کیا وزیر مملکت برائے داخلہ قیدیوں سے براہ راست تفتیش کر سکتے ہیں؟


وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے راولپنڈی کے تھانوں پر چھاپے کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ ویڈیو کے سامنے آتے ہی نیا قانونی سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا وزیر مملکت برائے داخلہ حوالات کھلوا کر قیدیوں سے براہ راست تفتیش کر سکتے ہیں؟

شہریار آفریدی کے راولپنڈی کے تھانوں پر چھاپوں سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، انہوں نے حوالات کھلوا کر قیدیوں سے براہ راست تفتیش کی اور موقع پر ہی ایک ایس ایچ او اور 2 پولیس اہلکار وں کو معطل کرنے کے احکامات بھی دے دئیے۔

تھانوں پر چھاپے کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ نے راولپنڈی کے تھانوں کے 3 ایس ایچ اوز کو اپنا دفتر بلوا لیا۔ تینوں ایس ایچ او وزیر مملکت کے بجائے سی پی او راولپنڈی کے پاس پہنچ گئے۔ بعدازاں سی پی او راولپنڈی خود وزیر مملکت داخلہ کے دفتر گئے اور دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔ ان کے ہمراہ تینوں تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی وزارت داخلہ گئے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں