سنکیانگ: اویغور مسلمانوں کے لیے ’خیالات کی تبدیلی‘ کے مراکز


اویغور

Reuters
چین کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں مینڈیرین زبان کے علاوہ، قانونی نکات کی تعلیم بھی دی جائے گی جبکہ وہاں رکھے جانے والے افراد کو ووکیشنل تربیت بھی ملے گی

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حکام نے بڑے پیمانے پر مسلم اویغور افراد کے لاپتہ ہونے کی خبروں پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے بعد ان افراد کے لیے بنائے جانے والے مراکز کو قانونی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔

چینی حکام کے مطابق یہ ’ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز‘ ہیں جہاں ’خیالات میں تبدیلی‘ کے ذریعے شدت پسندی سے نمٹا جائے گا۔

حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں رکھے جانے والے افراد سے صدر شی جن پنگ سے وفاداری کا حلف اٹھوایا جاتا ہے اور انھیں اپنے عقیدے پر تنقید کرنے یا اسے ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

رواں برس اگست میں چین نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ تقریباً دس لاکھ اویغور افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی سے متعلق ایک اجلاس میں شریک حکام نے اعتراف کیا ہے ایسے اویغور جو ’مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہیں‘ فی الوقت دوبارہ تعلیم کی فراہمی، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔

سنکیانگ میں حالیہ چند برسوں میں تشدد اور حکومتی کریک ڈاؤن کی کئی لہریں آئی ہیں۔ چین اس صورتحال کے لیے اسلام کے نام پر شدت پسندی کرنے والے گروہوں اور علیحدگی پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین: اویغوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کیا جا رہا ہے؟

کوئی مسلم ملک اویغور مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں بولتا؟

چینی قانون کیا کہتا ہے؟

سنکیانگ میں متعارف کروایا گیا یہ نیا قانون چین کی جانب سے اس علاقے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی جانب پہلا مفصل اشارہ ہے۔

اس کے مطابق ایسا رویہ جو کہ حراست میں لیے جانے کی وجہ بن سکتا ہے، اس میں حلال چیزوں کے تصور کو پھیلانا، سرکاری ٹی وی دیکھنے اور سرکاری ریڈیو سننے اور بچوں کو سرکاری تعلیم دلوانے سے انکار بھی شامل ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں مینڈیرین زبان کے علاوہ، قانونی نکات کی تعلیم بھی دی جائے گی جبکہ وہاں رکھے جانے والے افراد کو ووکیشنل تربیت بھی ملے گی۔

حقوقِ انسانی کے گروپوں نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی صوفی رچرڈز کا کہنا ہے کہ ’ایسے الفاظ جو حقوقِ انسانی کی بڑے پیمانے پر صریح خلاف ورزیوں کے خدوخال بیان کر رہے ہوں قانون کہے جانے کے قابل نہیں ہیں۔‘

اویغور

BBC
اویغور نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے

کیا چین اسلام کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے؟

چینی حکام کی جانب سے سنکیانگ میں بڑے پیمانے پر ایک اور مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔ چین چاہتا ہے کہ ایسی حلال اشیا کا استعمال بند کر دیا جائے جو کہ خوراک میں شامل نہیں۔

ایک اخبار کے مطابق ٹوتھ پیسٹ جیسی اشیا پر بھی لفظ حلال کے استعمال جیسے اقدامات لوگوں کی ذہنیت پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور یہ لوگ مذہبی شدت پسندی کا شکار ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے سنکیانگ کے دارالحکومت ارمچی میں لوگوں سے ’پین حلال ٹرینڈ‘ کی مخالفت کا حلف بھی لیا۔

یہ بھی پڑھیے

’تکلیف دینے کی بجائے گولی مار دو‘

اویغور مسلمانوں اور چین کے درمیان جھگڑا کیا ہے

چین: مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں

نئے قوانین کے لیے مسلمان خواتین کو نقاب کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ارکان اور افسر شاہی کو کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات اور تقریبات میں صرف مینڈرین زبان بولیں اور کسی مقامی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

یہ کیمپ کیسے ہیں؟

ماضی میں ان کیمپوں میں قید رہنے والے کچھ افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں وہاں جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا رہا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خاندان کے خاندان لاپتہ ہوئے ہیں۔

جولائی میں ایسے ہی ایک کیمپ سے فرار ہونے میں کامیاب رہنے والے ایک سابق استاد نے قزاقستان کی ایک عدالت میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’چین میں انھیں سیاسی کیمپ کہتے ہیں لیکن درحقیقت وہ پہاڑوں میں بنی ایک جیل تھی۔‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سابق قیدیوں کے حوالے سے لکھا کہ انھیں ’کمیونسٹ پارٹی کے بنا چین کا وجود ہی نہ ہوگا‘ جیسے ترانے گانے پر مجبور کیا جاتا اور جو قیدی یہ ترانے یاد نہیں کر سکتے تھے انھیں ناشتہ نہیں ملتا تھا۔

Uighur man

AFP
چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ مذہبی انتہا پسندوں کو ‘ری ایجوکیشن’ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

سابق قیدی عبدالسلام محمد نے اخبار کو بتایا تھا کہ ’تمام افسران کا کلیدی نکتہ ایک ہی تھا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی عظمت، اویغور ثقافت کی پسماندگی اور چینی ثقافت کی جدت۔‘

عالمی اویغور کانفرنس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کیمپوں میں قیدیوں کو بغیر کوئی فردِ جرم عائد کیے غیر معینہ مدت کے لیے رکھا جاتا ہے اور انھیں کمیونسٹ پارٹی کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان افراد کو مناسب خوراک بھی نہیں دی جاتی اور تشدد کے واقعات بھی عام ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کیمپوں میں قید افراد میں سے بیشتر پر کبھی کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں قانونی مدد لینے دی گئی۔

تاہم چین کے انگریزی زبان کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق سکیورٹی کے سخت اقدامات کی وجہ سے ہی یہ خطہ ’چین کے شام‘ یا چین کے لیبیا‘ بننے سے محفوظ رہا ہے۔

اویغور کون ہیں؟

یہ نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ یہ سنکیانگ کی کل آبادی کا 45 فیصد ہیں۔

وہ خود کو ثقافتی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی علاقوں سے قریب تر دیکھتے ہیں اور ان کی زبان ترک زبان سے بہت حد تک مماثلت رکھتی ہے۔

لیکن حالیہ دہائیوں میں سنکیانگ میں ہان (چین کی اکثریتی نسل) چینیوں کی بڑی آبادی وہاں منتقل ہوئی ہے اور اویغوروں کو ان سے خطرہ لاحق ہے۔

چین نے سنکیانگ کو ملک کے اندر تبت کی طرح ایک خودمختار خطہ قرار دے رکھا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5701 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp