گجرات فسادات،’شہر جلتا رہا اور فوج ایئر پورٹ پر گاڑیوں کا انتظار کرتی رہی‘

سہیل حلیم - بی بی سی اردو، دہلی


گجرات

AFP
گجرات میں 28 فروری سال 2002 کو مذہبی فسادات بھڑکے تھےاور اس وقت نریندر مودی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں سال 2002 کے مذہبی فسادات کو روکنے کی ذمہ داری سنبھالنے والے فوج کے جنرل نے کہا ہے کہ انھیں اگر بروقت گاڑیاں اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہوتیں تو سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے لیکن عام طور پر مانا جاتا ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

مرنے والوں میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

ریاستی حکومت نے فسادات پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کی تھی اور اور آرمی چیف نے یہ ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے سپرد کی تھی جن کی ’سٹرائک کور ڈیویژن‘ اس وقت راجستھان میں تعینات تھی۔

جنرل شاہ کا کہنا ہے کہ حکم ملتے ہی فوج کے دستے فضائیہ کے طیاروں میں سوار ہو کر احمد آباد پہنچ گئے تھے لیکن وہ لوگ ایک دن سے زیادہ ہوائی اڈے پر ہی بیٹھے رہے کیونکہ ریاستی حکومت نے ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کیا تھا۔

جنرل شاہ نے یہ انکشاف اپنی کتاب ’دی سرکاری مسلمان‘ میں کیا ہے۔

گجرات میں 28 فروری سال 2002 کو مذہبی فسادات بھڑکے تھےاور اس وقت نریندر مودی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔

نریندر مودی کو تب سے ہی ان الزامات کا سامنا رہا ہے کہ انھوں نے فسادات کو روکنے کے لیے یا تو دانستہ طور پر خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی یا پھر کارروائی کرنے میں ناکام رہے تھے۔ فسادات سے پہلے ایک ٹرین میں آگ لگائی گئی تھی جس میں 58 ہندو کارسیوک ہلاک ہو گئے تھے۔

ان لوگوں کی لاشیں جلوسوں کی شکل میں ان کے گھروں کو لے جائی گئی تھیں اور جنرل شاہ کے مطابق اس سے اکثریتی فرقے کے جذبات بھڑکے تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مسلمانوں کے لیے احمد آباد میں گھر خریدنا مشکل کیوں؟

’یا اللہ گجرات جتا دے‘

اگر اڈوانی نے بات مان لی ہوتی تو کیا ہوتا؟

گجرات

AFP
جنرل شاہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی تھی جنھوں نے جگہ جگہ اقلیتوں کے علاقوں کو گھیر رکھا تھا

جنرل شاہ کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر ٹرانسپورٹ کا انتظام نہ کیا جانا ’انتظامی غلطی‘ تھی اور اگر فوج کو احمد آباد پہنچتے ہی گاڑیاں مل گئی ہوتیں تو فسادات کو اور جلدی روکا جا سکتا تھا۔

ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چونکہ تین دن میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آسانی سے تین سو سے زیادہ جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

لیکن جنرل شاہ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ ان کے خیال میں ٹرانسپورٹ کا انتظام دانستہ طور پر نہیں کیا گیا تھا یا تاخیر فسادات کی وجہ سے ہوئی تھی۔

’جب ہم احمد آباد شہر کے اوپر پرواز کر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ پورے شہر میں جگہ جگہ آگ لگی ہوئی ہے۔۔۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ جب ہم پہنچیں گےتو ہمیں گاڑیاں، مجسٹریٹ، پولیس گائیڈ اور سیل فون ملیں گے۔۔۔لیکن وہاں ہمارے ایک برگیڈیئر کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔‘

گودھرا ٹرین

Getty Images
گودھرا سٹیشن کے پاس ٹرین میں آگ لگائے جانے کے واقعے میں 59 لوگوں کی موت ہو گئی تھی

جنرل شاہ کا کہنا ہے کہ وہ سیدھے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ گئے جہاں اس وقت کے وزیردفاع جارج فرنانڈیز بھی موجود تھے۔

انھوں نے دونوں کو بتایا کہ انھیں کن چیزوں کی ضرورت ہو گی اور واپس ہوائی اڈے آ گئے لیکن پوری رات اور اگلا پورا دن انتظار میں گزر گیا اور آخرکار دو مارچ کی صبح تقریباً دس بجے انھیں گاڑیاں اور گائیڈ فراہم کیے گئے۔

’اس کے بعد ہم نے اڑتالیس گھنٹوں میں صورتحال پر قابو پا لیا۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

کیا گجرات کے مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

ایسی بھی کیا جلدی؟

گجرات فسادات: بی جے پی کی سابق وزیر کی سزا ختم

جنرل شاہ کا دعویٰ ہے کہ مقامی پولیس حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی تھی اور حملہ آوروں نے جگہ جگہ اقلیتوں کے علاقوں کو گھیر رکھا تھا۔’اور پولیس یا تو حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی تھی یا خاموش کھڑی تھی۔‘

گجرات کے فسادات کی تفتیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کی تھی لیکن 16 برس گزر جانے کے بعد بھی زیادہ تر لوگوں کو انصاف نہیں مل پایا ہے۔

شہری اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا الزام ہےکہ فسادات کے بعد مسلمانوں کے مقدمے درج ہی نہیں گئے تھے اور بعد میں جب درج بھی کیے گئے تو ان کی موثر انداز میں تفتیش نہیں کی گئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6085 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp