رات کو میں جنسی زیادتی سے بچ گئی لیکن اگلی صبح مجھے اس کی گود میں بیٹھنا تھا: اداکارہ سندھیا


ممبئی۔ جنسی ہراسانی کے خلاف شروع ہونے والی ” می ٹو“ مہم نے ہالی ووڈ میں کئی پردہ نشینوں کے گھناؤنے روپ بے نقاب کرنے کے بعد بالی ووڈ کا رخ کرلیا ہے اور اب تک اس مہم کے تحت دو اداکاروں پر ہراسانی اور ریپ کے الزامات لگ چکے ہیں۔ سب سے پہلے نانا پاٹیکر پر اداکارہ تنوشری دتا نے جنسی ہراسگی کا الزام لگایا جس کے بعد رائٹر وِنتا نندا نے بالی ووڈ کے سب سے سنسکاری اداکار اور پسندیدہ بابوجی الوک ناتھ پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا، اب اداکارہ سندھیا مریدل نے بھی الوک ناتھ پر جنسی زیادتی کی کوششوں کا الزام عائدکردیا ہے۔

اداکارہ سندھیا نے فیس بک پر ایک طویل پوسٹ میں خود کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں وہ ایک ٹی وی شو میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں جس میں الوک ناتھ ان کے بابو جی اور آنجہانی ریما لگو ان کی ماں کا کردار ادا کر رہی تھیں۔ ’ایک دن شوٹنگ جلدی ختم ہوگئی تو ہماری پوری ٹیم ڈنر کے لئے چلی گئی جہاں الوک ناتھ نے بہت زیادہ شراب پی لی اور مجھ پر دست درازی کی کوشش کی، میری ٹیم نے صورتحال بھانپتے ہوئے مجھے فوری طور پر میرے کمرے میں پہنچایا ‘۔

سندھیا نے بتایا کہ جب وہ کمرے میں موجود تھیں تو الوک ناتھ وہاں بھی آن دھمکے اور کئی بار ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی لیکن وہ بڑی مشکل سے بھاگ کر ہوٹل کی لابی میں پہنچ گئیں۔ ٹیم کے ارکان نے بڑی مشکل سے الوک ناتھ کو کمرے سے نکالا کیونکہ وہ وہاں سے جانے کے لئے رضا مند نہیں تھے اور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ میں ان کی ملکیت ہوں۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس سے اگلے دن صبح ڈرامہ کی شوٹنگ کے دوران میرا اور میرے بابو جی (الوک ناتھ) کا ایک سین ہونا تھا جس کے دوران میں نے ان کی گود میں بیٹھ کر رونا تھا۔

اداکارہ نے مزید لکھاکہ الوک ناتھ نے مسلسل کئی روز تک ان پر جنسی حملے کیے لیکن انہیں کامیابی نہ ہوسکی لیکن اس سب کی وجہ سے وہ خود ڈپریشن میں چلی گئیں اور بیمار ہوگئیں، جس کے بعد الوک ناتھ میرے پاس آئے، اپنے رویے پر معافی مانگی اورکہا کہ وہ شراب کے عادی ہیں اور اس بری عادت کی وجہ سے ان کی پوری زندگی برباد ہوچکی ہے، وہ اب ماہر نفسیات سے رابطہ کرکے اپنی اس عادت سے جان چھڑائیں گے، اس کے بعد مزید کچھ روز شوٹنگ ہوئی جو میں نے بہت مشکل سے پوری کی لیکن جب ہم ممبئی پہنچے تو الوک ناتھ نے میری برائیاں کیں جس کی وجہ سے مجھے کام ملنا بند ہوگیا۔

سندھیا نے کہا کہ وہ اتنے سال تک اس لیے بات نہیں کرسکیں کیونکہ وہ انڈسٹری میں نووارد تھیں جبکہ الوک ناتھ مشہور اداکار تھے، جب انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی تو ان کے پراجیکٹ بند کردیے گئے جبکہ ان دنوں سوشل میڈیا بھی نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ہمارے موقف کو دکھایا تک نہیں جاتا تھا لیکن اب ونتانندا نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے بعد میرے اندر اس بارے میں بات کرنے کی ہمت پیدا ہوئی ہے۔

سندھیا نے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پیغام دیا کہ اگرچہ بہت تاخیر ہوچکی ہے لیکن تنوشری دتا نے جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بعد ضروری ہے کہ خواتین آگے آئیں اور الوک ناتھ جیسے کرداروں کو بے نقاب کریں۔
بشکریہ ڈیلی پاکستان۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں