فواد چوہدری کی تلخ نوائیاں – سیاسی مخالفت سے ذاتی دشمنی تک


راقم کے استاد محترم زیدی صاحب فرماتے ہیں کہ سیاسی مخالفت سے ذاتی دشمنی تک کا عمل ہمارے خطہ کی پرانی روایت ہے اور ابھی تک ہم اصلی جمہوری نظام کو اپنے ملک میں رائج نہیں کر سکے جہاں سیاسی اختلاف رائے کو کبھی بھی ذاتی دشمنی تک نہیں لے جاتے –

کہتے ہیں کہ مولانا شمس الدین خراسان کے تھے اور خراسان میں کسی مولوی سے رنجیدہ تھے – ان مولوی صاحب کا اچانک انتقال ہوگیا ۔ مولوی صاحب بڑے مقبول تھے مگر خراسان کے مقامی نہیں تھے لہذا ان کی لاش ان کے آبائی گاوں لے جانے کے لئیے قیمتی لکڑی کا بہت ہی خوبصورت تابوت بنوایا گیا ۔ جو شخص بھی مولوی صاحب کی تعزیت کو آیا اور جس نے بھی تابوت دیکھا اس نے بڑھئی کی کاریگری کی تعریف کی – مولانا شمس الدین بھی تعزیت کے لئے آئے اور کہنے لگے, “تابوت تو اچھا ہے لیکن اس میں ایک خامی ہے”

لوگ ان کے مونہہ کی طرف دیکھنے لگے ۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ, “اس میں دھواں باہر نکلنے کی چمنی نہیں رکھی گئی” –

ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری صاحب بھی مولانا شمس الدین خراسانی کی طرح اپنی پارٹی مخالفین کے لئیے توہین آمیز زبان و بیان کے استعمال کی ویسی ہی شہرت رکھتے ہیں جو ن لیگی حکومت میں طلال چوہدری, دانیال عزیز اور عابد شیر علی کو حاصل تھی – ہمارے قابل وفاقی وزیر ویسے تو بولنے والے پیشے یعنی وکالت سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کا خاندانی پس منظر عرصہ دراز سے سیاست میں ہے –

فواد چوہدری صاحب کے تایا چوہدری الطاف حسین پنجاب کے دبنگ مگر متنازعہ گورنر تھے ۔ پرانے سیاستدان ممتاز دولتانہ کے ساتھی ہونے کی بناء پر مرحوم چوہدری الطاف حسین جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر خیال کئیے جاتے تھے اور ان کی اسی شہرت کی بناء پر بے نظیر بھٹو نے انھیں پنجاب کا گورنر بھی مقرر کیا تھا ۔

فواد چوہدری صاحب کے ایک چچا شہباز حسین پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر تھے اور دوسرے چچا چوہدری افتخار حسین لاہور ہائی کورٹ کے جج ۔ فواد چوہدری نے اپنے سیاسی کئیریر کا آغاز ق لیگ سے شروع کیا تھا ۔ مبینہ طور پر ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ چچا کے ہائی کورٹ کا جج مقرر ہونے سے ان کی وکالت کو کافی شہرت ملی تھی اور جب ان کے چچا کو جنرل پرو یز مشرف نے لاہور کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا تو فواد چوہدری کے وکیلانہ کریئر کی لاٹری نکل آئی ۔

فواد چوہدری اور ان کے چچا افتخار حسین چوہدری کے بارے میں تحریک انصاف کے سابق نائب صدر حامد خان نے اپنی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے شایع کردہ کتاب “پاکستان کی عدالتی تاریخ میں” لکھا ہے کہ:-

{جسٹس افتخار حسین چوہدری کو 1994ء میں بےنظیر بھٹو شہید کے دوسرے دور میں لاہور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا ۔ سنہ 1995ء میں انھیں مستقل جج کے طور پر کنفر م کیا گیا ۔ انھوں نے جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ پی۔سی۔اوز 1999ء اور 2003ء میں حلف بھی اٹھایا تھا ۔ انھیں بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا اور وہ 2002ء ۔ 2007ء کے پانچ سالہ عرصہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے تھے ۔ ان کا دور شاید لاہور ہائی کورٹ کا سیاہ ترین دور تھا ۔

یہ وہ دور تھا جب ہائی کورٹ میں کرپشن اور بد انتظامی اپنے عروج پر تھی ۔ جسٹس افتخار حسین چوہدری جنرل پرویز مشرف کے پسندیدہ جج تھے کیونکہ کسی قسم کے اصول کی پاسداری ان کے نزدیک کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں تھی ۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی بنائی گئی وفاقی اور پنجاب کی حکومتوں کی ہر طرح کی قانونی اور آئینی مدد کے لئیے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ لاہور ہائی کورٹ ان کے دور میں انصاف فراہم کرنے والا ادارے کی بجائے ٹاؤٹوں اور سودے بازی کرنے والے ایجنٹوں کا گڑھ بن چکا تھا ۔ جج صاحب کے پسندیدہ وکلاء ہی کو ’انصاف‘ ملتا تھا اور وہی پیشہ ورانہ حوالے سے کوئی قابل ذکر کام کرسکتے تھے ۔

ان کا بھتیجا ( فواد چوہدری) یکایک معروف وکیل بن گیا جو ہر اہم اور قابل ذکر مقدمہ میں وکیل مقرر ہوتا تھا ۔ ان دنوں جج صاحب کے بھتیجے کے پاس موجود مقدمات کی تعداد سے لگتا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں وہی واحد قابل وکیل ہے ۔ اور تو اور ماتحت عدلیہ کے ججوں اورعملے کی تعیناتیاں اور تبادلے بھی اس کے ذریعے ہوتے تھے ۔ رشوت اور تحفے ان دنوں معمول کی کاروائی تھی ۔ چیف جسٹس کھلے عام بار ایسوسی ایشنوں کے انتخابات میں مداخلت کرتے اور ماتحت عدلیہ کے ججوں کو اپنے پسندیدہ امیدواروں کو جتوانے کے لئیے استعمال کرتے تھے –

سنہ2007ء میں چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کے خلاف جنرل پرویز مشرف نے جو ریفرنس فائل کیا تھا اس کے پس پردہ ایک کردار چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار حسین چوہدری بھی تھے ۔ انھوں نے لاہور کورٹ کے احاطے میں عدلیہ بحالی تحریک کے دوران وکلاء کے خلاف پولیس فورس بھی استعمال کی تھی ۔ 3 جنوری 2007ء میں جنرل پرویز مشرف نے عدلیہ کے خلاف جو کریک ڈاون کیا تھا اس میں انھیں جسٹس افتخار حسین چوہدری کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ 2007ء میں پانچ سال تک چیف جسٹس لاہور ہوئی کورٹ رہنے کے بعد وہ ریٹائر ہوگئے لیکن ان کے دور میں ہائی کورٹ کو جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ شائد آنے والے کئی سال تک نہ ہوسکے} –

حوالہ:- پاکستان کی عدالتی تاریخ از حامد خان ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس صفحہ 451 –

فواد چوہدری صاحب نے 2002ء کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ 25 جہلم 2 سے انتخابات میں آزادانہ حیثیت سے حصہ بھی لیا کیونکہ انہیں “ق” لیگ کا ٹکٹ نہیں مل سکا تھا — اس معرکہ میں وہ صرف 161 ووٹ لے سکے جبکہ ان کے مقابلہ میں “ق” لیگ کے امیدوار چوہدری تسنیم ناصر 38,626 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے – اس عبرت ناک شکست کے کچھ عرصہ بعد فواد چوہدری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے میڈیا کوارڈینیٹر مقرر ہو گئے –

جب انہیں یہ یقین ہو چکا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے تو چوہدری فواد صاحب نے اسے لات مار دی اور مارچ 2012ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی – سیاسی وفاداری میں یہ تبدیلی انہیں بہت راس آئی اور اپریل 2012ء میں انہیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خصوصی معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور مقرر کروا دیا گیا (سمجھ تو آپ گئے ہوں گے کہ کس نے مقرر کروایا) – جون 2012ء میں گیلانی حکومت کو سپریم کورٹ نے تحلیل کیا تو فواد چوہدری صاحب کی وزارت بھی چلی گئی – اگلی وزارت کے لئیے فواد چوہدری صاحب کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور جولائی 2012ء میں راجہ پرویز اشرف کی بننے والی حکومت میں انہیں وزیر اعظم کا خصوصی معاون برائے سیاسی امور مقرر کروا دیا گیا جس پر انہوں نے پیپلز پارٹی حکومت کے خاتمہ یعنی مارچ 2013ء تک مزے لوٹے –

الیکشن 2013ء میں انہوں نے مبینہ طور پر سرتوڑ کوشش کی کہ کسی طرح انہیں “ن” لیگ کا ٹکٹ مل سکے مگر اس میں ناکامی کے بعد انہوں نے “ق” لیگ کا ٹکٹ حاصل کیا اور قومی اسمبلی کے حلقہ جہلم 2 سے “ن” لیگ کے ملک اقبال مہدی کے مقابلہ میں صرف 34,072 ووٹ لے سکے – اسی الیکشن میں انہوں نے جہلم سے صوبائی سیٹ پر بھی الیکشن لڑا تھا مگر “ن” لیگ کے راجہ محمد اویس خاں کے مقابلہ میں صرف 82 ووٹ لے سکے –

ان انتخابات کے بعد فواد چوہدری مختلف ٹیلی ویڑن چینلز پر بطور اینکر اور سیاسی تجزیہ نگار کے طور پر منسلک کروائے گئے – قسمت نے ان کی ایک دفعہ پھر یاوری کی اور وہ تحریک انصاف میں جون 2016ء میں شامل کروا دئیے گئے – اگست 2016ء میں فواد چوہدری کو تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 63 کے لئیے ٹکٹ دیا مگر وہ “ن” لیگ کے راجہ مطلوب مہدی کے مقابلہ میں پھر ناکام ہوئے مگر اس دفعہ تبدیلی انقلاب کی وجہ سے انہیں 74,819 ووٹ ملے – نومبر 2016ء میں فواد چوہدری کو تحریک انصاف کا ترجمان مقرر کر دیا گیا جبکہ مارچ 2018ء میں سینئیر راہنما شفقت محمود کے استعفی کے بعد انہیں تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات کی اضافی ذمہ داری بھی دلوا دی گئی –

الیکشن 2018ء میں فواد چوہدری نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 67, جہلم 2 سے “ن” لیگ کے نوابزادہ راجہ مطلوب مہدی کے مقابلہ میں 93,102 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے – اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 27, جہلم 3 سے “ن” لیگ کے ناصر محمود کے مقابلہ میں 67,003 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے – دونوں سیٹوں پر کامیابی کے بعد اور شاہ محمود قریشی کی صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر شکست کے بعد فواد چوہدری کو وزیر اعلی پنجاب مقرر کئیے جانے کی زبردست افواہیں ازائی گئیں مگر عمران خاں کی طرف سے وفاقی کابینہ کی پہلی قسط میں انہیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دے دی گئی – (ویسے اگر عثمان بزدار کو ہی وزیر اعلی منتخب کرنا تھا تو اس کے مقابلہ میں فواد چوہدری بہت بہتر چوائیس ہوتا) _

اگر “ن” لیگ کی حکومت میں زبان درازی اور سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی بنانے کا کام دانیال عزیز اور طلال چوہدری کیا کرتے تھے تو تحریک انصاف کی حکومت میں یہ کام فواد چوہدری کی سربراہی میں ہو رہے ییں – یمارے وزیر اعظم صاحب کو خبر ہو کہ جب “ن” لیگ کی حکومت ختم ہوئی, شریف خاندان پریشانی کا شکار ہوا تو ادھر یہ دونوں طلال و دانیال غائب ہو گئے اور آج کل یہ ڈونڈھنے سے بھی نہیں ملتے – فواد چوہدری کی اوپر بیان کردہ سیاسی قلابازیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ کل جب تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہوئی تو یقین_ خاطر رکھئیے گا کہ فواد چوہدری بھی ان ہی دو لوگوں کی طرح غائب ہوں گے –

آپ کا کیا خیال ہے کہ فواد چوہدری جو کچھ کر رہے ہیں وزیر اطلاعات یوں کیا کرتے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں، حکومتیں احتجاج نہیں کرتیں، وزراء شور شرابہ نہیں کیا کرتے، سیانے وزیر مشکلات کم کیا کرتے ہیں اور انہیں بڑھاتے نہیں، ماضی میں مشرف سمیت ہر پارٹی سے فائدے اٹھانے والا آج عمران کے دسترخوان سے فیضیاب اس لئیے ہو رہا ہے کہ یہ گن اچھے گا لیتا ہے اور مخالفین کو ٹکا کر گالیاں دے لیتا ہے – خدا ایسے چاپلوس ساتھیوں سے لیڈران سمیت سب کو محفوظ رکھے –

محترم عمران خاں صاحب – اگر آپ بھول چکے ہیں تو سوشل میڈیا پر موجود ان ویڈیو کلپس کو ضرور ملاحظہ کیجئیے گا جب فواد چوہدری آپ کے مخالف کیمپ میں تھے اور آپ کے بارے کیا خیالات رکھتے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں