عمران خان کی ریاست مدینہ نے یتیم بچوں کا کھانا کیوں بند کیا؟


اور یوں بھی ہوا کہ تبدیلی کے دعویدار تحریک انصاف حکومت میں بیت المال کے ماتحت ادارے سویٹ ہوم کے ملک بھر میں موجود یونٹس کا بجٹ روک دیا گیا ہے۔ جس سے ملک کے کونے کونے میں سویٹ ہوم کے زیر سایہ یتیم بچے ایک بار پھر یتیم ہو گئے ہیں۔ ان یتیم بچوں کی خوشیوں، مستقبل کے سہانے خواب اور برابر کے شہری ہونے کے ناز کو یو ٹرن دلایا جا رہا ہے۔ یتیم بچے جنہوں نے اپنے ماں باپ کے غم کو بھلانے کی کوشش ہی کی تھی کہ ریاست کے ایک ادارے نے ماں بننے اور آنسو پونچھنے سے انکار کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت کے زیر اثر بیت المال ادارے کو غریب لاچاروں اور پسے ہوئے لوگوں کی مدد کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اور ادارے نےاس فرض کوپورا کرنے کے لئے متعدد پروگرام بھی شروع کیے ہوئے ہیں جس میں یتیم بچوں کی کفالت کے لئے سویٹ ہوم زیلی ادارہ بھی شامل ہے۔ سیلاب، دھشت گردی کے خلاف قبائلی علاقوں میں آپریشن کے نتیجہ میں متعدد بچے یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش، رہائش، تعلیم وتربیت کے لئے سویٹ ہوم قائم کیا گیا تھا۔ دریں اثنا چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں 32 سویٹ ہوم موجود ہیں۔ کراچی میں سویٹ میں 300 سے زیادہ یتیم بچے ہیں باقی ہر یونٹ میں 100 بچے موجود ہیں۔ بیت المال کی جانب سے ماہوار15 لاکھ رقم ایک سویٹ ہوم کو جاری کی جاتی ہے جس میں ساڑھے 3 لاکھ یتیموں کے تین ٹائم کھانوں میں خرچ ہوتے ہیں باقی عمارت کا کرایہ، یوٹیلٹی بل، ملازمین کی تنخواہیں، تعلیم اور بچوں کے بیمار ہونے کی صورت میں طبی معائنہ پر خرچہ شامل ہے۔

کی پی کے اور پنجاب کے سویٹ ہوم سے مجھے فون آئے اور تین ماہ سے ان کو فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے یتیم بچوں کی حالت زار کے متعلق آگاہی دیتے ہوئے دہائی دی کہ عوام نے عمران خان کو کے پی کے اور پنجاب میں مینڈیٹ دیا کہ وہ درخت کی مانند گھنا سایہ بنیں گے لیکن ملازمین کو تنخواہ تو اپنی جگہ لیکن یتیم بچوں کے نوالے کا بجٹ بھی روک دیا گیا ہے۔ اس ظلم کی داستان ملک بھر میں 32 سویٹ ہوم کے انچارج صاحبان نے عمران خان صاحب کی سربراہی میں چلنے والی وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے کہ مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب پانی سر سے گزر رہا ہے۔

تین ماہ سے ان کی بچے اور یتیم بچے بھوکے ہیں۔ بچے اسکول نہیں جا رہے۔ بیمار بچوں کا علاج نہیں ہو رہا انہیں کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد سے پیسے آئیں گے تو آپ کو جینے کا حق مل سکے گا۔ سویٹ ہوم کے ایک انچارج نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ مجھ سے ان یتیم بچوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی اور شہر کے ایک مخیر شخص سے مدد کی ہے جب وہ بھی پیسے ختم ہوئے تو میں نے ادھار لے کر بھی یتیم بچوں کو کھانا دیا لیکن اب میری ہمت جواب دے گئی ہے۔

کراچی سویٹ ہوم میں جہاں 300 سے بھی زائد یتیم بچے ہیں، بل کی عدم ادائیگی کے باعث بجلی کاٹ دی گئی اور بچے جو اندھیرے سے روشنی میں آئے تھے ایک بار پھر اندھیرے میں آگئے۔ انتظامیہ اور شہر کے سماجی ورکرز کی جانب سے منت خوشامد کرنے کے بعد کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے ترس کھا کر بجلی بحال کردی۔ سویٹ ہوم کے ملازمین اپنے ہیڈ آفس بات کرتے ہیں کہ مسائل حل کریں تو انہیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ وزیراعظم صاحب ادارے کے متعلق تفصیلی بریفنگ لیں گے اور وہ بعد میں فیصلہ کریں گے کہ ادارے کو کیسے چلانا ہے تب تک یتیم انتظار کریں۔

یہ ساری رام کہانی تو ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ عمران خان جو پوری عمر غریب، لاچار اور مسکین لوگوں کی داد رسی کی بات کر کے مخالف حکومت کو کوستے تھے اب ان کی حکومت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی بڑھا دی ہے اور اس جواز کے بہانے بیوپاریوں نے اپنے طور پر مصنوعی مہنگائی بھی کردی ہے۔ اسلام آباد میں ہی سبزیوں اوراشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئی چیک بیلنس نہیں ہے لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں۔

لوگ اس تبدیلی کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کے بجائے اتنے اضطراب میں کیوں ہیں۔ حکومت سوالیہ نشان کیوں بن گئی ہے۔ گلگت، کراچی، کوئٹہ، لاہور سے پشاور تک عام لوگ اور سویٹ ہوم کے یتیم بچے تبدیلی کی طلسماتی صبح پر سوچ رہے ہیں کہ ہم نے نئے پاکستان کے لیے جو سوچا تھا اور یہ سحر وہ سحر تو نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

گوہر گھانگھرو کی دیگر تحریریں
گوہر گھانگھرو کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں