پرائیوٹ اسکولوں کی من مانیاں


پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ہر نئی آ نے والی حکومت کا آغاز دوسرے وعدوں کے ساتھ سب سے اہم وعدہ سستی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا ہوتا ہے ، لیکن بد قسمتی سے آج تک کوئی بھی حکومت اپنایہ وعدہ وفا نہ کرپائی۔جس کا سب سے زیادہ فائدہ پرائیوٹ اسکول اور سب سے زیادہ نقصان والدین کو اٹھانا پڑا۔
ناقص اور غیر معیاری تعلیمی نظام کی وجہ سے پرائیوٹ اسکولز اندھوں میں کانے راجہ کے مصداق پر کام کرتے ہوئے اپنی من مانیوں میں سرگرم ہیں اور والدین کو معیاری تعلیم کے حصول کے لئے ان کی ہٹ دھرمیوں اور ان کی من مانیوں کو براداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ان من مانیوں میں سر فہرست فیسوں میں ہر سال دس سے پندرہ فیصد اضافہ ہے۔فیس اتنی بڑھ گئی ہیں کہ متوسط طبقے کے لئے اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں بڑھانا ناممکن ہوتا جارہا ہے اور جو پڑھا رہے ہیں ان کی تنخواہ کا بھاری حصہ فیسوں کی عدائیگی میں چلا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے پانچ فیصد سے زائد فیسوں میں اضافے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ بھی والدین کے حق میں فیصلہ دے چکی ہیں ، لیکن اسکول اپنی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور حکومت وقت مکمل خاموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
پرائیوٹ اسکولوں کی یہ لوٹ مار اور من مانی صرف فیسوں میں اضافہ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اب تو ان اسکولوں نے والدین کو لوٹنے کا ایک نیا سلسلہ سروع کردیا ہے۔ اسکول غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے بھی فیس طلب کر رہے ہیں۔
والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے ہو بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بھر پور حصہ لیں۔ غیر نصابی سرگرمیوں سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ایک اچھے اسکول کا فرض ہے کہ وہ معاشرے کو ایک پر اعتماد شہری فراہم کرے۔اسی وعدہ پر وہ والدین سے بھاری فیس بھی وصول کررہے ہیں۔لیکن صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اگر والدین ان سرگرمیوں کی فیس ادا کرنے کے اہل ہیں تو انکا بچہ بھی ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کا اہل قرار پاتاہے اور اگر نہیں ، تو قابلیت اورتخلیقی صلاحیت ہونے کے باوجود وہ بچہ کسی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتا، یعنی انتخاب کی بنیاد پیسہ ہے اہلیت نہیں۔

اس طرح ان باصلاحیت بچوں میں احساس کمتری پیدا ہورہی ہے جن کے والدین مقابلوں کے لیے اضافی رقم جمع نہیں کرواپاتے۔والدین جومشکل سے ماہانہ فیس ادا کررہے ہیں وہ اپنے ہی بچوں کے سامنے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں، تو گویا معیاری اسکول میں پڑھانے کی خواہش والدین کے لئے جرم بن گئی ہے۔حالانکہ غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع میسر کرنے کی ذمہ داری اسکول انتطامیہ پر عائد ہوتی ہے ، اور اس مد میں ماہانہ فیس میں رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔
پرائیوٹ اسکولوں کی یہ نئی من مانی اور لوٹ مار وقت کے گزرنے کے ساتھ والدین کے لیے ایک نئے مسئلے کی صورت اختیار کررہی ہے۔ اگر یہ من مانی نہ روکی گئی تو وہ دن دور نہیں جب پرائیوٹ اسکول والدین سے بجلی اور پانی کے بلوں کی مد میں بھی اضافی رقم طلب کریں گے۔
حکومت اسکول اور والدین نظام تعلیم کے لازم جز ہیں ، لیکن افسوس کہ ان میں سے اسکول اپنی من مانیوں اور ہٹ دھرمیوں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور نتیجے میں والدین اسکول انتظامیہ کے ھاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں فوری طور پر موثر اقدام کی ضرورت ہے جس طرح سپریم کورٹ اضافی فیسوں کے معاملے میں والدین کی آواز بن رہی ہے بالکل اسی طرح سپریم کورٹ ا سکولوں کو اس بات کا بھی پابند کرے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر نصابی سرگرمیوں کی مد میں والدین پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں، لیکن ان تمام فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری بالآخر حکومت وقت کی ہوگی۔ حکومت وقت کو اپنے اس وعدہ کو سچ ثابت کرنا کوگا کہ تعلیم سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔اب باتوں کا نہیں کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں