ملتان کے ایک ٹیوشن پڑھانے والے طوائف مرد کی کہانی


بی بی سی اردو ہیش ٹیگ ہِز چوائس سیریز کے تحت کئی ایسے مردوں کی کہانیاں منظر عام پر لا رہا ہے جنہوں نے اپنے لیے وہ راہ منتخب کی جو عام طور پر مردوں کے لیے مناسب نہیں سمجھی جاتی۔ اس سیریز کے تحت اب تک چار مردوں کی کہانیاں شائع ہو چکی ہیں۔

میں نے اس سیریز کی ایک کہانی ایک آئی ٹی پروفیشنل کے جسم فروش بننے کی داستان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی تو ایک فالوور نے جوابی ٹویٹ میں اپنے ایک دوست کا ذکر کیا جو طالب علمی کے زمانے میں اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ ایسا ہی کام کرتا تھا۔

شیراز کی یہ کہانی میرے ٹویٹر فالوور کی زبانی ہی یہاں بیان کی جا رہی ہے۔

یہ بات سنہ 2002 کی ہے۔ میں ایف ایس سی کے ٹیسٹ پیپرز دینے کی غرض سے ملتان میں رہتا تھا۔ یہاں ہم تقریباً بیس لڑکوں نے چھ کمروں کا ایک گھر کرائے پر لیا ہوا تھا۔ ہم سب مل کر گھر کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرتے تھے۔ زیادہ تر لڑکے متمول گھرانوں کے تھے مگر اپنے اضافی اخراجات جن میں سر فہرست انٹرنیٹ کا خرچہ تھا، کو پورا کرنے کے لیے کچھ لڑکے ٹیوشن بھی پڑھایا کرتے تھے۔

شیراز بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ گھروں میں ٹیوشن پڑھانے جایا کرتا تھا۔ وہ بی اے کا طالب علم تھا۔ اس کا تعلق وسطی پنجاب سے تھا۔ ٹیوشن سے اسے ماہانہ دو ہزار کی آمدن ہوتی تھی جس سے وہ بمشکل اپنے اخراجات پورے کیا کرتا تھا۔

کچھ ماہ بعد اسے ایک نئی ٹیوشن ملی۔ یہاں اس کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔ ان خاتون کا تعلق سرائیکی بیلٹ سے تھا۔ ان کے شوہر ایک سرکاری بینک میں ملازم تھے۔ دونوں کے درمیان عمر کا فرق تقریباً دس برس تھا۔ یہ خاتون اس شخص کی تیسری بیوی تھیں۔ پہلی دو کو وہ طلاق دے چکا تھا۔ ان خاتون سے اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اپنی مامتا کی تسکین کے لیے خاتون نے اپنی بہن کا بچہ گود لیا ہوا تھا جسے پڑھانے کے لیے شیراز کو رکھا گیا تھا۔

خاتون نے گھریلو کام کاج میں مدد کے لیے ایک پندرہ سولہ سال کی ملازمہ بھی رکھی ہوئی تھی۔ ایک دن خاتون نے شیراز سے کہا کہ وہ اس ملازمہ کو بھی پڑھا دیا کرے۔ شیراز نے ہامی بھر لی۔ اسی گفتگو کے دوران خاتون نے کچھ ایسی معنی خیز گفتگو بھی کی جس میں دعوت تھی۔ شیراز سمجھ کر بھی نا سمجھ بنا رہا۔ ہمیں اس نے وہ گفتگو سنائی تو ہم بہت حیران ہوئے۔ ہمارے لیے ناقابلِ یقین تھا کہ کوئی خاتون ایسے بھی بات کر سکتی ہے۔ تمام لڑکوں نے اس گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ خاتون شیراز میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ سب کی متفقہ رائے یہی تھی کہ اگر وہ خاتون دوبارہ اس سے کوئی ایسی بات کرے تو وہ بھی شرم کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ الٹا اس کو بڑھاوا دے۔

ہم سب جس عمر میں تھے، اس عمر میں ایسی سوچ رکھنا کوئی عجیب بات نہیں۔ ہماری اکثریت کنواری تھی اور ایسی عمر میں تھی جب فطری خواہش، ایک خواہش سے زیادہ تجسس ہوا کرتی ہے۔ شیراز نے ہمارے کہے پر پورا عمل کیا اور ایک ہفتے کے بعد ہمیں بتایا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ ہم بستری کر چکا ہے۔

یہ ہم سب کے لیے انتہائی بڑی خبر تھی۔ کئی لڑکوں نے اسے شیراز کی شیخی قرار دیا اور کئیوں نے جھوٹ کا پلندہ کہا۔ شیراز نے کچھ ہی دنوں میں اس ہم بستری کے ثبوت بھی لا دیے جن میں اس خاتون کے زیرِ جامہ اور فون کال پر ریکارڈ شدہ گفتگو شامل تھی۔ اس کے بعد کسی کو شیراز پر شک نہ رہا۔

شیراز کو ایسے لگتا تھا جیسے اس نے کوئی میدان فتح کر لیا ہے۔ ہم سب اسے رشک بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ اس کے پاس ایک مستقل سیکس پارٹنر موجود تھی۔ اس وقت ہم میں سے کوئی لڑکا ایسا نہیں تھا جس نے یہ خواہش نہ کی ہو کہ کاش شیراز کی جگہ وہ ہوتا۔ کچھ لڑکوں نے تو شیراز سے یہ تک کہا کہ وہ کسی طرح اس خاتون کو ان سے بھی بات کرنے اور ملاقات کرنے پر راضی کرے۔

وہ خاتون ان تعلقات کے بدلے میں شیراز کو مختلف چیزوں سے نوازتی رہتی تھیں۔ انہی کی بدولت شیراز کا لباس بہتر ہونے لگا اور اس کے انداز میں بھی شائستگی آنے لگی۔ کچھ ہی ہفتوں بعد اس کے پاس موبائل فون بھی آگیا جو شاید وہ دو سال لگاتار ٹیوشن پڑھانے کے بعد بھی نہیں خرید سکتا تھا۔ اب شیراز اتنا بے تکلف ہو چکا تھا کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی اس خاتون سے کہہ دیتا اور وہ فوری طور پر اس کی ضرورت پوری کر دیتی۔ شیراز خوش تھا کہ تھوڑی سی جسمانی مشقت کے بدلے وہ اتنا کما لیتا تھا جتنا پہلے تین چار جگہ ٹیوشن پڑھانے کے بعد بھی نہیں کما پاتا تھا۔

شیراز کے ساتھ ساتھ اس خاتون کا اپنے شوہر کے ساتھ بھی ایک مکمل تعلق تھا۔ مگر اس خاتون کے بقول وہ اپنی جنسی خواہشات کا اظہار اپنے شوہر سے نہیں کر سکتی۔ اسے ڈر تھا کہ وہ اگر اپنے شوہر سے اپنی جنسی خواہشات کا اظہار کرے گی تو وہ اسے بدکردار سمجھے گا اور اسے بھی طلاق دے دے گا۔ وہ اپنے شوہر کی نظر میں ایک ایسی عورت بن کر رہنا چاہتی تھی جسے جنسی معاملات سے بالکل لگاؤ نہیں تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی خواہشات شیراز کے ساتھ پوری کرتی تھی۔

شیراز کا اس خاتون سے یہ تعلق بس چند ماہ ہی رہا۔ نجانے کیسے اس خاتون کے شوہر کو شک ہو گیا جس کے بعد خاتون نے شیراز کو اپنے گھر آنے سے منع کر دیا۔

شیراز کو دکھ تو بہت ہوا لیکن وہ کیا کر سکتا تھا۔ وہ اپنی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اس خاتون کے ذریعے پورا کر رہا تھا۔ اب واپس ٹیوشن پڑھانا اسے عجیب لگ رہا تھا۔ شاید قسمت بھی اس کے ساتھ تھی چند ہی ہفتوں بعد اس کی دوستی ایک لڑکی سے ہو گئی اور شیراز کی ٹیوشن پڑھانے سے جان بچ گئی۔ وہ پھر سے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگا۔ اس لڑکی کے بعد شیراز نے کئی اور عورتوں کے ساتھ بھی ایسے ہی تعلقات قائم کیے جو اسے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنے کے بدلے میں رقم اور قیمتی تحائف دیا کرتی تھیں۔

اس سب سے شیراز کو مالی فائدہ تو بہت ہوا مگر اس کا نقصان اس کی تعلیم پر پڑا۔ وہ اپنی اس نوکری کی وجہ سے اپنا بی اے تک مکمل نہ کر سکا۔ وہ وکیل بننا چاہتا تھا لیکن اس کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔ اب اس کی راہیں ہی الگ تھیں۔ کسی امیر لڑکی کو محبت کا جھانسا دے کر شادی کرنا اس کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔ ایف ایس سی کے امتحانات کے بعد میں لاہور منتقل ہو گیا جس کے بعد میرا شیراز اور باقی سب سے رابطہ تقریباً منقطع ہو گیا۔ سالوں بعد ایک دوست سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ شیراز نے کسی لڑکی کو اس کے گھر سے بھگا کر کورٹ میرج کر لی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں