شاپنگ سینٹر میں ملی ایک مشکوک سی اجنبی لڑکی


زندگی کے چار سال ملتان کے نام کرنے کے بعد میں نے نوکری بھی ملتان میں ہی کر لی۔ یونیورسٹی کے چار سالوں میں بہت سے اجنبی ملے جو بعد میں دوست بن گئے مگر ایسا اجنبی کبھی نہیں ملا۔ اس اجنبی کی کہانی بھی آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے۔ خیر چند روز قبل میری بہن مجھ سے ملنے ملتان چلی آئی، میں نے بھی سوچا کہ چلو بہن کو صوفیاء کی سرزمین کی سیر کرواتی ہوں۔ ملتان گھمایا اور شام کے وقت ایک شاپنگ مال میں جا کر کچھ گھنٹے قیام کیا۔ بہن کافی دنوں بعد ملی تھی سو ہم نے آئس کریم کھائی اور بیٹھ گئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹنے۔

کچھ دیر بعد ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر 21 یا 22 سال کی لڑکی پر میری نظر پڑی جو کافی دیر سے اکیلی بیٹھے شاید کسی کے انتظار میں تھی۔ سبز رنگ کی شرٹ گہرے نیلے رنگ کی پتلون اور لمبے کھلے بالوں میں ملبوث قریب 5 فٹ قد، مناسب نقش اور رنگ گورا۔ دیکھنے میں جاذب نظر لڑکی تھی اسی لئے میری توجہ اس کی طرف بار بار جا رہی تھی۔ کچھ دیر میں کہیں سے کوئی لڑکا اس کے پاس آ کر بیٹھا اور پوچھنے لگا کہ سب ٹھیک جا رہا ہے؟ تو لڑکی کہنے لگی ہاں ٹھیک جا رہا ہے، وہ ہی روٹین چل رہی ہے۔ بس اتنی سی بات کر کے لڑکا اٹھا اور شاپنگ مال میں کہیں نظر سے اوجھل ہو گیا۔

چند منٹ اور گزرے وہ لڑکی ہماری طرف دیکھتی رہی اور کبھی موبائل میں کال ملاتی رہی۔ 15 منٹ بعد ایک خاتون ایک بہت خوبصورت بچے کے ساتھ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی خاتون کے آدھے منہ پر نقاب تھا مگر چہرہ نظر آرہا تھا۔ چادر میں سے کچھ بال بھی نظر آرہے تھے جو کہ کالے رنگ کے تھے اور عمر کوئی 35 سال یا تھوڑی زیادہ لگ رہی تھی۔ بہر حال سنہری بالوں والا گورا چٹا بچہ دیکھنے میں پٹھان لگ رہا تھا۔ لڑکی اور خاتون نے سلام دعا کی ایک دوسرے کا حال چال پوچھا اور باتوں میں مشغول ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد خاتون نے لڑکی کو اپنے بیٹوں کی تصاویر دکھانا شروع کر دیں اور بتایا کہ ایک بیٹا فوج میں ہے ایک اسلام آباد میں جاب کرتا ہے اور شادی شدہ ہے جبکہ ایک بیٹا ملتان میں ہی رہتا ہے اور وہ بھی شادی شدہ ہے۔ ایک بیٹی بھی ہے۔ بس میں بھی یہاں تک ہی سن سکی ان کی باتیں اور بور ہو کر واپس اپنی بہن کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی۔

جیسا کہ پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ بچہ بہت خوبصورت تھا اور شرارتی بھی تو نظر خود بخود اس کی طرف جا رہی تھی۔ اور آجکل جو یہ ٹک ٹاک موبائل ایپلیکیشن نے سب کو اداکار بنا دیا ہے تو وہ بچہ بھی اسی ایپلیکیشن کے باعث تھوڑی سی اداکاری کا شکار تھا۔ ہوا یہ کہ لڑکی نے موبائل میں ٹک ٹاک پر گانا لگا کر کیمرا بچے کے سامنے کیا اور بچہ بھی کسی فلمی ہیرو کی طرح ناچ ناچ کر اداکاری کرنے لگا بس یہ ہی وہ وقت تھا جب ہم دونوں بہنیں اس بچے کی طرف مائل ہوئیں اور ہم اسے دیکھ کر مسکرانے لگے۔

مسکرانے کی دیر تھی کہ اس خاتون اور لڑکی نے ہم سے باتیں کرنا شروع کر دیں اور نام، پتہ، کام، تعلیم، حسب نثب سب کچھ دریافت کرنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی لڑکی بچے کو آئس کریم دلوانے لے کر گئی تو بظاہر سلجھی ہوئی سمجھدار خاتون نے ہم سے پوچھا کہ کیا آپ ٹک ٹاک ایپلیکیشن استعمال کرتی ہیں؟ تو یہ سن کر میرے حیرانی کا عالم بھی دیدنی تھا اور میں نے دل میں سوچا کہ آنٹی جی آپ سے اس سوال کی توقع ہر گز نہ تھی خیر چاہتے نا چاہتے ان کے سوال کا جواب تو دینا تھا چنانچہ میں نے کہا کہ نہیں آنٹی جاب کرتی ہوں مصروف روٹین ہے وقت ہی نہیں ملتا ایسی چیز استعمال کرنے کا اور آنٹی نے بھی جواب سن کر جان نہیں چھوڑی بلکہ موبائل پر کسی لڑکے کی ٹک ٹاک ویڈیو ہمیں دکھانا شروع کر دی کہ یہ میرے گھر والے لوگ ہیں۔

دیکھنے میں ویڈیو والا لڑکا 30 سے 32 سال کا لگ رہا تھا میں نے پوچھا کہ آنٹی یہ آپ کے خاوند ہیں کیا؟ تو وہ ایک دم سے بولی ہاں جی اور ساتھ ہی بولیں کہ نہیں نہیں یہ میرا بیٹا ہے اور اس کے ساتھ میری بہوں ہے اور یہ بچہ جو میرے ساتھ آیا ہے یہ انہی کا بیٹا ہے۔ اسی وقت سے میری چھٹی حس نے کام کرنا شروع کر دیا کہ ”کچھ تو گڑبڑ ہے“۔ اس آنٹی کی عمر کم سے کم 35 سے 37 سال لگ رہی تھی اور ویڈیو والا 30 سے 32 سال کا لڑکا کہیں سے بھی اس کا بیٹا معلوم نہیں ہو رہا تھا خیر۔ پھر خاتوں کو تو دیر ہو رہی تھی اجازت لے کر چلی گئی اور جاتے ہوئے خاتون نے لڑکی کو (جس نے ہمیں اپنا نام خدیجہ بھی انگلش سٹال میں بتایا) کہا کہ آپ کی گاڑی تو نیچے کھڑی ہے نا جس پر خدیجہ نے جواب دیا کہ جی ڈرائیور نیچے انتظار کر رہا ہے میرا، مگر میں تھوڑی دیر بعد جاوں گی۔ اور لڑکی ہماری ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی۔

اس نے پوچھا آپ دونوں یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں؟ جس پر میں نے کہا نہیں میں جاب کرتی ہوں میں جرنسلٹ ہوں اور میری بہن نے فیشن ڈیزائننگ کی ڈگری مکمل کر لی ہے۔ یہ بات سن کر وہ ہم میں اور زیادہ دلچسپی لینے لگی اور بتانے لگی میں بھی آرٹس میں بی ایس کر رہی ہوں۔ پھر اس نے مجھ سے میرا گھر دریافت کیا تو میں نے کہا میں ہاسٹل میں رہتی ہوں تو اس نے فوراً کہا کہ میرے 4 گھر ہیں 2 بلکل خالی پڑے ہیں آپ چاہو تو بغیر کرایہ دیے ایک گھر میں رہ سکتی ہو۔

میں نے سوچا آجکل کے زمانے میں ایسا فرشتہ کہاں سے آگیا۔ اور اس نے یہ بھی بتایا کہ میرے والدین سعودیہ عرب میں رہتے ہیں جبکی تین بہنوں کی شادی ہو چکی ہے تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہاں کیسے چھوٹی سی لڑکی اکیلے رہتی ہے اور والدین کو سعودیہ میں اتنا کیا کام عزیز ہے جو بچی کو اکیلا چھوڑ کر خود وہاں چلے گئے ہیں اور پھر وہ لڑکی میرے دماغ میں دھماکے پر دھماکہ کرتی گئی۔

میں نے سوچا اس نے ہمارا پورا انٹرویو کر لیا ہے یہاں تک کہ سالگرہ کی تاریخ تک پوچھ لی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے اندر کے صحافی کو جگاؤں۔ پھر میں بھی سوال کرتی گئی اور اس کے جواب مجھے حیران و پریشان کرتے گئے۔ میں نے پوچھا یہ آنٹی آپ کی کیا لگتی ہیں تو وہ کہنے لگی کہ یہ میری دور کی رشتہ دار ہیں ہم کبھی کبھار باہر مل لیتے ہیں میں نے تو ان کے بیٹے بھی کبھی نہیں دیکھے بس دور کے رشتہ دار ہیں اس پر میں خوب حیران ہوئی کہ اچھا تو دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دور کہ رشتہ داروں کو گھر سے باہر ملا جاتا ہے جن کہ بچوں تک سے آپ کبھی نہ ملے ہوں۔

پھر وہ کہنے لگی میں لاہور بھی جاتی رہتی ہوں آپ مجھے اپنا نمبر دے دو اب سے ہم دوست ہیں۔ مجھے فلم مزے کی لگنے لگی تو میں نے بھی اپنا نمبر دے دیا۔ کہنے لگی کہ میری سالگرہ 20 دن پہلے گزری ہے میں نے ملتان میں بھی سالگرہ منائی، لاھور میں بھی منائی اور دستوں کے ہمراہ نتھیا گلی میں بھی سالگرہ منائی اور اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکی تھی کہ میرے زیادہ دوست نہیں ہیں۔ تو بس میں بھی اس کی گپ سنتی گئی اور ڈور لپیٹتی گی۔

پھر کہنے لگی آپ مجھے بہت اچھی لگی ہو آو سینما چل کر کوئی فلم دیکھتے ہیں میں نے سوچا یہ بی بی پہلی ملاقات میں کسی اجنبی سے اتنا فری کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے بے حد اصرار پر میں نے کسی بھی عقلمند انسان کی طرح بے حد انکار کیا اور دوست کی شادی پر جانے کا بہانہ بنا دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

شیزہ کوثر کی دیگر تحریریں
شیزہ کوثر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں