ہندوستان کا جنسی دھرم تانترا مت کیا ہے؟


ریاست پٹیالہ کے حکمران ہزیائی نیس مہاراجا سربھوپندر سنگھ بہادر کے بنائے ہوئے نئے تانترا مت یا نئے جنسی دھرم کی کہانی کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ اصل تانترا دھرم کے بار ے میں قارئین کو معلومات فراہم کی جائیں۔ صرف اسی صورت میں قارئین کو تانتری رسوم اہمت سمجھ میں آئے گی اور وہ یہ سمجھ سکیں گے کہ نئے دھرم کا آغاز کیسے ہوا اور مہاراجا نے اپنی شہوت اور ہوس کی تسکین کے لیے اسے کیسے اختیار کیا۔

حقیقت میں مہاراجا کا شروع کیا ہوا تانترا دھرم ہندومت کی حقیقی اور خالص تانتر ی صورت سے بالکل مختلف تھا۔ اس کا مقصد محض مہاراجا کی جنسی خواہشات کی تسکین تھا۔ وہ دھرم کے لبادے میں بے شمار عورتوں سے جنسی لذت حاصل کرتا۔ یوں اس کا وقار بھی برقرار رہتا کیونکہ یہ عمل دھرم کی روح کے مطابق وہاں اکٹھا ہو جانے والی عورتوں کی نگاہوں میں ان کے مذہبی اعتقادات کے مطابق تھا۔ یہ دھرم صرف ان لوگوں تک محدود تھا، جنہیں اس کو اپنانے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس دھرم کو اپنانے والوں سے رازداری کا حلف لیا جاتا تھا۔

ضرور وہ شخص بڑا دلیر! ہو گا، جس نے آج سے آدھی صدی پہلے یہ کہا تھا کہ بھگوان کو تانترا مت کے ذریعے پایا جا سکتا ہے! اس نئے جنسی دھرم کی رسومات میں شراب نوشی اور بہت سے گمراہ کن اعمال و افعال انجام دینا شامل تھا۔ تانترا مت کے نام پر گناہ گارانہ مقاصد کی تکمیل کے لیے کالے جادو یا ابھیچا ر کی کالی رسومات ادا کی جاتیں جن میں اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے واگلا، دھموتی اور چنمستا جنسی دیویوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ بھگوان کا شکر ہے کہ تانتر شاستر اور اگاما انو سندھن سمیتی کے دفاع و تحفظ کے لیے کلکتہ ہائیکورٹ کے جج سر جان وڈ روف مرحوم اور سریجوت اے گھوش مردانہ وار ڈٹ گئے۔ اب تانترا مت کے فلسفے اور دھرم کے طالب علم اور اس پر عمل کرنے والے کے لیے ممکن ہو چکا ہے کہ وہ علم کے راستے پر گامزن ہو۔ اب چونکہ تانترا پر پابندی نہیں ہے اور اسے عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، اس لیے اب تانترا کو ہندومت میں لگایا گیا پیوند یا ہندومت کا روگ نہیں تصور کیا جاتا۔

جہاں تک موجود ہ دور کے سکالروں کا تعلق ہے تو اب یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ تانتروں کا زمانہ پرانوں کے دور میں شروع نہیں ہوا تھا، بلکہ یہ ویدوں کے دور میں بھی خوب فروغ پا رہے تھے۔ کچھ لوگوں کا نظریہ ہے کہ تانتر بدھ دور کے بعد تشکیل پذیر ہوئے تھے۔ اگر للتوسترا کی تصنیف کوئی قدر رکھتی ہوتی تو اسے تسلیم نہیں بھی کیا جا سکتا تھا۔ جبکہ اس امرکی کوئی وجہ نہیں کہ ایسا نہ ہو۔ اس کتاب کے سترہویں باب میں لکھا گیا ہے کہ مہاتما بدھ نے برہما، اندر، وشنو، کتیائن، گنپتی وغیرہ کی پوجا کرنے کی مذمت کی۔ للتوسترا بدھ مت کی ایک انتہائی مستند کتاب ہے گو کہ بدھ مت کے پیروکار اپنے تانتروں اور آدی بدھ، پرجن پرمیت، منجوستری، تارا، آرا، آریا تارا وغیرہ جیسے اوتاروں کے حامل ہیں۔

ہندوستان کے مسلمانوں کے زیر نگیں آنے سے صدیوں پہلے تانترا کی رسومات وضع کی گئی تھیں۔ تانترا ادب زیادہ تر انہی رسومات کی ادا ئیگی کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ تانترا کی متعدد کتابیں سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں لکھی گئی تھیں۔ اس نوع کی کتابیں انیسویں صدی تک لکھی جاتی رہی تھیں۔ چند ایسی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں :

الف۔ : کمیایا نترا اَدھارا
از: ماہما ہو پاد ہیایا پرپورجک اچاریہ

ب: تانترا سرا
از: کرشن آنند
(یہ کتاب بنگال کے لاتعداد خلاصوں سے زیادہ جامع اور مقبول ہے )

ج: تانترا دیپکا
از: گوپال پچنا

ایک عمیق فلسفہ تانترا کی بنیاد ہے۔ سروتی کے مانند تانترا بھی فرد سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ کسی گروکا با قاعدہ چیلا بنے۔ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ گرو اور چیلا مکمل طور پر تربیت یافتہ ہوں۔ ایک اچھے گرو کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ وہ ایسا انسان ہوتا ہے جو پوتر جنم لیتا ہے اور پوتر طبیعت کا مالک ہوتا ہے، اور اپنے حواس کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔ اسے اگماؤں یعنی تانتروں اور تمام شاستروں (مذہبی کتابوں) کے سچے مفہوم سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اسے ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور بھگوان کا نام جپنے، پوجا پاٹھ کرنے، مراقبہ کرنے اور اگنی (آگ ) کے چڑھاوے چڑھانے میں مصروف رہنا چاہیے۔ اسے قلبی سکون کا حامل ہونا چاہیے او ر اسے دوسروں کے کام آنے کی صفت کا حامل ضرور ہونا چاہیے۔ اسے ویدوں کی تعلیمات سے واقف ہونا چاہیے، یوگا کا ماہر ہونا چاہیے اور کسی دیوتا کی طرح حسین ہونا چاہیے۔

ایک اچھے چیلے کی خصوصیات یوں بیان کی گئی ہیں:
اسے صحیح النسب ہو نا چاہیے، اسے مکار و دغاباز نہیں ہونا چاہیے اور اسے انسانی وجود کے چار مقاصد یعنی علم، قوت، پیداوار اور محنت کا جویا ہونا چاہیے۔ اس نے ویدوں کا مطالعہ کیا ہونا چاہیے۔ اسے ذہین ہونا چاہیے۔ اسے اپنی حیوانی خواہشات کو قابو میں رکھنا چاہیے اور اگلے جہان پر یقین رکھنا چاہیے۔ اسے ناستکوں (دہریوں) سے تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں، اپنے فرائض باقاعدگی سے ادا کرنے چاہئیں، اسے اپنے والدین کے حقوق پورے کرنے چاہئیں اور اپنے گرو کی موجود گی میں حسب نسب، دولت اور علم کے تفاخر سے آزاد ہونا چاہیے۔

اسے گرو کے لیے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دینے پر تیار ہونا چاہیے، جہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کر دینی چاہیے۔ اسے اپنے گرو کی خدمت کامل انکسار کے ساتھ کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ چیلوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ گرو لافانی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ گرو بطور انسان لافانی ہے، دراصل وہ تو ایک وسیلہ ہوتا ہے جس سے بھگوان کی روح نزول کرتی ہے۔ حقیقی گرو برہما یا شیو ہے، جو کہ اولین شکتی ہے۔ انسان گرو کا منصب بہت عظیم ذمہ داری ہے، جو کہ چیلے بنانے سے ختم نہیں ہوتی۔

گرو کو ہر حوالے سے اپنے چیلے کا احترام کر نا چاہیے اور اسے رہنمائی دینی چاہیے۔ وہ روح کا معالج کہلاتا ہے اور ایک صحت مند روح صرف ایک صحت مند جسم میں رہ سکتی ہے۔ اسے یہاں تک خیال رکھنا ہوتا ہے کہ ا س کے چیلے صحت کے معاملے میں بھی درست راہ پر گامزن ہوں۔ جو گرو اپنی ذمہ داریوں سے آگا ہ ہوتا ہے، وہ کسی کو جلدی میں اپنا چیلا نہیں بناتا۔ شاستروں میں آیا ہے کہ چیلا ایسے گرو کو و قبول نہ کرے جس سے اس کا تعلق نہ ہو۔ چیلا بنانے کا طریقہ یکساں نہیں ہوتا ہے اور چیلے کی طبیعت و اہلیت کے مطابق تبدیل ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں