آفریدی، جوش، وسعت اللہ خان اور رمضان نشریات


mubashirجب میں نے بچپن میں کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی (افسوس کہ بری طرح ناکام ہوا) تو گورنمنٹ ہائی اسکول خانیوال میں کرکٹ ٹیم کے کپتان نے، جو اگرچہ میٹرک کا طالب علم تھا لیکن اس کا سیاسی شعور ورلڈکپ جیتنے والے کپتانوں سے بہتر تھا، مجھے پتے کی بات بتائی جو بعد میں میرے اس پیشے، یعنی سچی اور جھوٹی کہانیاں (سچی فکشن میگزینوں کے لیے، جھوٹی اخبارات کے لیے) لکھنے میں بہت کام آئی۔

اس ذہین نوجوان نے بتایا کہ ابھی تم اناڑی ہو اس لیے بس گیند اور بلے کے ملاپ کی کوشش کرو۔ یعنی اپنے بلے سے کسی طرح گیند کو چھو لو تو کافی ہے۔ جب تھوڑی مشق کے بعد گیند نظر آنے لگے تو بالر جس طرف گیند پھینکے، اسی جانب اسٹروک لگاؤ۔ لیگ کی گیند لیگ کی طرف اور آف کی گیند آف کی جانب۔ جب خوب مہارت ہوجائے تو پھر تجربات کرسکتے ہو۔ آف کی گیند اٹھا کر لیگ پر مار سکتے ہو۔ جیسے گورڈن گرینج کرتا ہے یا جیسے ویوین رچرڈز کرتا ہے۔

اس وقت تک شاہد آفریدی پیدا نہیں ہوا تھا اور ٹی ٹوینٹی کرکٹ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ تباہ کن کرکٹر کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایسا کرکٹر جو مخالف ٹیم کی امیدوں کو تباہ کردے۔ ایسا کرکٹر جو کھیل ہی کو تباہ کردے۔

خیر، پھر یوں ہوا کہ میں نے کالج میں داخلے کے بعد شاعری کرنے کی کوشش کی (صد شکر کہ بری طرح ناکام ہوا) تو ایک پروفیسر صاحب نے، جو اگرچہ اردو ادب کے نہیں، معاشیات کے استاد تھے، لیکن ان کا ادبی شعور مشاعرے لوٹنے والے شاعروں سے بہتر تھا، کرکٹ ٹیم کے کپتان والی نصیحت الگ انداز میں دوہرائی۔

میری ایک غزل دیکھ کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ ابھی تم اناڑی ہو اس لیے بس وزن میں مصرع کہنے کی کوشش کرو۔ جب تھوڑی مشق کے بعد کچھ لکھنا آجائے تو الفاظ کو ان کے درست معانی میں استعمال کرنا سیکھو۔ جیسا لفظ ہو، ویسا اس کے ساتھ برتاؤ کرو۔ جب خوب مہارت ہوجائے تو پھر تجربات کرسکتے ہو۔ کسی بھی لفظ کو من چاہے معنوں میں استعمال کرسکتے ہو۔ جیسے میر انیس کرتا ہے۔ جیسے جوش ملیح آبادی کرتا ہے۔

جوش صاحب یاد آگئے تو آگے بڑھنے سے پہلے ان کی ایک تحریر کا ٹکڑا ضرور سناؤں گا۔

‘شاعروں کے ساتھ الفاظ کا برتاؤ دوستوں ہی کا سا نہیں، قرابت داروں کا سا ہوتا ہے۔ وہ شاعروں سے اس طرح ملتے جلتے ہیں جیسے ایک ہی گھر کے مختلف افراد یا ساتھ کھیلے ہوئے لنگوٹیا یار۔ شاعروں کو یہاں تک اختیار دے رکھا ہے کہ وہ جب چاہیں ان کے لباس تبدیل کردیں۔ ان کی لے اور رنگ بدل دیں۔ ان کا رخ موڑ دیں۔ ان کے معنوں میں تنگی یا وسعت پیدا کردیں۔’

بات سے بات نکل رہی ہے۔ جوش صاحب کی بات وسعت پر ختم ہوئی۔ استاد وسعت اللہ خان یاد آگئے۔ وسعت صاحب کو وہ کمال حاصل ہے جو بقول جوش، صرف شاعروں کا خاصہ ہے۔ وسعت اللہ خان کا کالم ”بخشو سب کا” کسی کو یاد ہے؟ بخشو کے نئے معنی پیدا ہوئے یا نہیں؟ ان کی ایک تحریر کا عنوان ”اناپ شناپ سوچ کا کھچڑا” ہے۔ یہاں ہریسہ یا حلیم لکھ کر آپ وہ ذائقہ نہیں لاسکتے جو کھچڑا لے آیا۔ استاد کے گھڑے ہوئے ”ذہنی تپڑ” کا مطلب کسی لغت میں ملے گا؟

ہمارے محترم دوست قاسم یعقوب کی ”اردو سلینگ لغت” چند دن پہلے شائع ہوئی ہے۔ ان سے پہلے کراچی یونیورسٹی میں ہمارے استاد ڈاکٹر روف پاریکھ کی کتاب ”اردو کی پہلی سلینگ لغت” دس سال پہلے چھپ چکی ہے۔ میں نے آج اپنی صحت کی طرح کمزور ان دونوں لغات میں اس جنٹلمین کی طرح کانٹا پھینکا جو سارا دن تالاب کنارے بیٹھا رہتا ہے اور مچھلی تو دور کی بات، مینڈک کا بچہ بھی شکار نہیں کرپاتا۔ میں بھی گوہر مقصود حاصل نہیں کرسکا۔

چنانچہ میں اردو کی پہلی سلینگ لغت، دوسری سلینگ لغت، فرہنگ آصفیہ، فیروز اللغات، آکسفرڈ ڈکشنری، علمی لغت، غیر علمی لغت، انجمن ترقی اردو کی لغت، انجمن تنزلی اردو کی لغت، میر انیس کا دیوان، جوش ملیح آبادی کی کلیات، وسعت اللہ خان کا مجموعہ سخن، سب دیکھ کر بتارہا ہوں کہ ان میں عالم اور ڈاکٹر کے جو معنی لکھے ہیں وہ سب غلط ہیں اور رمضان نشریات پیش کرنے والے ہمارے ٹیلی وژن چینلوں نے ان الفاظ کے جو معنی تخلیق کیے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

2 thoughts on “آفریدی، جوش، وسعت اللہ خان اور رمضان نشریات

  • 07-06-2016 at 8:27 pm
    Permalink

    Kiya Utha ke Mara hai Sir Jee.

  • 10-06-2016 at 11:47 am
    Permalink

    خوب.بات سے بات پیدا کی گئی ہے اور ربط کمال کا ہے.

Comments are closed.