مہاراجا پٹیالہ کی کرکٹ ٹیم نے بہترین انگریز ٹیم سے میچ کیسے جیتا؟


پٹیالہ جم خانہ کلب میں ایک انٹرنیشنل کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ یہ میچ ریاستی ٹیم اور انگریز ٹیم کے مابین کھیلا گیا تھا۔ مہاراجا بھو پندر سنگھ آف پٹیالہ ریاستی ٹیم کا کپتان تھا جبکہ مشہور ٹیسٹ پلیئر مسٹر جارڈین انگر یز ٹیم کی کپتانی کر رہا تھا۔ مہاراجا کی کپتانی میں کھیلنے والی ریاستی ٹیم سے کمزور تھی، خاص طور پر اس صورت میں کہ انگریز ٹیم میں فاسٹ باؤلر اور بہترین بلے باز شامل تھے۔

مہاراجا کا مشیر آسٹریلین باؤلر فرینک ٹیرنٹ، وزیرا عظم سر لیاقت حیات خان، سیکرٹری جنوبی پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن دیوان ولایتی رام اور سردار بوٹا رام بے تاب تھے کہ مہاراجا کی ٹیم کو ہر قیمت پر جیتنا چاہیے۔ انہوں نے مہاراجا سے درخواست کی کہ محل میں استقبالیہ اور شراب ورقص و سرود کی محفل منعقد کی جائے جن میں انگریز ٹیم کے ارکان، ریاستی ٹیم کے ارکان، اہم وزرا ء اور حکومتی افسران کو مدعو کیا جائے۔

یہ تقریب کرکٹ میچ سے ایک دن پہلے شام کے وقت کے برپا ہوئی۔ مہمانوں کی تواضع نہایت لذیذ کھانوں اور خمار آ گیں شرابوں سے گئی۔ کھانے اور مے نوشی کے بعد درباری رقاصاؤں نے مہاراجا کے مہمانوں کے سامنے رقص کیا اور گانے ہائے۔ انگریز ٹیم کے ارکان تقریب ختم ہونے تک رقاصاؤں کے ساتھ چھیڑخانی کرتے اور سکاچ، وسکی اور دیگر منتخب شرابیں پیتے رہے۔ انگریز ٹیم کے بیشتر ارکان مدہوش ہو گئے اور انہیں مہاراجا کے سیکرٹریوں کی نگرانی میں کاروں میں گیسٹ ہاؤس پہنچانا پڑا۔

مہاراجا کی ٹیم کے ارکان کو پہلے ہی خفیہ ہدایت کی جا چکی تھی کہ وہ شراب نہ پئیں تاکہ وہ اگلی صبح کھیل کے لیے مستعد ہوں۔ ناؤنوش اور رقص و نغمہ کی محفل صبح سویرے ختم ہوئی اور انگریز ٹیم کو آرام کرنے کا وقت نہیں ملا۔ جب انگریز کھلاڑی میدان میں اترے تو وہ مستعد نہیں تھے۔ انہوں نے بہت برے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ جبکہ مہاراجا کی ٹیم کے ارکان مستعد اور چاق و چوبند تھے۔ انہوں نے ٹھیک ٹھاک سکور کیا۔ میچ کے پانچوں دن اسی طریقے پر عمل کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہاراجا کی ٹیم میچ جیت گئی۔ پوری دنیا میں، خصوصاّ برطانوی اور ہندوستانی اخبارات میں اس کا خوب چرچا ہوا۔ کسی کو بھی معلوم نہ ہوا کہ مہاراجا کی ٹیم کے اس میچ جیتنے کا راز کیا تھا۔

میچ کے دوران ہر روز کھیل ختم ہونے کے بعد کلب میں ویانا سے آئے ہوئے مشہور موسیقار میکس گیگر کی ہدایات کے تحت سازندے دلکش دھنیں پیش کرتے۔ ، موسیقی سننے کے لیے بہت بڑا ہجوم کلب میں اکٹھا ہو جاتا۔ یاد رہے کہ میکس گیگر ریاستی سازندوں کا انچارج تھا۔

دونوں ٹیموں کے اراکین اور متعد د حکومتی افسران کھیل کے بعد جم خانہ کلب میں اکٹھے ہو جاتے اور سبزہ زار میں بیٹھ کر شراب نوشی کرتے۔ اس دوران بینڈ دھنیں بکھیرتا رہتا۔ ایک دن مہاراجا کو چند جام پینے کے بعد خیال آیا کہ بینڈ دھن صحیح نہیں بجا رہا ہے۔ وہ اٹھ کر موسیقار کی جگہ جا بیٹھا اور بینڈ کو ہدایات دینے لگا۔ پھر وہ کرکٹ فیلڈ میں پیدل مارچ کرنے لگا۔ 28 سا زندوں پر مشتمل بینڈ اس کے پیچھے پیچھے اس کی ہدایات کے مطابق دھن بجاتا چل رہا تھا۔ تاہم ہندوستانی یا یورپی کلاسیکی موسیقی کی بجائے مہاراجا پنجابی دھنیں بجانے کی ہدایات دینے لگا تھا۔

اس نے دھنوں کی ہدایات تو درست دی تھیں لیکن اس نے جوش میں کرکٹ فیلڈ کے متعد د چکر بھی لگائے۔ کرکٹ فیلڈ کے درجن بھر چکر لگانے کے بعد مہاراجا کرکٹ فیلڈ سے نکل کر چار میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے سیدھا موتی باغ محل پہنچ گیا۔ پورا بینڈ اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا، جبکہ سارے مہمان کلب میں حیران و ششدر بیٹھے رہ گئے۔

مہاراجا کلب واپس آنے کی بجائے اپنے محل میں تعمیر کیے گئے ایک چبوترے پر کھڑا ہو کر آدھی رات تک بینڈ کو مختلف دھنیں بجانے کی ہدایات دیتا رہا۔ جم خانہ کلب میں موجود مہمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ مہاراجا کو ” گڈ نائٹ“ کہے یا مسٹر میکس گیگر کی ہدایات کے تحت کام کرنے والے مشہور بینڈ سے کلاسیکی موسیقی سنے بغیر ہی اپنی قیام گاہوں چلے جائیں۔
ایسی تھی مہاراجا کی کجروی و بے قاعدگی! انگریز ٹیم میچ جیتنے اور موسیقی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ گئی!
کتاب ”مہاراجا“ سے اقتباس۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں