ٹیگور کے 1896 سے 1996 تک


اگر آپ کِسی خُوبصورت پہاڑی عِلاقے میں ہوں ، صُبح کو آپ جب سو کر اُٹھیں اور اپنے کمرے کی کھڑکی کھولیں اور سامنے پہاڑوں سے آتی ہُوئی ٹھنڈی اور مِیٹھی ہوا آپ کے چہرے کو چُھو کر اِس پر اپنی محبت کی مُہر ثَبت کرے ، یا آپ پُر سُکون بیٹھے ہوں کِسی بھی پہر میں اور سامنے سر سبز اور دلکش پہاڑوں سے ٹھنڈی اور صاف ہوا آرہی ہو اور یہ مَست ہوا مانو جیسے آپ سے سرگوشیاں سِی کرتی ہو ۔ سامنے کھِلتے ہُوئے پُھول اور اُن کی ایگزوٹِک خُوشبُو جیسے آپ کو کہیں دُور بُہت دُور ماضی میں لے جائے یا مُستقبل میں !

بس آپ اُس پَل سے آزاد ہو جائیں جِس میں آپ زندہ ہیں ، کہیں شاید افسوس کی اِک لہر بھی کہ یہ نظارے یہ ہوا ، یہ کلیاں ، یہ گلیاں ، یہ پُھول ، رنگ اور خُوشبُو ہم سے پہلے بھی یہیں تھے اور ہمارے بعد بھی یہیں رہیں گے ، بس ہم نہ ہوں گے ۔

آج اِس کھڑکی میں جہاں شاعر کھڑا ہے 1896 میں وہاں کبھی کُوئی سو سال بعد کھڑا ہوگا شاید اُسے کبھی میری بات سمجھ آسکے ۔ دُور اُفق نظر آرہا ہے میری بالکونی سے ، میں خیالوں کے جنگل میں جیسے کھو جاتا ہُوں ، پُھولوں کی خُوشبُوؤں میں ، جنگل سے آنیوالی پرندے کی آواز میں ، جیسے کُوئی جادُو سا چھانے لگا ہو ۔

بتا نا اے میرے دوست ! کون ہو تُم جو آج یہ سب پڑھ رہے ہو ؟ 1996 میں آج سے ٹھیک سو سال پہلے 1896 میں میں نے یہ لکھا تھا ۔ جو تُم آج یہ سب محسُوس کررہے ہو وُہ میں نے تب محسُوس کیا تھا ۔ آج سے سو سال پہلے ، اِن سب گُزرے سالوں کی خُوشی تُمہیں دینا چاہتا ہُوں ۔ میں سو سال پہلے کے پُھولوں کی خُوشبُو ، بہار کے موسم کا رنگ ، شہد کی مکھیوں کی میٹھی میٹھی بھِن بھِن ، پتوں کی سرسراہٹ ، سب لے لو ، اپنے دِل کی دھڑکن میں شامِل کرلو ۔۔۔۔۔

یہ نظم بھی جیسے ایک شاعر کا نوحہ ہو یا خواب ہو کہ کل جب میں نہیں ہُوں گا تو کُوئی نہ کُوئی میری سوچ کو ، تخیل کو ، میرے گیت کو ، خواب کو محسُوس کرے ، یہ سب ضائع نہ جائے ۔ تخیل اور سوچ بُہت قیمتی ہوتے ہیں اِنہیں خُود تک محدُود نہیں رکھنا چاہئیے ۔

A hundred years from now
Who is the new poet singing his songs to you?
Across the years I send him
The joyous greeting of this spring.
May my song echo for a while,
On your spring day,
In the beating of your heart,
In the murmur of bees,
In the rustling of leaves,-
A hundred years from today.
[ Who are you, reader, reading my poems an hundred years hence ? ]
Last stanza from poem , ‘ 1996 ‘ by Rabindranath Tagore (written in February 1896 . )

رابندراناتھ ٹیگور (1941-1861 ) کے برِصغیر کے بنگالی شاعر ، ڈرامہ نگار ، ناولسٹ ، موسیقار ، پینٹر اور شارٹ سٹوری رائیٹر تھے ۔ 1913 میں ٹیگور کو ادب کا نوبل ایوارڈ دیا گیا ۔آپ ٹیگور کو برِصغیر کا شیکسپئیر سمجھ لیں ، ٹیگور کے قد کا اور کوئی ادیب کم از کم میری نظر سے نہیں گُزرا ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں