بندر بانٹ نہیں، بانٹ برت کی ضرورت ہے!


نئی حکومت نے پانچ لاکھ روزگار پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ نیک خواہش ہے، جس کو سراہنے کی ضرورت ہے؛ چنانچہ پیشگی مدح سرائی میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ حکومتیں کوئی غیر منافع بخش تنظیم یا خیراتی ادارہ نہیں ہوتیں کہ کہیں سے کوئی بجٹ ہاتھ لگا تو کام کر لیا، اور باقی عرصہ کہیں سے مالی وسائل کی امید یا تلاش میں گزار دیے۔ جس ملک میں کروڑوں لوگ بے کار ہوں، بے روزگار ہوں، وہاں چند لاکھ روزگار پیدا کرنا اچھی خبر ہے، مگر اس سے بے روزگاری کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ سرکار کی پالیسی کا نقطۂ ماسکہ چند لاکھ لوگوں کو روزگار مہیا کرنا نہیں، بے روزگاری کو بطور مسئلہ ختم کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں دوسرے ممالک کے کامیاب تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کم بے روزگاری کس ملک میں ہے۔ اور وہاں ایسا کیوں ہے۔

ترقی یافتہ دنیا میں بے روزگاری عام طور پر ایک فیصد سے چھ سات فیصد کے درمیان اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ یہ معیشت کے اتار چڑھاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔ مگر ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگاری الاؤنس اور دوسرے کئی متبادل موجود ہوتے ہیں؛ چنانچہ یہاں کا بے روزگار شخص ہمارے بے روزگار کی طرح فاقہ کشی کرنے، قرض اٹھانے یا بھیک مانگنے پر مجبور نہیں ہوتا۔ ترقی یافتہ دنیا میں جو فلاحی ریاستیں ہیں ان میں بے روزگاروں کو با عزت الاؤنس، دوبارہ تعلیم و تربیت اور کام تلاش کرنے کے لیے سرکاری اعانت اور تعاون حاصل ہوتا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں بے روزگاری کے بھیانک مسئلے کا ان ممالک کے ساتھ تقابل بنتا نہیں۔ اس باب میں تیسری دنیا کے غیر ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھنا چاہیے۔

اگر کچھ اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو دنیا میں سب سے کم بے روزگاری قطر میں ہے۔ اس باب میں کمبوڈیا کا نام بھی آتا ہے۔ ان دونوں ملکوں میں بے روزگاری کی شرح زیرو اعشاریہ ایک فی صد ہے۔ کچھ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کیوبا ایسا ملک ہے، جس میں بے روزگاری کی شرح صفر ہے، یعنی ملک میں کوئی ایک بندہ بشر بھی بے روزگار نہیں۔

قطر کی بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے کہ یہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ سرکار کی کل آمدن کا ستر فیصد تیل سے آتا ہے۔ اس کے پاس قدرتی گیس کے تیسرے بڑے ذخائر ہیں۔ اور یہ قدرتی گیس برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ آبادی کے تناسب سے اس کے وسائل اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہاں بے روزگاری تو مسئلہ نہیں، الٹا ضروری بنیادی نوعیت کے کام کرنے کے لیے افرادی قوت میسر نہیں۔ اس سلسلے میں غیر ملکی مزدور اور افرادی قوت پر انحصار کرنا پڑتا ہے؛ چنانچہ پاکستان میں غربت و بے روزگاری کی بات ہو رہی ہو تو قطر کی مثال ہی بے محل ہے، اور اس کے تجربے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ تیل، گیس اور سونے کے جن خفیہ ذخائر کا ارباب اختیار گاہے ذکر کرتے رہتے ہیں، وہ کسی وقت حقیقت بن جائیں۔

مگر ابھی ہمیں جو معروضی حقائق درپیش ہیں، ان میں پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے، جس کے حکمرانوں کو وسائل تو کجا گردشی قرضوں کی فکر رت جگے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کہیں گرے لسٹ کا خوف ہے اور کہیں دیوالیہ ہو جانے کا فکر دامن گیر ہے؛ چنانچہ قطر کو ایک طرف رکھیے۔ رہی بات کمبوڈیا کی تو یہ بنیادی طور پر ایک غریب ملک ہے۔ اس کے پاس ہماری طرح بڑے قدرتی وسائل نہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کا یہ ایک غیر اہم ملک ہے۔ دو عشرے پہلے وہاں غربت ہم سے زیادہ تھی۔ پھر ایسا کیا معجزہ ہوا کہ یہ ملک سویڈن، ناروے جیسے ممالک سے بھی کم بے روزگاری کے اعداد و شمار دکھاتا ہے۔ میں نے ایک پروفیسر سے یہ سوال پوچھا، جس سے میں اکثر اس طرح کے مشکل سوال پوچھتا رہتا ہوں۔ اس سوال پر پروفیسر نے حسب عادت قہقہہ نہیں لگایا۔ اس کے برعکس اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی، جس میں غصے کا ہلکا سا تاثر بھی تھا۔ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں، جن کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے جانے کیوں تسلیم کر لیا۔

پروفیسر نے میز پر زور سے مکہ مارتے ہوئے کہا: آج عالم یہ ہے کہ کمبوڈیا میں جو شخص اپنے گھر کے بیک یارڈ میں ٹماٹر کے دو پودے اگاتا ہے، سرکار اسے کسان سمجھ کر برسر روزگار شخص قرار دے دیتی ہے۔ جو شخص ہفتے میں دو گھنٹے کام کرتا ہے، اسے بھی با روزگار سمجھا جاتا ہے۔ کوئی نوجوان جو گاہے اپنے والدین کے فارم پر ان کا مفت ہاتھ بٹا دیتا ہے، وہ بھی سرکاری کاغذوں میں پکا ملازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ عوام کے ساتھ فراڈ ہو رہا ہے، جس کا ایک طویل نفسیاتی پس منظر ہے۔

تاریخی اعتبار سے بے روزگاری کمبوڈیا کا ایک بڑا مسئلہ ہی نہیں، ایک کلنک بن چکا تھا۔ یہاں غربت اور بے روزگاری کا یہ عالم تھا کہ لوگ ایک ڈالر پر اپنے نا بالغ بچے، بچیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے تھے۔ سرکار بے روزگاری کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی۔ پڑوسی ممالک بہت آگے نکل گئے؛ چنانچہ اس نے اس مسئلے پر ایک خوش کن بیانیہ تخلیق کیا۔ سرکاری طاقت اور اثر و رسوخ سے اس بیانیے کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔ اگر یہاں بے روزگاری صفر ہے، تو آج بھی ہزاروں کی تعداد میں یہاں کے لوگ تھائی لینڈ اور دوسرے پڑوسی ممالک میں روزگار کی تلاش میں مارے مارے کیوں پھرتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ حکومتیں بسا اوقات گمبھیر مسائل کا کاسمیٹک حل نکالتی ہیں، تاکہ عوام میں ان کی مقبولیت قائم رہے، یا اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا رہے۔

تیسری دنیا کے مطلق العنان اور نیم جمہوری ممالک کی حکومتوں کے بیانیے کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے، اور خوب ٹھونک بجا کر دیکھے بغیر اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، پروفیسر نے نصیحت آمیز لہجے میں کہا۔ ہو سکتا ہے کمبوڈیا نے بے روزگاری کے اعداد و شمار کے لیے غلط پیمانے استعمال کیے ہوں، اور نتائج میں ہیرا پھیری کی ہو، مگر پروفیسر صاحب کے لیے تمام تر احترام کے باوجود اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ کمبوڈیا میں گزشتہ دو عشروں کے دوران غربت کی شرح میں حیرت انگیز کمی آئی ہے، نیا پاکستان بنانے والوں کو یہاں ایک نظر ضرور ڈالنی چاہیے کہ اس کا راز کیا ہے۔ اس ملک کی معیشت کا بڑا حصہ پاکستان کی طرح ٹیکسٹائل اور زراعت پر مبنی ہے۔ ان شعبوں میں ان کے تجربے سے سیکھا جا سکتا ہے۔ ایک بڑا ذریعہ سیاحت بھی ہے، جس سے استفادہ مشکل ہو گا کہ ہمارے ہاں وہ ماحول اور سہولیات ہی نہیں جو کسی سیاح کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہیں۔

اب چلتے ہیں کیوبا کی طرف۔ میں نے کئی برس قبل جب کیوبا کی سر زمین پر پہلی بار قدم رکھا تو کاسترو برسر اقتدار تھا۔ لوگ اس عظیم نابغہ روزگار شخص کو اپنا غیر متنازعہ رہنما مانتے تھے۔ کیوبا میں سوشلزم کامیابی سے چل رہا تھا۔ کیوبا کے بیشتر لوگ نا صرف اپنے نظام سے خوش تھے، بلکہ انہیں اس پر فخر تھا۔ مگرکیوبا میں یہ لطیفہ بہت مقبول تھا کہ وہاں حکومت ملازمین کو تنخواہ دینے کی اداکاری کرتی ہے، اور ملازمین کام کرنے کی اداکاری کرتے رہتے ہیں؛ چنانچہ جتنا کم یا برائے نام معاوضہ دیا جاتا ہے، لوگ کام بھی اتنا ہی کرتے ہیں۔

ایک آدمی کے حصے کا کام تین چار لوگ مل کر کرتے ہیں۔ یہ ہر شخص کو کام کی ضمانت کی اس پالیسی کا تسلسل ہے، جو انیس سو انسٹھ میں انقلاب کے وقت بنائی گئی تھی؛ چنانچہ ہر بالغ شہری کو کام پر لگانا ضروری ہے، خواہ وہ پورا دن ایک جگہ کھڑا رہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ اب اس پالیسی کو بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیوبا میں ہر شخص کو کام کی ضمانت سوشلزم کی وجہ ہے۔ ایسا صرف ایک سوشلسٹ نظام میں ہی ممکن ہے۔ مگر پاکستان میں ارباب اختیار لفظ سوشلزم سے بدکتے ہیں۔ حالانکہ سوشلزم کا حقیقی مطلب آپس میں بانٹ برت کر کھانا ہے۔ اور بانٹ برت کر کھانے میں کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ یہ بانٹ برت منصفانہ اور جمہوری ہو، بندر بانٹ نہ ہو۔ وہ بندر بانٹ، جو اس ملک میں ستر سال سے جاری ہے۔
بشکریہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں