نئی نسل اور پرانے روگ – جواب شکوہ


hasan jawedمیرے ممدوح وجاہت مسعود اپنے مضمون ‘نئی نسل اور پرانے روگ‘ میں قیام پاکستان سے لے کر موجودہ دور تک جوان ہونے والی نسلوں کے ایک اجمالی جائزہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ‘نا اہلی، بد دیانتی اور نا انصافی اور اس پر خود راستی کا دعویٰ مسلسل ہے’۔ اس نتیجے پر پہنچنے سے پہلے انہوں نے سن چالیس کی نوجوان نسل سے شکوہ کیا کہ (قیام پاکستان) کے ‘چند برس بعد فسادات ہوئے، متروکہ املاک کی لوٹ مار ہوئی، پاکستان کے نصب العین پر مباحثے ہوئے، مشرقی بنگال سے تعلق اور حقوق کی بات اٹھی، پاکستان میں اقلیتوں کے رتبے کا سوال پیدا ہوا، عورتوں کے مقام کی بحث چھڑی، چالیس کی نسل خاموش رہی’۔ میرے ممدوح پھر ساٹھ کی نسل سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں ‘سخت قوم پرست، پرولتاریہ کے حامی، جمال عبد الناصر کے شیدائی، جزبہ ان کا بھی بادبان تھا، اور عقل سے انہیں بھی پرہیز تھا’۔ میرے ممدوح ان شکوؤں کا سلسلہ آخر میں اسّی کی دہائی کی نسل تک دراز کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ‘ضیا کی آمریت، افغان جہاد، خلیج کا ویزہ، وی سی آر اور کلاشنکوف، صدام حسین اور سامراج، ایرانی انقلاب اور جہاد’ ابھی اس منجدھار میں غوطے کھا رہے تھے کہ معلوم ہوا کہ نوجوانوں کی نئی نسل وجود میں آ چکی ہے’۔

جواب شکوہ کے طور پر مختصراً یہی عرض کر سکتا ہوں ‘کہ نہیں وجاہت، نہیں، آپ نے نئی نسلوں سے انصاف نہ کیا’۔ شاید آپ ان قلم کاروں کی تحریروں سے صرف نظر کر گئے جنہوں نے تقسیم کی خوںریزیوں اور لوٹ مار کو تاریخ کے گمشدہ اوراق نہ ہونے دیا۔ آپ شاید ان نوجوانوں کی مسلسل جدوجہد سے بھی نا واقف رہے جو ہر دور میں لوگوں کے حق حکمرانی’ تحریر اور تقریر کی آزادی’ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کے قومی اور لسانی حقوق’ اقلیتوں اور عورتوں کی حالت زار’ محروم اور مظلوم بے زمین کسانوں اور مزدوروں کے لئے قیامت برپا کرتے رہے۔

تاریخ کے دھارے شاید آپ تک ان نوجوانوں کی چیخیں نہ پہنچا سکے جو ملک کے طول و عرض میں قائم قید خانوں میں روا تشدد کے نتیجہ میں بلند ہوئیں’ آپ تک شاید ان قیدیوں کی روداد بھی نہ پہنچی جو بندی خانوں میں اپنی جوانیاں کھو بیٹھے۔ آپ شاید ان جسمانی اور نفسیاتی زخموں سے واقف نہ ہوئے جو نوجوانوں نے ان جرائم کے انعام میں وصول پائے۔ ضیا الحق کے دور میں ٹکٹکی سے بندھے نوجوانوں کی تصویریں بھی شاید آپ تک نہ پہنچ سکیں اور شاید ملک کے طول و عرض میں قائم بے نام قبریں بھی صرف حکایتیں ہیں’ کہانیاں ہیں’ سچ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں’۔ آپ شاید حسن ناصر’ ڈاکٹر سرور’ معراج محمد خان’ رشید حسن خان’ واحد بشیر’ فتحیاب علی خان’ حسین نقی’ ڈاکٹر ادیب رضوی’ منہاج برنا’ شیر افضل ملک’ احفاظ الرحمان’ ناصر زیدی’ اقبال جعفری’ نذ یر عباسی’ ایاز سموں’ آصفہ رضوی’ عبدالحئی بلوچ وغیرہم کے ناموں سے بھی ناواقف ہوں کہ ان کی لہو رنگ بیتی یا جہد مسلسل تو شاید صرف افسانے اور کہانیاں ہیں۔ ان بے نام بلوچ نوجوانوں کا کیا ذکر کہ جن کا نام لینا ہی شاید ریاست کے خلاف جرم سمجھا جائے۔ (میں معذرت چاہتا ہوں ان انگنت نوجوانوں سے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں حق کا پرچم بلند رکھا اور سورج پہ کمند ڈالنے کے خواب دیکھےکہ میں ان سب کے نام یہاں نہ لکھ سکا)

‘آپ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے’۔ آج جو سامراجی عزائم بلا تفریق باعث مذمت ہیں’ جو محروم طبقات کی ابتلا کی داستانیں زباں زد عام ہیں اور ان کے حقوق کا مطالبہ وہ بھی کرنے پر مجبور جو پہلے اس ذکر سے الرجک تھے’ یہ جو آزادی صحافت کا غلغلہ ہے’ یہ جو محنت کشوں اور ہاریوں کا استحصال نفرت کی علامت ٹھہرا ہے اور یہ جو جاگیرداری اور قبائیلی سرداری کی کھلی حمایت قابل ندامت ٹھہری ہے’ اس میں نوجوانوں کا کوئی کردار نہیں۔ یہ تو بس کسی ‘کن فیکون’ کا حاصل ہے۔ رہی نوجوان نسل، تو اول دن سے آج تک ان کے بارے میں بقول میرے ممدوح صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ ‘جزبہ ان کا بھی بادبان تھا، اور عقل سے انہیں بھی پرہیز تھا’۔ یا پھر یوں بھی کہ ‘نا اہلی، بد دیانتی اور نا انصافی اور اس پر خود راستی کا دعویٰ مسلسل ہے’۔

ہماری نسل کے نوجوانوں کی جد و جہد کے کچھ مناظر


Comments

FB Login Required - comments