200 برس پرانی فحش کتاب پابندیوں کے بعد ایک بار پھر سامنے آ گئی


وہ شرمناک ترین کتاب جس پر 200 سال پہلے پابندی لگادی گئی تھی، ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آگئی

 

دنیا کا وہ شرمناک ترین ناول، جس پر 200سال قبل پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں تباہ کر دی گئی تھیں، ایک بار پھر منظرعام پر آ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ کتاب گرافک سیکس ناول ہے جو فرانسیسی فلسفی اور مصنف مرکوئس ڈی سیڈنے 1797ءمیں خفیہ طور پر شائع کیا تھا۔ اس ناول میں تصاویر کے ذریعے مردوخواتین کو گروپوں کی شکل میں جنسی عمل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس میں پرتشدد جنسی عمل اور جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

1803ءمیں اس شرمناک ناول کے مصنف کو پاگل قرار دے دیا گیا تھا، جو اپنی جنسی بدخصلتی اور سکینڈلز کی وجہ سے دنیا میں بہت بدنام تھا۔ فرانسیسی رائل کورٹ نے 1815ءمیں اس کے ناول پر بھی پابندی عائد کر دی اور حکم دیا کہ اس کی تمام کاپیاں تباہ کر دی جائیں۔بعد ازاں فرانسیسی بادشاہ نپولین بوناپارٹ نے اس مصنف کو بھی قید کر دیا اور اس نے زندگی کے باقی 13سال قید میں ہی گزارے اور جیل میں ہی مر گیا۔

عدالت کے حکم کے مطابق اس کی تمام کاپیاں تباہ کر دی گئیں لیکن 6کاپیاں، جو نجانے کیسے بچ گئیں، اب ایک بار پھر منظرعام پر آ گئی ہیں۔یہ کاپیاں لندن کے ایک گھر سے دریافت ہوئی ہیں۔ گھر کا مالک ناول کی ان کاپیوں کو بے وقعت سمجھتا رہا۔ پھر اس نے اپنی جائیداد کی قیمت کا تخمینہ لگوایا، جس میں یہ کتابیں بھی شامل تھیں تو ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ بہت نایاب کتابیں ہیں اور ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اب یہ کتابیں سٹافرڈ شائر کے بشٹن ہال میں نیلامی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں۔ یہ بولی15اکتوبر کو ہینسنز آکشنیئرز کے زیراہتمام ہوگی۔ ہینسنز کے لائبریری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جم سپینسر کا کہنا تھا کہ ”ناول کی یہ کاپیاں 3ہزار پاﺅنڈ(تقریباً4لاکھ 84ہزار روپے) سے 5ہزار پاﺅنڈ(تقریباً 8لاکھ روپے) فی کاپی کے حساب سے فروخت ہونے کی توقع ہے۔“

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں