سنگار پور سے نیویارک: دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز اڑان بھرنے کے لیے تیار

سارہ پورٹر - بی بی سی نیوز، سنگاپور


دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز کی سہولت فراہم کی جنگ ایک قدم اور آگے بڑھ گئی ہے جب جمعرات کو سنگاپور سے نیویارک تک نئی پرواز کا آغاز ہو رہا ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز پانچ سال بعد اپنا یہ روٹ دربارہ متعارف کروا رہی ہے۔ پانچ سال قبل یہ پرواز اس لیے بند کر دی تھی کہ اس پر بہت زیادہ خرچ آرہا تھا۔

سنگارپور سے نیویارک کا سفر 15000 کلومیٹر طویل ہے اور یہ فاصلہ تقریباً 19 گھنٹے میں طے کیا جائے گا۔

قنطاس ایئرویز نے رواں سال پرتھ سے لندن تک اپنی 17 گھنٹے پر مشتمل نان سٹاپ پرواز کا آغاز کیا تھا جبکہ قطر ایئرویز آکلینڈ سے دوحا ساڑھے 17 گھنٹے کی نان سٹاپ پرواز فراہم کر رہی ہے۔

کیا مسافر ٹکٹ خرید رہے ہیں؟

چانگی ایئرپورٹ سے نیوآرک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک کے سفر کا خاصا چرچا ہے اور شاید ہی کوئی خالی سیٹ دستیاب ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز (ایس آئی اے) کا کہنا تھا کہ مسافروں کی جانب سے نان سٹاپ سروسز کی مانگ تھی، جس کی وجہ سے سٹاپ اوور کے مقابلے میں وقت کی بچت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نو دنوں کا سفر 17 گھنٹوں میں سمٹ گیا!

کیا یہ دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز ہو گی؟

دہلی سے تل ابیب براستہ سعودی فضائی حدود

خواتین عملے کے ساتھ دنیا کے گرد پرواز

امریکہ میں دورانِ پرواز پائلٹ کی موت

ہوائی کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ بزنس کلاس میں اس پرواز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں تاہم ’بہت محدود تعداد میں‘ پریمیئم اکانومی سیٹیں بچی ہیں۔

ہوائی کمپنی کا اس روٹ پر اکانومی بکنگ کی پیشکش کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے دو وقت کا کھانا جب وہ چاہیں گے ملے گا اور مشروبات دستیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ آرام کے لیے انھیں بستر کی سہولت بھی فراہم ہو گی۔

پریمیئم اکانومی کے کرائے میں تین وقت کا کھانا مقررہ وقت پر مشروبات کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔

کیا لوگ 19 گھنٹے کی پرواز کرنا چاہیں گے؟

سنگاپور ایئرلائنز کی بالکل نئے ایئربس جہازوں میں 161 مسافروں کی گنجائش رکھی گئی ہے جن میں 67 بزنس کلاس مسافر اور 94 پریمیئم اکانومی کلاس کے مسافر ہوں گے۔

ماہر ہوائی بازی جیفری ٹامس جمعرات کو اس پرواز پر سفر کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کی پراڈکٹ بیچ رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ روٹ دو انتہائی بڑے معاشی مراکز کے درمیان ہے، اور وہ اس جہاز کو کاروباری لوگوں سے یا امیر مسافروں سے بھریں گے جو نان سٹاپ پرواز کی سہولت چاہتے ہیں۔‘

’یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جب ایک فضائی کمپنی نیا نان سٹاپ روٹ متعارف کرواتی ہے تو اس روٹ پر ٹریفک تین گنا بڑھ جاتی ہے۔‘

ٹامس فضائی کمپنیوں کی درجہ بندی کرنے والی ویب سائٹ ایئرلائن ریٹنگز ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں اور کئی ایسی افتتاحی پروازوں پر سفر کر چکے ہیں جن میں رواں سال قنطاس کی پرتھ سے لندن کی پرواز بھی شامل ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک نئی تاریخ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

قنطاس کی لندن کے لیے پرواز ایک بہت بڑی تقریب تھی۔ ’بنیادی طور پر ہم سب پورے سفر کے دوران اپنے پاؤں پر کھڑے تھے۔ یہ انتہائی پرجوش موقع تھا۔ جہاز میں بھی پارٹی کا ماحول تھا۔‘

قنطاس

EPA
قنطاس ایئرویز نے رواں سال پرتھ سے لندن تک اپنی 17 گھنٹے پر مشتمل نان سٹاپ پرواز کا آغاز کیا تھا

یہ پرواز کون سا راستہ اختیار کرے گی؟

سنگاپور ایئرلائنز اپنے مسافروں کو بتا چکی ہے جمعرات کو نیو آرک کے لیے یہ پرواز دو ممکنہ روٹس میں سے کون سا روٹ اختیار کرے گی۔ یہ پرواز نوپیک روٹ یعنی شمالی بحرالکاہل کا راستہ استعمال کرے گی۔

جیفری ٹامس کا کہنا ہے کہ یہ سفر 15341 کلومیٹر طویل ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں مقامات کے درمیان فاصلہ مستقل رہے گا لیکن پرواز کا دورانیہ اور مسافت ہوا کے رخ اور موسمی اثرات سے ہونے والی تبدیلیوں کی مناسبت سے تبدیل ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انتہائی بلندی پر مشرق کے رخ کی انتہائی تیز ہوائیں ہوتی ہیں، اسی راستے سے ہم جائیں گے، پھر ہم جاپان کے اوپر سے، پھر شمالی بحرالکاہل سے پھر ممکنہ طور پر الاسکا اور کینیڈا سے ہوتے ہوئے نیوآرک پہنچیں گے۔‘

فی الوقت سنگاپور ایئرلائنز کا اندازہ ہے کہ اس پرواز کا دورانیہ 18 گھنٹے اور 25 منٹ ہوگا۔

کیا یہ طویل مسافت کے مستقبل کا آغاز ہے؟

اے 350-900 یو ایل آر (الٹر لانگ رینج) جو جمعرات کو سنگاپور سے نیوآرک تک پرواز کرے گا ایئربس کمپنی کی لانگ رینج فیملی کا حصہ ہے۔

یہ جہاز بوئنگ کے پرانے 777 سیریز کے متبال کے طور پر تیار کیے گئے تھے اور 777 سیریز کے جہازوں کے مقابلے میں 20 سے 30 فیصد کم تیل خرچ کرتے ہیں، جو کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے دور میں خوش آئند ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز نے یہی نان سٹاپ روٹ چانگی سے نیو آرک تک سنہ 2004 میں بھی متعارف کروایا تھا لیکن سنہ 2013 میں اسے منسوخ کرنا پڑا۔ اس کے لیے A340-500 جہاز استعمال کیا جاتا تھا جو بہت زیادہ تیل خرچ کرتا تھا جس کے باعث یہ روٹ بہت زیادہ مہنگا پڑ رہا تھا۔

جہاز

Reuters
اے 350-900 یو ایل آر (الٹر لانگ رینج) جو جمعرات کو سنگاپور سے نیوآرک تک پرواز کرے گا ایئربس کمپنی کی لانگ رینج فیملی کا حصہ ہے

کئی ہوائی کمپنیاں اب لمبے سفر کے لیے نئے A350-900 جہاز استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی چھتیں اونچی اور کھڑکیاں بڑی ہیں اور روشنیاں ایسے انداز میں ڈیزائن کی گئی ہیں کہ اس سے جیٹ لیگ میں کم ہوتا ہے، ایک مصروف بزنس کلاس مسافر کے لیے یہ سب اچھا ہے۔

لیکن سنگاپور ایئرلائنز نے ایئربس سے جو الٹرا لانگ رینچ ورژن خریدا ہے وہ آج کے دور میں طویل پرواز کرنے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتا ہے۔

یہ 20 گھنٹے نان سٹاپ پرواز کر سکتا ہے جس کے بارے میں مستقبل میں ماہرین ہوابازی آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ بزنس اور تفریح کے لیے انتہائی لمبے سفر کرنے کا مستقبل ہے۔

جیفری ٹامس کہتے ہیں کہ یہ بار ہا مرتبہ ثابت ہوچکا ہے کہ لوگ نان سٹاپ پرواز چاہتے ہیں، چنانچہ ’اس قسم کے ہوائی جہاز لاجواب توجہ حاصل کرنے کی راہ پر ہیں۔‘

قنطاس کی پرتھ سے لندن کی پرواز اکانومی میں 92 فیصد اور پریمیئم میں 94فیصد مسافروں بھری ہوتی ہیں، چنانچہ ہوائی کمپنی کی نظر میں یہ رقم بنانے والے روٹس ہیں۔

جیفری ٹامس کہتے ہیں کہ ’ہم واقعی سفر کے ایک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6417 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp