ٹی20 نے دنیا بھر کی کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے: شعیب اختر

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


شعیب اختر

Getty Images

بیس اوورز کی کرکٹ شائقین کو کم وقت میں بہت زیادہ تفریح فراہم کرتی ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ٹیسٹ میچوں میں سٹیڈیم تماشائیوں سے خالی لیکن ٹی ٹوئنٹی میں بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیے

آسٹریلیا کو جیت کے لیے 326 رنز درکار، سات وکٹیں باقی

ٹی ٹوئنٹی کی اس مقبولیت سے قطع نظر یہ بحث بھی جاری ہے کہ اس طرز کرکٹ نے اگر کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کے معیار کو بہت بہتر بنایا ہے لیکن دوسری جانب بیٹسمینوں کی تکنیک پر اس کا منفی اثر ہوا ہے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھی انہی روایت پسند کرکٹرز میں شامل ہیں جن کے خیال میں ٹی ٹوئنٹی کے اثرات تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘ٹی ٹوئنٹی نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ ٹی ٹوئنٹی کی طرف بھاگ رہے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ان کے جسم میں داخل ہوچکا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان بیٹنگ میں ہوا ہے۔ بلا رکتا نہیں ہے۔ شاٹس لگ جاتے ہیں۔ ویراٹ کوہلی اور روہت شرما جیسے چند ہی ایسے بیٹسمین ہیں جنھیں اننگز بنانی آتی ہے۔ بولنگ بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ سارے بولرز چار چار اوورز کے بن کر رہ گئے ہیں۔’

شعیب اختر اس صورتحال میں ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں دیکھتے ہیں۔

‘ایسا لگتا ہے کہ جیسے ٹی ٹوئنٹی سے صرف پیسہ کمانا ہی اصل مقصد ہے لیکن اگر ٹیسٹ کرکٹ کو بچانا ہے تو پھر ٹیسٹ میچ کی فیس پچاس لاکھ کردیں پھر میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کیسے ٹیسٹ میچ نہیں کھیلتی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پیسہ نہیں ہے اور یہ بغیر پیسے کے نہیں بچ سکتی۔’

انضمام الحق

Getty Images

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے آنے کے بعد خاص طور پر یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ کھلاڑیوں کو صرف فرنچائز کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر فوری طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی مثال دی جاتی ہے جس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے متعدد کھلاڑی فوری طور پر پاکستانی ٹیم میں شامل کردیے گئے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔

‘پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے علاوہ پاکستان سپر لیگ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے بہت زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ پی ایس ایل تک پہنچنے کی بھی ایک کوالیفکیشن ہے کہ آپ فرسٹ کلاس کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اس کے بعد ہی پی ایس ایل میں شامل ہوتے ہیں۔ سب لوگ یہ کہتے ہیں کہ شاداب خان حسن علی اور فخرزمان پی ایس ایل سے سیدھے پاکستانی ٹیم میں آگئے حالانکہ ان کھلاڑیوں نے پاکستان اے کی طرف سے انگلینڈ اور زمبابوے کے دورے کیے تھے۔ فہیم اشرف نے بھی پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی بعد میں وہ پی ایس ایل میں آئے۔ʹ

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو پاکستانی ٹیم میں منتخب کرتے وقت صرف پاکستان سپر لیگ کی کارکردگی نہیں دیکھی جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘کسی بھی کھلاڑی کو منتخب کرتے وقت ہمارے پاس اس کا پورا ریکارڈ ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان سپر لیگ کا فائدہ ہمیں یہ ہوا ہے کہ اس میں ہمیں کھلاڑی کا ٹمپرامنٹ اور بڑے مجمعے کے سامنے پریشر میں کھیلنے کا پتہ چلتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری فرسٹ کلاس کرکٹ میں یہ چیز نہیں ملتی ہے کیونکہ وہاں مجمع نہیں ہوتا ہے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5732 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp