طاقتور جنرل ایوب خان ڈھیٹ بکری سے ہار گئے


جنوبی سندھ کے علاقے میں ایک زمانے میں تیتر بہت ہوتا تھا، کراچی سے سارے علاقے تک پہنچنا بہت آسان ہے چنانچہ چھٹی کے روز علی الصج دیکھنے میں آتا کہ کراچی سے شکار کے شوقین گاڑیوں پر سوار چلے جا رہے ہیں تیتروں اور مرغابیوں کے شکار کے لئے۔

ایک صبح میں بھی صدر ایوب خان کی معیت میں کراچی سے شکار کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں وہ اپنی نافذ کردہ اصلاحات کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ بعض اصلاحات کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ملکی معیشت پر بڑا خوشگوار اثر ڈالیں گی۔ کہنے لگے ایک تو یہ اصلاح ہے کہ بکری کو ختم کرو۔ انہوں نے ایک حکم صادر کیا تھا جس کے تحت بکریاں پالنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔

کہنے لگے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بکریوں اور اونٹوں نے سر سبز علاقوں کو ریگستانون میں تبدیل کر دیا ہے بکری جس جھاڑی یا درخت پر منہ مارتی ہے اس کے لعاب کے ذریعے زہر سا درخت میں سرائیت کرتا ہے جو اسے خشک کر دیتا ہے۔ مجھے بھی یاد آیا کہ جب میں سپین گیا تھا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ عربوں کے حملے سے پہلے سپین ایسا سر سبز و شاداب علاقہ تھا کہ یورپ کے روئسا یہاں شکار کرنے آیا کرتے تھے۔ اپنے آٹھ سو سالہ دور میں عرب یہاں اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہوں نے سر سبز و شاداب سپین کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

فرانکو نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں زیتون کی کاشت کی سپین کے اوپر پرواز کے دوران بھی لگتا تھا کہ سپین میں بڑے اہتمام سے وسیع پیمانے پر شجرکاری کی گئی ہے اور جو صفایا بکری اور اونٹ نے کیا تھا اس کی تلافی ہو چکی ہے۔ مگر جہاں تک پاکستان میں بکری کے نقصانات کا تعلق ہے مجھے صدر صاحب کے خیالات پر یقین نہیں آتا تھا میں نے صدر صاحب سے کہا کہ بکری کے خلاف ان کے حکم کے باوجود ان کی تعداد کچھ کم نہیں ہوئی۔ بکریاں اب بھی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ وہ نہیں مانے، ان کا خیال تھا کہ بکری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

تھوڑی دیر بعد ہی ہم نے دیکھا کہ مخالف سمت سے سڑک پر بکریوں کا ریوڑ چلا آرہا ہے۔ صدر نے بھی دیکھا اور فوراً کہا کہ یہ بکریاں شہر لے جائی جا رہی ہیں کھانے کے لیے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم نے سڑک کے قریب کھیتوں میں ایک اور ریوڑ کو چرتے دیکھا، ان کی تعداد دو چار سو کے قریب تھی۔ صدر نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس کے بعد صدر صاحب نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں بکری کے بارے میں کچھ نہیں کہا اور پورے ملک میں موجود بکری بیل بوٹے کو نقصان پہنچا کر پاکستان کو مشرق و وسطیٰ کے ممالک کا ہم شکل بنانے کی کوشش کرتی رہی جن سے ہماری روحانی ہم آہنگی عرصہ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔

بکری کے خلاف صدر ایوب خان کی اس مہم کا ایک دلچسپ پہلو اور بھی ہے۔ بکری کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے حکم جاری کیا کہ فوجی میسوں میں بڑے گوشت یا بھیٹر کے گوشت کی بجائے بکری کا گوشت جائے پکایا جائے مگر نتیجہ ان کی توقع کے بر خلاف نکلا۔ بکری کی مانگ بڑھ گئی اور کسان زیادہ بکریوں پالنے لگے۔ بکری کی تعداد میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی اور جب ایوب خان کا دس سالہ دور اقتدار ختم ہوا تو اس پر آخری طنزیہ قہقہہ بکری نے ہی لگایا۔
کتاب ”یہ باتیں حاکم لوگوں کی“ سے اقتباس۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں