انڈیا میں ہوائی اڈے پر زیادہ مسکرانے سے’ دہشت گرد حملوں کا خدشہ‘


ایئر پورٹ سکیورٹی فورس

AFP

انڈیا میں حکام نے ہوائی اڈوں پر تعینات سکیورٹی حکام سے کہا ہے کہ وہ زیادہ مسکرانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق حکام کو خدشات ہیں کہ ضرورت سے زیادہ خوش اخلاقی کی وجہ سے سکیورٹی میں بےپروائی کا تاثر پایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انڈیا میں سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس ہی ہوائی اڈوں کی سکیورٹی کی ذمہ دار ہے اور وہ اپنے عملے سے چاہتا ہے کہ ’دوستانہ ہونے کی بجائے زیادہ چوکنا ہوں۔‘

انڈین ایکسپریس کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں پر اب ’بہت زیادہ مسکراہٹ‘ سے ’مناسب حد تک مسکراہٹ‘ کا طریقۂ کار نافذ ہو گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’اگر سکرٹ پہنی تو جہاز سے اترنا پڑ سکتا ہے‘

جہاز کا ’ایمرجنسی دروازہ‘ کھولنے کی کوشش، مسافر گرفتار

ایئرپورٹ کے رن وے پر سونے چاندی کی بارش

جرمنی میں مشتبہ شامی شدت پسند کی جیل میں خودکشی

حکام کے نزدیک ضرورت سے زیادہ مسکراہٹ اور دوست نوازی کا تاثر ہوائی اڈوں کو دہشت گرد حملوں کے خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل راجیش رانجن نے تو یہاں تک کہا کہ امریکہ میں نائن الیون حملوں کی وجہ مسافروں سے ضرورت سے زیادہ اچھے رویے کی پالیسیاں تھیں۔

خیال رہے کہ انڈیا میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے معیار میں بہتری کے لیے کہا گیا ہے۔

جولائی میں کرناٹک ریزرو پولیس نے اپنے اہلکاروں سے کہا تھا کہ وہ وزن کو کم کریں نہیں تو انھیں معطل کر دیا جائے گا۔

اسی طرح سے 2004 میں مدھیہ پردیش میں پولیس اہلکاروں سے کہا گیا تھا کہ انھیں مونچھیں بڑھانے کے لیے معاوضہ دیا جائے گا کیونکہ افسران کے خیال میں ایسا کرنے سے انھیں زیادہ عزت ملے گی۔

انڈیا میں اگرچہ سکیورٹی اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مسکرایں کم لیکن اس کے ہمسایہ ملک نیپال میں 2014 میں چھ سو افراد کو صرف اس مقصد کے لیے بھرتی کیا گیا تھا تاکہ وہ پولیس افسران کو زیادہ ’دوستانہ‘ بنانے میں مدد دے سکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6325 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp