بھارتی لڑکی نیرجا کو تمغہ پاکستان کیوں دیا گیا؟


وہ واحد بھارتی لڑکی جسے پاکستانی حکومت کی جانب سے تمغہ پاکستان دیا گیا کیونکہ۔۔۔

 

پاکستان اور بھارت کے درمیا ن تعلقات روز اول سے کشیدہ ہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں ہمیشہ تلخ بات ہی کی گئی ہے، مگر اس تلخی کے درمیاں ایک واقعہ ایسا بھی پیش آیا کہ دونوں ممالک کی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔ یہ وہ وقت تھا جب حکومت پاکستان نے ایک بھارتی لڑکی کو ملک کے اعلٰی اعزاز ”تمغہ پاکستان“ سے نوازا۔ اس بھارتی لڑکی کا نام نیرجا بھانت ہے اور وہ واحد بھارتی شہری ہیں جنہیں حکومت پاکستان کی جانب سے یہ اعزاز ملا۔

وکی پیڈیا کے مطابق نیرجا کی پیدائش سات ستمبر 1963ءکے روز بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ میں ہوئی۔ جب 5ستمبر 1986ءکے روز پاکستان کے شہر کراچی میں انہوں نے آخری سانس لی تو وہ محض 22 سال کی تھیں، مگر ایک ایسا عظیم کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو رہی تھیں کہ جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب ستمبر 1986 میں امریکی فضائی کمپنی پین ایم ورلڈ ائیرویز کی پرواز 73 کراچی ائیرپورٹ پر ہائی جیکروں کے نرغے میں آ گئی۔ بھارتی شہر ممبئی سے امریکہ جانے والی اس پرواز کے فضائی عملے میں نیرجا بھی شامل تھیں۔ طیارے میں 360 مسافر اور عملے کے کل 13 ارکان تھے۔

جب ہائی جیکر طیارے میں داخل ہو رہے تھے تو نیرجا نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کپتان کو خبردار کر دیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ، کو پائلٹ اور فلائٹ انجینئر کاک پٹ کے ایمرجنسی ایگزٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب پیچھے بچ جانے والوں میں نیرجا سب سے سینئر تھیں اور یہ صورتحال انہیں ہی سنبھالنا تھی۔

ہائی جیکروں نے طیارے میں داخل ہوتے ہی ایک امریکی مسافر کو شناخت کیا اور طیارے سے باہر نکال کر اسے گولی ماردی۔ اس کے بعد انہوں نے نیرجا سے کہا کہ وہ تمام مسافروں کے پاسپورٹ اکٹھے کرکے لائے تاکہ ان میں سے وہ امریکی شہریوں کو الگ کرسکیں۔ پرواز میں 43 امریکی مسافر تھے لیکن نیرجا نے مسافروں کے پاسپورٹ ہائی جیکروں کے حوالے کرنے کی بجائے ایک سیٹ کے نیچے چھپادئیے۔

سترہ گھنٹوں تک ہائی جیکروں نے مذاکرات کی کوشش ہوتی رہی لیکن صورتحال مسلسل سنگین ہوتی چلی جا رہی تھی۔ بالآخر نیرجا نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا اور طیارے کا ایمرجنسی دروازہ کھول کر مسافروں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ اگر وہ چاہتی تو سب سے پہلے طیارے سے باہر نکل کر اپنی زندگی بچا لیتی لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔

جب نیرجا تین بچوں کو طیارے سے باہر نکال رہی تھی تو ایک ہائی جیکر نے اُن پر گولی چلائی مگر نیرجا اپنی جان کی پرواہ نا کرتے ہوئے بچوں کے سامنے آ گئی اور گولی اُس کے جسم میں پیوست ہو گئی۔ نیرجا نے پہلے تو ذہانت اور بہادری کا مظاہر کرتے ہوئے طیارے کی ہائی جیکنگ کو ناکام بنایا اور پھر اپنی جان کی قربانی دے کر ان تین بچوں سمیت سینکڑوں مسافروں کی جانیں بھی بچائیں۔ ان بچوں میں سے ایک آج خود بھی پائلٹ ہے اور نیرجا کو اپنی زندگی کا رول ماڈل قرار دیتا ہے۔

نیرجا کی بہادری اور انسانی جانیں بچانے میں ان کے مثالی کردار کے باعث حکومت پاکستان نے انہیں ”تمغہ پاکستان“ سے نوازا۔ امریکی حکومت نے بھی انہیں اعلیٰ اعزاز سے نوازا جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے بھی انہیں ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ”اشوک چکرا ایوارڈ“ دیا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں