چھوٹے شاہ کا فارمولہ دلبر دلبر ہو دلبر دلبر


قدیم ہندوستان کی ریاست مارونڈہ کا راجہ دلیر سنگھ دلبر بڑی محنت مشقت بڑی جدوجہد کے بعد تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی سے پہلے وہی دعوے وعدے، لڑائیاں، محلاتی شازشیں، جنگ و جدل اور قید بند کی کہانیاں جو عموماً راجوں مہاراجوں اور تخت کے حاصل وصول کا لازمی حصہ ہوتیں ہیں۔ تخت نشینی کے لیے دلیر سنگھ دلبر نے اپنی جوانی کے کئی سال تج دیے۔ راجہ کا اصل نام تو دلیر سنگھ تھا لیکن وہ اپنی شخصیت اور عوام و خواص میں مقبولیت کی وجہ سے دلبر کے نام سے مشہور ہوا۔

کم وبیش تاریخ کی تمام غیر مطبوعہ کتب و قلمی نسخوں میں راجہ کا نام دلبر سنگھ ہی لکھا گیا ہے۔ دلبر نام کی اک وجہ تو راجہ کی عوام اور خواص ( اوپری طبقہ ) میں مقبولیت تھی دوسری راجہ دلبر سنگھ اگلے اور پچھلے وقتوں میں دل پھینکنے میں بھی خاص شہرت رکھتا تھا۔ راجہ نے کئی دفعہ دل پھینکا بھی اور کھویا بھی۔ دل کیا شے ہے نگاہ جمال میں ذرا سی چیز تھی کھو گئی دیکھ بھال میں۔

تخت نشینی سے پہلے بھی دلیر سنگھ راجاؤں جیسی زندگی گزار رہا تھا۔ روپیہ پیسہ عزت دولت شہرت عیش وعشرت کسی چیز کی کمی نہ تھی لیکن کچھ معتبر لوگوں نے اسے سمجھایا دلیر سنگھ اپنے عوام کے لیے کچھ کرو۔ اسی بات کو لے کر دلیر سنگھ نے عوام کے درد کے درماں کے لیے اپنے وقت کی تمام جدید سہولتوں سے آراستہ اک شفاخانہ بھی بنوایا۔ جس میں مستحق مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت میسر تھی۔ جب شفاخانہ بنا تو عوام میں دلیر سنگھ کی مقبولیت اور بڑھ گئی۔ تب کچھ نامور اور معتبر بزرگوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ دلیر سنگھ کو راجہ بنایا جائے۔ وجہ دلیر سنگھ کی عوام دوست شخصیت جذبہ، لگن اور جہد مسلسل کی عادت تھی۔

ان بزرگوں کو لگا اگر دلیر سنگھ دلبر کو تخت نشین کیا جائے تو یہ سب کے لیے مناسب رہے گا۔ محنتی ہے حوصلہ مند ہے نڈر ہے نوجوان ہے عوام میں بھی اس کی اچھی ساکھ ہے اور سب سے بڑھ کر اس میں ہیرا پھیری اور غبن کی قبیح عادتیں نہیں۔ شاہی طبقہ تک جب یہ بات پہنچی کہ اب تخت کے دعویداروں میں دلیر سنگھ دلبر بھی شامل ہے تو سب نے مل کر اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ جس کے منہ میں جو آیا وہ کہہ گیا لیکن اک بات سب باتوں میں مشترک تھی کہ دلیر سنگھ کے ہاتھوں میں تخت کی لکیر نہیں۔ بلکہ لوگوں نے تو یہاں تک کہا کہ پورا ملک بھی مر جائے دلیر سنگھ تخت نشین نہیں ہوسکتا۔ کسی نے بھی دلیر سنگھ کو سنجیدہ نہ لیا۔

یہ کٹھن وقت تو تھا لیکن دلیر سنگھ ڈٹا رہا۔ راجے مہاراجے باری، باری کا کھیل کھیلتے رہے۔ کبھی ایک خاندان تخت نشین تو کبھی دوسرا۔ ساتھ میں شاہی خاندانوں نے اپنی اگلی نسلوں کو بھی شہنشاہی کے گر سکھانا شروع کردیے تاکہ وہ بھی اسی طرح عوام کی خدمت پہ مامور رہیں۔ اس دوران کبھی کبھی سپہ سالار بھی اپنی تخت نشینی کا اعلان کردیتا اور سب لوگ اس کے ہاتھ پہ بیعت کر لیتے۔ کرتے کرتے وہ وقت بھی آن پہنچا جب عوام میں دلیر سنگھ کی مقبولیت بڑھنے لگی۔ لوگ پرانے راجاؤں کے اللّوں تللّوں سے اکتانے لگے دوسرا دلیر سنگھ کی باتیں بھی کچھ سحر انگیز اور امید نو لیے ہوئے تھیں۔ نئی نسل کے لوگ خاص طور پر دلیر سنگھ کے گرد اکٹھے ہوتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔

بآلاخر وہ سورج بھی طلوع ہوا جب دلیر سنگھ دلبر کو تخت نشین ہونا تھا۔ تخت نشینی کے بعد دلیر سنگھ نے حسب توقع دلیرانہ باتیں کیں۔ عوام کی نبض پہ ہاتھ رکھا اور انہیں سہولتیں پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ لیکن دلیر سنگھ کی آنکھیں اس وقت کھلی جب پتہ چلا خزانہ ہی خالی نہیں ریاست جا بجا مقروض بھی ہے۔ ملک پہ قرض کا وہ بوجھ ہے جس کا دلیر سنگھ کو گمان بھی نہ تھا۔ اک طرف خالی خزانہ دوسری طرف عوام کی توقعات کا بھاری بھرکم بوجھ تیسرا سود خوروں کے مطالبات۔ اوّل اوّل دلیر سنگھ نے کچھ سامان بھینسیں، ڈھورڈنگر بیچے۔ پھر کچھ چیزیں مہنگی کیں تھوڑا ٹیکس بڑھایا لیکن بات نہ بنی۔ جس طرح آج کل عوام کو چونا لگ رہا ہے اس وقت بھی تقریباً ایسی ہی حالت تھی۔

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب عوام میں بے چینی بڑھنے لگی لگتا تھا دلیر سنگھ دلبری کرسکتا ہے حکومت نہیں۔ دلیر سنگھ بھی پریشان کیا، کیا جائے۔ اک حل تو وہی پرانا طریقہ جو پہلے راجاؤں کے دور سے چلا آرہا تھا دوبارہ سے کشکول دراز کیا جائے جیسے تیسے گلشن کا کاروبار چلے۔ لیکن یہ وہ حل نہیں تھا جس کا اس نے دعویٰ کیا تھا۔ نہ ہی یہ طریقہ دیرپا تھا۔ دلیر سنگھ چونکہ نجومیوں جوگیوں، جوتشیوں کو ماننے والا تھا اس لیے اس نے ان سب کو بلا کر اپنا حال بتایا اور ان سے بھی مشورہ مانگا۔ اس وقت راجہ دلیر سنگھ کے پاس کوئی روحانی طاقت اور جنات والی ہستی نہیں تھی۔ اک نجومی جو بڑا ستارہ شناس ماضی اور مستقبل بین تھا اس نے راجہ دلیر سنگھ کو بتایا آنے والے وقتوں میں دو شاہوں کے نسخے، فارمولے بڑے کامیاب ہوں گے ۔

اک فارمولہ کا نام ڈبل شاہ ہوگا اور دوسرے کا نام چھوٹے شاہ کا فارمولہ ہوگا۔ ہاتھ میں طاقت نہ ہو تو ڈبل شاہ کا فارمولہ اور اگر ہاتھ میں ڈنڈا ہو تو خالی خزانہ بھرنے کے لیے چھوٹے شاہ کے فارمولے سے زیادہ کوئی نسخہ گارگر نہ ہوگا۔ چھوٹے شاہ کے فارمولے کو اگر صحیح استعمال کیا جائے توقع سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل ہوگی۔ بس یہ کام ذرا صبر اور حوصلے سے کرنے والا ہے۔ سمجھو چھوٹے شاہ کا فارمولہ کیا ہے الہ دین کا چراغ ہے بس رگڑا اور مقصد حاصل یعنی رگڑے پہ رگڑا دھر رگڑا۔ رگڑا بس اوپر والوں کو لگانا ہے۔ نجومی نے اچھی طرح سے چھوٹے شاہ کا فارمولہ سمجھایا کے کیسے بڑے بڑے مگر مچھوں، امرا ء، وزرا اور پرانے نوابوں راجوں مہاراجوں کو اندر کرنا ہے اور رگڑا لگا کے مال نکالنا اور خزانہ بھرنا ہے۔ یہی وہ لاجواب نسخہ ہے کے سب تلوں سے تیل نکلنا شروع ہوجائے گا۔

دلیر سنگھ کچھ تذبذب کا شکار تھا کہ کہیں عوام اس رگڑے پہ بغاوت ہی نہ کردیں لیکن حالات اور عقیدت کے پیش نظر نجومی کی بات مانتے ہی بنی۔ عوام کو سہولت و آسانی سے سروکار خزانہ رگڑنے سے بھرے یا گڑگڑانے سے۔ دلیر سنگھ نے سب سے پہلے رگڑا لگانے کا عمل اک زردار سب پہ بھار قبیلے سے کیا جو زیتون اور شہد بنانے کے معاملے میں بڑی شہرت رکھتا تھا جو اپنے وفات شدگان کا نام لے کر زندہ ہے، زندہ ہے کی گردان بھی الاپتے تھے۔ جب زرداروں کو رگڑا لگا تو دولت کی ایسی فراوانی آئی کہ باید و شاید۔ عوام کا لگان مالیہ، ٹیکس سب معاف ہوگیا۔ آسانیوں کا وہ سیلاب آیا کہ ہر کوئی نہال ہوگیا۔ عوام مدہوشی و بے خودی میں مست گنگناتے پھرتے تھے ہوش ہے نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے تم سے ملنے کے بعد دلبر، دلبر دلبر ہو دلبر دلبر۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں