تبدیلی اور ہماری بے بسی


Picture_Zubair Torwaliیہاں تبدیلی سے مراد کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ وہ عمل ہے جو انسانی سماج، ثقافت اور معاشرت میں آفرینش سے جاری و ساری ہے۔ تبدیلی ایک فطری ارتقائی عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جدّت بھی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کائنات میں مستقل اگر کوئی چیز ہے تو وہ تبدیلی ہے۔ علاّمہ اقبال نے بھی کہا ہے۔۔

ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں

اسی طرح حیاتیات اور بشریات کے سب سے مقبول نظریے کے مطابق ارتقاء کا عمل مستقل ہے۔ جس طرح طبعی لحاظ سے ارتقاء فطری ہے اسی طرح بشریات اور سماجیات کے اکثر ماہرین کے نزدیک معاشرتی و سماجی ارتقاء بھی جاری و ساری ہے۔

تاہم لفظ ارتقاء کی بجائے اگر تبدیلی کا لفظ استعمال کیا جائے تو زیادہ زیادہ جامع لگتا ہے کیونکہ ترقی یا ارتقاء کے لفظ سے درجاتی تفریق کی طرف اشارہ ہوتا ہے جسے آج آج کل عمودی لیا جاتا ہے۔ ترقی کا عمومی مفہوم کسی بری حالت سے اچھی حالت میں یا پھر کمتر درجے سے بالاتر درجے میں منتقلی لیا جاتا ہے۔ ہمیں شائد کوئی ایسا فیصلہ صادر کرنے میں تَرَدُّد ہوگا کہ آج کا انسان غار میں رہنے والے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ مانا کہ آج کے انسان کے پاس سہولیات زیادہ ہیں اور اس کی زندگی آسان ہے اور ہیی ترقی ہے مگر کیا آج کا انسان غار کے دور کے انسان سے زیادہ خوش ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں۔

’فطری ریاست Nature State) ) کے مداح ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ اس وقت کے انسان زیادہ مساوی تھے اور اسی لئے ان کو کسی بڑے اور پیچیدہ ضابطہ حیات کی ضرورت نہیں تھی، ان کی اوقات ایک جیسی تھی اور ان میں ’مقابلے یا موازنے ‘ کا رجحان نہیں تھا جبکہ، وہ کہتے ہیں، آج کا انسان غیر مساویانہ سماجی و معاشی سانچوں میں بٹا ہوا ہےاور اس سماجی سانچے کو برقرار رکھنے کے لئے اُس نے مختلف نظریے گھڑے ہیں اور اسی طرح پیچیدہ ضابطے بنائے ہیں۔ اسی سانچے کو برقرار رکھنے کے لئے انسان نے جنگیں ایجاد کی ہیں اور مہلک ہتھیار بنائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس غیرمنصفانہ اور ظالم ضابطے کو ختم کرکے اسی فطری ریاست یا حالت میں انسان کو واپس جانا چاہیے۔

لیکن یہ قضیہ اپنی جگہ موجود ہے کہ انسان نے اس فطری حالت کو کیوں تبدیل کیا۔ اس کی ایک توجیح یہ کی جاسکتی ہے کہ تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے اور ہم اس کو روک نہیں سکتے کیوںکہ اس کا تعلق ’طاقت ‘ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ طاقت فطری مظاہر کی ہو یا پھر انسانی، تبدیلی کو آگے لے جانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ طاقت کے مظاہر اور ذرائع مستقل نہیں رہتے۔ غار کے جسمانی طور پر طاقتور انسان نے دوسروں کو زیر کیا اور اپنے پاس وسائل زیادہ رکھے۔ آج کے طاقتور انسان وہ ہیں جن کے پاس علم و سائنس کی بنیاد پر معاشی کنٹرول زیادہ ہے اور اس کے بل بوتے پر وہ سیاسی کنٹرول بھی حاصل کرچکے ہیں۔

ایک مغالطہ کہ مذہب اور عقائد کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان کے قدیم ترین عقائد آج بھی زندہ ہوتے اور آج کے مروجہ مذاہب کے انتے فرقے، مسالک اور مکاتب فکر بھی نہیں ہوتے۔ اوپر ذکر کیا گیا کہ تبدیلی کا بنیادی محرّک ’طاقت ‘ ہے۔ یہ طاقت کئی ذریعوں سے انسانی معاشرے میں کارفرما ہوتی ہیں اور یوں سماج اور اس کے ہر مظہر میں تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔

تبدیلی کے قدرتی محرّکات میں قدرتی آفات اور مظاہر شامل ہیں۔ علم بشریات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ انسانی عقائد کے پیچھے بھی ان قدرتی مظاہر جیسے سورج، چاند، ستارے، سمندر، پہاڑ، جنگلات وغیرہ کا بڑا دخل رہا ہے۔ انسانی عقائد سے جڑی اساطیری و لوک کہانیاں ہوں یا پھر سائنس کی ابتداء سب پر ان مظاہر کا غلبہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح قدرتی افات جیسے کہ زلزلے، سیلاب اور زمین کی کٹائی بھی انسانی فکر اور طرز زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

تبدیلی کے غیرفطری محرّکات میں جنگیں، انسانی ہجرت، تعلیم، معیشت، میڈیا وغیرہ نمایاں ہیں۔ انسان کی تاریخ میں کئی تہذیبیں اب صرف آثارقدیمہ میں پائی جاتی ہیں، کئی زبانیں اور ثقافتیں ناپید ہوچکی ہیں۔ ان کے خاتمے میں جنگوں اور ان کی بدولت انسانی ہجرت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح تعلیم تبدیلی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جسے انسان اکثر اپنی خوشی سے اپناتا ہے۔ مروجّہ تعلیم بھی طاقتور قوتوں کا دوسروں پر اپنی طرز زندگی کو آہستہ آہستہ لاگو کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس کی بڑی مثال نو آبادیاتی دور ہے جب طاقتور قابض قومیں اپنی ثقافت، سوچ اور طرز زندگی کو دوسروں پر تعلیم کے ذریعے ہی لاگو کرتے تھے۔ اسی طرح میڈیا کا بھی کردار ہے۔ یہ سب معیشت سے جڑے ہیں۔

تبدیلی کے ان ذریعوں کا ایک ایسا جال بن جاتا ہے کہ جہاں ہر جُز کُل کو اور کُل ہر جُز کو جُڑتا ہے۔ یعنی معیشت، تعلیم، میڈیا، ثقافت، زبان اور فکر آپس میں بہ یک وقت ایک دوسرے کی وجہ (causes) بھی ہیں اور اثر (effects ) بھی۔

ہم تبدیلی کے ان دو طرح کے محرّکات کے سامنے بے بس ہیں۔ قدرت تو کسی کے اختیار میں نہیں۔ جبکہ تبدیلی کے دوسرے عوامل بھی ہمارے اختیار میں نہیں رہے۔

آج کے دور میں اس انسانی تبدیلی (man made change) کے سارے ذریعے مغربی اقوام کے پاس ہیں۔ ہمارے معاشروں میں شور تو مچتا ہے لیکن اس تبدیلی کو روکنا تو درکنار اس رو کو ’تبدیل‘ کرنا بھی ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ہم ایک مدّت کے لئے شور مچاتے ہیں پھر اسی تبدیلی میں ڈھل کر کسی آنے والی تبدیلی کے خلاف شور مچانے لگ جاتے ہیں۔ مثلاََ لاؤڈ سپیکر کی ایجاد کے بعد ہمارے دینی علماء نے اس کو خلاف شرع کہا مگر آج کی صورت حال یہ کہ شاید ہی کوئی مسجد لاؤڈسپیکر کے بغیر ہو۔ اسی طرح تصویر کو شرک کہا گیا لیکن مارک زکربرگ نے فیس بک بنا کر یہ مسئلہ بھی حل کردیا۔ جو لوگ تصویر کے مخالف تھے انہوں نے ویڈیو خطابات شروع کئے اور فیس بک کو بکثرت استعمال کرنے لگے۔ آج سے چار پانچ دہائی قبل ہمارے دیہات میں ٹی وی کا ہونا معیوب تھا۔ لیکن آج شاید کوئی گھر ایسا نہیں جہاں یہ بکس نہ پڑا ہو۔ اگر ٹی وی نہیں تو سمارٹ فون ہر ایک کے پاس ہوگا جو نہ صرف چھوٹا ٹی وی بلکہ کیمرہ بھی ہوتا ہے۔

زبان و ثقافت کا ایک ادنیٰ طالب علم اور کارکن ہونےکی حیثیت سے میں ملک میں معدوم ہوتی ہوئی زبانوں اور ثقافتوں کی بقا اور فروغ میں دلچسپی لیتا ہوں۔ لیکن مجھے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ عالمگیریت کی اس عفریت کے سامنے ہماری یہ لاغر کوششیں بھلا کیسے ٹک سکتی ہیں کیوں کہ ان چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کے امین لوگ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت کمزور واقع ہوئے ہیں۔ ان کے پاس سیاسی قوت ہے نہ معاشی۔ یہ لوگ تعلیم سے آراستہ ہیں نہ ہی ٹیکنالوجی ان کی دسترس میں ہے۔ اگر ہم زبان و ثقافت کی بقا کی خاطر ان لوگوں کو ’ترقی ‘ کرنے سے روکتے ہیں تو یہ لوگ گیٹو (ghetto) بن جائیں گے۔ زبان و ثقافت کو سیاست، معیشت اور اور عمومی ترقی سے الگ کر کے نہیں بچایا جاسکتا۔ اسی فکر کے زیر اثر کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ان زبانوں اور ثقافتوں کو ان لوگوں کی مربوط ترقی یعنی تبدیلی کے ساتھ جوڑا جائے۔ یعنی ناگزیر تبدیلی کا انتظام اس طرح کیا جائے کہ یہ زبانیں اور ثقافتیں محفوظ بھی رہیں  اوریہ ترقی بھی کر سکیں۔

اس کے لئے سب سے معتبر لائحہ عمل ان زبانوں اور ثقافتوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنا ہے اور ساتھ ساتھ ابلاغ کے جدید ذریعوں میں ان کا استعمال موثر ہوسکتا ہے۔ تعلیم میں ان زبانوں اور ثقافتوں کے شامل کرنے سے نہ صرف تعلیم معیاری اور شرکتی(inclusive and equitable ) ہوگی جس کی تائید اب پائیدار ترقی کا ہدف نمبر4(Sustainable Development Goal) بھی کرتا ہے بلکہ اس سے یہ معدوم ہوتی زبانیں اور ثقافتیں بھی فروغ پائیں گی۔

’تبدیلی ‘ کے بعض مخالفین کہتے ہیں کہ وہ صرف اس تبدیلی کو لائیں گے جو ’سماج ‘ کو قابل قبول ہو۔ ہم کون ہوتے ہیں؟ ہماری کیا اوقات ہے کہ تبدیلی کے اس عمل کو روک سکیں یا پھر اسے اپنی مرضی کے مطابق بنا سکیں۔ ہم کچھ عرصہ شور ضرور مچاسکتے ہیں لیکن اس کے بعد اسی تبدیلی کو اپنا کر اگلی کا انتظار کرتے ہیں۔

ہم چونکہ صرف صارفین ہیں اس لئے ہم اس تبدیلی کو روک نہیں سکتے۔ احمقانہ مخالفت سے اپنے معاشرے میں مزید انتشار اور نفرت ہی پیدا کرسکتے ہیں جس کا اظہار شدّت پسندی جیسے رویّوں سے ہوتا ہے۔ دوسروں کو اس کی مخالفت میں لگا کر خود اس تبدیلی سے مستفید ہونے لگتے ہیں جیسے کہ ہمارے ملک کے اکثر سیاستدان اکثر مغرب کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ قوم کے بیٹوں کو اس نفرت کی آگ میں جھونکتے ہیں اور اپنی اولاد کو اسی مغرب میں تعلیم و روزگار دلانے میں لگ جاتے ہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments