بدترین سنسرشپ وہ ہے جو جمہوریت کے نام پر کی جائے: طلعت حسین


طلعت حسین تین عشروں سے صحافت میں سرگرم ہیں اور اس وقت بھی سیاسی ٹاک شو کی میزبانی کرتے تھے، جب پرائیویٹ نیوز چینلوں کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی وی پر ان کا پروگرام نیوز نائٹ بہت مقبول تھا۔ وہ دی نیوز کے ایڈیٹر اور آج ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز رہ چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں کالم لکھتے رہے۔ پی ٹی وی، آج، ڈان اور ایکسپریس نیوز کے بعد اب جیونیوز پر سیاسی گفتگو کا پروگرام کرتے ہیں۔

میں نے طلعت حسین سے صرف اتنا پوچھا کہ کیا ملک میں کوئی سینسرشپ ہے یا کسی نے یونہی یہ ہوائی اڑائی ہے؟

طلعت حسین نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر سینسرشپ نافذ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر آپ مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں اور تھوڑا سا تنقیدی زاویہ نگاہ رکھتے ہیں تو آپ کے کام کی نگرانی ہو رہی ہے۔ آزادی سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ سنسرشپ کی نوعیت کیا ہے۔ پاکستان میں صحافت کی تاریخ کوئی خاص اچھی نہیں۔ فوجی آمروں کے علاوہ سویلین حکومتوں کے ادوار میں بھی سنسرشپ رہی ہے۔ پھر یہ سنسرشپ کس طرح مختلف ہے؟ بظاہر آپ کو نظر آئے گا کہ میڈیا آزاد ہے کیونکہ ملک میں 100 سے زیادہ ٹی وی چینل ہیں، لگ بھگ 200 ریڈیو چینل ہیں، سیکڑوں اخبارات ہیں۔ ہر قسم کی بولی اور ہر طرح کی رائے سنائی دیتی ہے۔ لیکن وہ عمومی رائے ہوتی ہے۔ اگر آپ حقائق کے ساتھ بات کریں اور نتائج اخذ کریں تو وہ قابل قبول نہیں۔

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہوگی یا ہوئی ہے۔ لیکن جب آپ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ دھاندلی کہاں ہوئی، کس طریقے سے ہوئی، کیسے ووٹرز کو روکا گیا، نتائج میں کیوں تاخیر ہوئی تو یہ کوئی نہیں چھاپے گا۔ اگر چھاپے گا تو اس کا اخبار آگے پیچھے ہوجائے گا۔

مالکان پر بہت دباؤ ہے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ براہ مہربانی تنقیدی کالم نہ لکھیں، کچھ خاص الفاظ نہ لکھیں، پروگرام میں کچھ خاص جملے نہ بولیں۔ ایک سال پہلے تک میرا پروگرام براہ راست نشر ہوتا تھا۔ پھر کبھی کبھار لائیو ہونے لگا۔ چھ ماہ ہوگئے ہیں، اسے ریکارڈ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی لائیو کرنا پڑجائے تو اس کی اجازت نہیں دی جاتی کہ نہ جانے کون کیا بات کہہ دے۔ آپ خود کچھ نہ کہیں، کوئی مہمان کچھ الٹا سیدھا نہ کہہ جائے، وہ بھی آپ کے ذمے ہے۔

پروگرام میں کچھ ناپسندیدہ بات نشر ہونے کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ آپ کا چینل کیبل سے غائب ہوجاتا ہے۔ ایڈورٹائزرز آپ کو اشتہارات نہیں دیتے۔ پھر مالکان کہتے ہیں کہ آپ نے چینل کا بیڑہ غرق کردیا۔ آپ کی نوکری خطرے میں پڑجاتی ہے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کی ملازمت بھی خطرے میں ہوتی ہے۔ اخبارات میں کالم بھی روکے جا رہے ہیں۔ اس ہفتے میرا کالم نہیں چھپا۔ میں انتظار کررہا ہوں کہ کیا فیصلہ کریں گے۔ نہیں چھاپیں گے تو ٹوئیٹ کردوں گا۔

تیسری بات یہ کہ صحافت میں ایسے لوگ گھس گئے ہیں جو دوسروں کی کردار کشی پر مامور کیے گئے ہیں۔ مجھ پر مین اسٹریم چینلوں سے بہت حملے ہوئے ہیں۔ یہ کام دو تین لوگ کرتے ہیں۔ وہ کبھی مجھ پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ کبھی کسی ملک کا سفیر بنا دیتے ہیں۔ ایک بار امریکا کا سفیر بھی بنایا۔ ایک بار کہا کہ میں مشیر بن رہا ہوں۔ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ لیکن ان کا رشتہ شریف خاندان کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر کہا کہ میں لفافہ لیتا ہوں۔ انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا کہ وہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی کردار کشی کیوں کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جاتی ہے۔ میں نے ایف آئی اے سے شکایت کی تو کچھ تحقیقات ہوئی۔ کئی ویب سائٹس پکڑی گئیں۔ لیکن پھر ایف آئی اے حکام کے پر جل گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ان ویب سائٹس کے بارے میں علم نہیں کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ میری شکایت وہیں پر پڑی ہوئی ہے۔

آپ ایک تنقیدی ٹوئیٹ کریں، زلزلہ آجائے گا۔ مالکان کہتے ہیں کہ آپ ٹوئیٹ نہیں کر سکتے۔ جب تک آپ ہمارے لیے کام کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر احتیاط برتیں۔ تو میڈیا پر نہ صرف بندش ہے بلکہ غیر معمولی بندش ہے۔

میں نے سوال کیا کہ ہم اس دیدہ یا نادیدہ سنسرشپ کا الزام کسے دیں؟ ذمے دار کون ہے، حکومت ہے یا اسٹیبلشمنٹ؟ اور کیا اس کا موازنہ مارشل لا سے کیا جا سکتا ہے؟

طلعت حسین نے جواب دیا کہ اگر کوئی عسکری طالع آزما یا فسطائی حکومت میڈیا پر قدغن لگائے تو کوئی انہونی بات نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ کس قسم کی مداخلت ہوگی۔ پتا ہے کہ اخبارات بند ہوں گے۔ پتا ہے کہ خبر نہیں چھپے گی۔ پتا ہے کہ صحافی اٹھائے جائیں گے۔ پتا ہے کہ مار پڑے گی۔ لیکن جیسا کہ کہتے ہیں کہ بدترین ظلم وہ ہوتا ہے جو انصاف کے نام پر کیا جائے۔ تو بدترین سنسرشپ وہ ہوتی ہے جو جمہوریت کے نام پر کی جائے۔ اس سنسرشپ میں موجودہ حکومت کا بہت بڑا حصہ ہے۔

عمران خان پہلے دھرنے سے آخری دھرنے تک اور الیکشن سے وزیر اعظم بننے تک مسلسل لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے رہے۔ انھیں میڈیا ہاؤسز پسند نہیں۔ وہ ان پر الزام دھرتے ہیں، ان کو للکارتے ہیں۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ منتخب ہوکر آنے والی سویلین حکومت اتنی دیدہ دلیری سے سنسرشپ کی بات نہیں کرتی۔

صحافت میں یہ میرا 28واں سال ہے۔ میں نے بطور کالم نگار صحافت کا آغاز کیا تھا۔ دی نیوز میں اداریے لکھتا تھا۔ میں ایڈیٹوریل سائیڈ سے جرنلزم میں آیا ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے تواتر سے میرے کالم روکے گئے ہیں۔ اٹھائیس سال میں کبھی میرے کالم نہیں رکے۔ لیکن چھ مہینے میں چھ کالم رک چکے ہیں۔ میں گزشتہ بیس اکیس سال سے الیکٹرونک میڈیا میں کام کر رہا ہوں۔ کبھی میرے پروگرام اس طرح نہیں روکے گئے جس طرح اب روکے گئے ہیں۔ یہ بہت ہی غضب ناک قسم کی سنسرشپ ہے۔

میڈیا ہاؤسز کی معاشی شہ رگ پر دباؤ ہے۔ صحافیوں کی پروفیشنل کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا رہا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے اندر ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی اختلافی آواز اٹھاتا ہے تو وہ ننگ وطن بھی ٹھہرے گا، غدار بھی قرار دیا جائے گا اور مطعون بھی ہوگا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں