن وہ ان کے جرائم کا خاتمہ کرکے شہرت نہیں حاصل کرسکا۔

بہرحال شہرت اپنے ذرائع خود تلاش کرلیتی ہے۔ میڈوز ٹیلر نے ٹھگوں کے بارے میں ایک مضمون لکھ کر اپنے والد کو انگلستان بھیجا جو کسی طرح سے سرایڈورڈ بلور (Bulwer) تک پہنچ گیا جنھوں نے اسے کہلوایا کہ اگر ان کو ہندوستان اور اس کے لوگوں کے بارے میں مقامی نوعیت کی معلومات ہوتیں تو وہ اس موضوع پر ایک رومان لکھتے، وہ خود ایسا کیوں نہیں کرلیتا؟ ٹیلر نے اپنی آپ بیتی میں اس کے بعد ایک مختصر جملہ لکھا ہے کہ ’’میں نے اس مشورے پر غور کیا اور نتیجے میں میرا ناول، ’’ایک ٹھگ کے اعترافات‘‘ “(Confessions of a Thug) یعنی مشورہ ملتے ہی قلم سنبھالا اور لکھتے چلے گئے۔

لیکن درحقیقت یہ مرحلہ اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔ اس نے ناول کا آغاز 35۔1834ء میں کیا۔ آپ بیتی میں اس نے لکھا ہے کہ اس سے پہلے اسے ایسے کام کا تجربہ نہ تھا اور یہ کام اسے شدّت کے ساتھ دلکش محسوس ہوا۔ اس کے جن ساتھی افسروں نے مسودے کے ابتدائی صفحات پڑھے، وہ برابر اس سے مزید ابواب کا مطالبہ کرتے رہے اور اس کی کم نویسی پر نفرین کرتے رہے۔ 1838ء میں وہ انگلستان گیا اور وہاں اپنا مسودہ ناشر کے حوالے کیا۔ اس نے آپ بیتی میں اس مسودے کے حوالے سے دو باتیں درج کی ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ دلچسپ ہیں۔

’’میرا مسودہ بہت زیادہ ضخیم ثابت ہوا۔ اس میں بہت کچھ کاٹنا چھاٹنا پڑا، بہت کم ایسا تھا جو اشاعت کے لیے زیادہ ہولناک قرار دیا گیا۔۔۔‘‘ یعنی ناشر کے سنسر نے تراش خراش کے بعد اسے اپنے پڑھنے والوں کے لیے قابل قبول بنایا۔ اور جلد ہی اس کی قبولیت کا اشارہ بھی مل گیا۔ وہ بھی ملکہ وکٹوریہ سے۔ ناشر نے اسے خط لکھا کہ ’’ملکہ معظمہ نے ہدایت کی ہے کہ پروف کی شیٹس جیسے ہی اصلاح کے بعد تیار ہو جائیں، پہلے ان کو بھجوائی جائیں اور جب ان کو کتاب سے دلچسپی ہوگئی تو وہ تازہ اقساط کی جس قدر جلد ہوسکے فراہمی کے لیے بے چین رہتی تھیں۔‘‘

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں