یاد کے گھونسلے میں رمضان کا پرندہ


wajahat یاد کے گھونسلوں میں اب بہت تھوڑے پرندے باقی ہیں۔ بس اتنے سمجھ لو جتنے سوات کے پہاڑوں پر چنار کے درخت۔ پچھلی صدی میں ہمارا باپ ڈاک بانٹنے نکلا تھا، ایک بار اٹک دریا پار کر لیا تو پھر رکا نہیں، خدا جانے کتنے دریا، ندی نالے پار کرتا، انکو منکو شہروں کا پانی پیتا، دور دیس میں بسنے والے پیاروں کی خیر خبر لوگوں تک پہنچاتا یہیں پنجاب میں رہ پڑا۔ ہمارا باپ کہتا تھا، دوسری بڑی جنگ کے دن تھے۔ پنجاب اور پشاور کا بہت جوان لڑائی لڑنے سنگا پور، برما اور عراق تک گیا تھا۔ ان جوانوں کے خط جب گاﺅں پہنچتے تھے تو گھروں سے بوڑھی مائیں، بیویاں اور بالی بہنیں ایسے شوق میں باہر نکل آتی تھیں جیسے لام سے چٹھی نہیں آئی، گھبرو خود گھوڑے پر سوار گاﺅں میں آ پہنچا ہے۔ اردو اور گرو مکھی میں ہاتھ سے لکھے ان خطوں میں کبھی کبھی انگریزی میں ٹائپ کیا ہوا سرکاری خط بھی شامل ہو جاتا تھا۔ اس خط میں جوان کے مرنے کی خبر آتی تھی یا لکھا ہوتا تھا ”سپاہی لاپتہ ہو گیا ہے، خیال یہی ہے کہ جنگ میں مارا گیا“۔ ہمارا بابا کہتا تھا جس دن ڈاک خانے میں ایسی چٹھی میرے ہاتھ میں دی جاتی، میرے پیر نہیں اٹھتے تھے۔ دل چاہتا تھا گاﺅں کا راستہ بھول جائے یا پھر ہاتھ میں پکڑی چٹھی کا مضمون بدل جائے۔ مگر یارا، جنگ بہت بری چیز ہے۔ ماﺅں کو بیٹوں کے مرنے کی خبر دیتی ہے۔ بیٹا مر جائے تو باپ کی پگڑی کھل کر گلے میں آ گرتی ہے۔ امن اچھا ہوتا ہے۔ بیٹے کندھوں پر اٹھا کر ماں باپ کی امانت قبرستان تک لے جاتے ہیں۔

یارا شیر خان، ہمارا باپ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا مگر حقہ پیتے پیتے جب وہ شیخ سعدی یا ملا ںحافظ کا کوئی فارسی بیت سناتا تھا تو معلوم ہوتا تھا، ہمارا محلہ شیراز شریف کی گلی بن گیا ہے۔ بٹوارہ ہوا تو ہمارا باپ گوجرانوالہ سے کچھ آگے جی ٹی روڈ پر کسی قصبے میں ملازمت کر رہا تھا۔ ریٹائرمنٹ قریب آگئی تھی۔ اب اس میں مینگورہ کے پہاڑوں تک واپس جانے کی ہمت باقی نہیں تھی۔ سکھوں کے چھوڑے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان میں بیٹھ گیا جس کی دیواروں پر پیلاچونا پھیرا گیا تھا اور لکڑی سے بنے پرانے صندوقوں میں نئی رضائیاں رکھی تھیں۔ ہمارا بچپن اسی گھر میں غربت کی مار کھاتے اور تین زبانوں سے جھگڑا کرتے گزرا۔ ماں پشتو میں ڈانٹتی تھی۔ باپ اردو اور پنجابی کا جوشاندہ پلاتا تھا اور سکول میں خدا بخشے ماسٹر معراج الدین انگریزی میں ڈنڈا چلاتا تھا۔ گھر میں باپ کی پنشن تھی اور چھوٹے بڑے بہت سے بہن بھائی تھے۔ بڑی بہن کی شادی ہو گئی تھی۔پہلے خبر آتی تھی کہ قریشہ خانم کا خاوند اسے بات بات پر مارتا پیٹتا ہے۔ پھر ایک دن وہ روتی پیٹتی خود آ پہنچی۔ ہمارا باپ، ہم نے بتایا ناں، زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا مگر انگریز افسروں کے گلاس میں سوڈا واٹر ملاتے ملاتے اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ کہتا تھا ”عورت ذات اور مرد ذات میں کوئی فرق نہیں۔ انسان کو بدذات نہیں ہونا چاہیے“۔ یہ سب قصے اس وقت اس واسطے یاد آرہے ہیں کہ آج کل رمضان شریف کا مہینہ ہے اور ہمارے بچپن کا رمضان، سمجھ لو کہ مہینے بھر کا ایک لمبا جشن تھا۔

یارا شیر خان، ہم کہتا ہے کہ سردیاں ہوں یا گرمیاں، رات کے آخری پہر کی نیند بہت میٹھی ہوتی ہے۔ بس اسی پہر میں ڈھول پر تھاپ پڑتی تھی اور ہم آنکھیں ملتے گھر سے باہر نکل آتے۔ طرح طرح کے ساز بجاتے پانچ چھ اجنبی لوگ اپنی سریلی آواز میں اللہ کے نبی کی شان بیان کرتے گزرتے تھے۔ لڑکے بالوں کا ایک ہجوم ان کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔ یہ لوگ ہر دروازے پر کچھ دیر کو رکتے ، کہیں سے کھانے کو کچھ ملتا اور کہیں سے پیسہ دھیلا۔ کسی گھر سے کوئی چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے ہاتھ میں اکنی یا ایسا ہی کوئی سکہ پکڑے دروازے پر آتا۔ ساز بجانے والا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا، احترام سے سکہ پکڑ لیتا اور یہ قافلہ آگے بڑھ جاتا۔ گھر میں رات کا بچا ہوا سالن پھر سے گرم کیا جاتا، روٹی پکتی، گیلی لکڑیوں پر پھونکیں مار مار کر آگ جلاتی ماں کی آنکھوں سے پانی بہنے لگتا۔ ہماری سحری کی خاص سوغات پاﺅ بھر دہی تھا جو محلے کی دکان سے پیالے میں خرید کر لایا جاتا تھا۔ سالن کے ساتھ رکھا چمچ بھر سفید دہی یاد آتا ہے تو یارا شیر خان، ہم کو ایسا لگتا ہے کہ سمرقند فرغانہ کے پہاڑوں پر گری برف سے کھیل رہے تھے۔

دن بھر ہم ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ کس نے روزہ رکھا ہے اور سرگوشیوں میں یہ بھی بتاتے تھے کہ کون سکول کے غسل خانے میں جا کر پانی پی آیا ہے۔ شام ہوتے ہوتے افطاری کا سامان ہوتا۔ گوشت ہمارے گھر میں نہیں پکتا تھا۔ مٹی کی ہنڈیا میں پکتی سبزی یا دال کی خوشبو سے روزہ مچلنے لگتا تھا۔ پانی سے بھری ایک بڑی سی بالٹی میں پیالی بھر دودھ ڈال دیا جاتا تھا۔ کچی لسی کے اس ٹھنڈے تالاب میں نمک کا ایک ڈلا پھیر کر ہم سب پیتے تھے۔ بابا کے لیے چھوٹی سی چٹائی بچھتی تھی جس پر بڑا بھائی بھی بیٹھتا تھا۔ باقی گھر والے چوکیوں اور پیڑھیوں پر دائرہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ماں چولہے کے پاس اپنی جگہ سنبھالتی تھی اور جب وہ مٹی کی ہنڈیا سے لکڑی کی ڈوئی میں سالن نکالتی تو یارا مجھ کو ملکہ وکٹوریہ لگتی تھی۔ ارے تم ملکہ وکٹوریہ کو نہیں جانتا؟ بھائی، وہ ملکہ جس کا بت لاہور میں اسمبلی ہال کے باہر بہت سال رکھا رہا۔ پھر عجائب گھر میں بھیج دیا۔ اب خدا جانے کہاں ہے۔ ظالموں نے بت کی خالی جگہ پر لکڑی کا قرآن رکھ دیا ہے۔ خدا پاک کے جیتے جاگتے کلام کو بے جان لکڑی کی شکل دے دی تو سمجھ لو کہ رمضان شریف کا لطف خراب ہو گیا۔ ہم لوگ افطاری کے انتظار میں بے چینی سے مسجد سے اٹھنے والی اذان کی آواز پر کان لگائے رہتے تھے۔ ہزارہ والے ملا فرید کی اذان میں بڑی خوبی یہ تھی کہ جب یہ کان میں پہنچتی تو ہم سستی شیرینی کا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں رکھ لیتے تھے ۔ نہ ہمیں کوئی بتاتا تھا اور نہ ہم پوچھتے تھے کہ فقہ جعفریہ والوں نے اپنے مسلک کے مطابق روزہ کب کھولنا ہے۔ یارا یہ تمہارا ٹیلی ویژن والا رمضان ہمارا سمجھ میں نہیں آتا۔ ہم نے کہا ناں، یاد کے گھونسلوں میں بہت تھوڑے پرندے باقی ہیں اور ٹیلی ویژن کا پرندہ تو ایسا مردار ہے کہ اڑ کر نہیں دیتا۔ یہ جو خوب صورت بوڑھا شاعر اظہار الحق ہے، یہ اپنے ہی دیس کی مٹی ہے ۔ ایسا لگتا ہے ، اس نے ٹیلی ویژن پر سجائے رمضان کے جشن ہی کے بارے میں لکھا تھا

                        پرندہ قاف سے آیا مگر اڑتا نہیں تھا

پرندے کی شان اڑنے میں ہے۔ کبھی مکئی کے کھیتوں میں اڑتی فاختہ دیکھی ہے۔ پرندہ اڑے نہیں تو دلوں سے خوشی اڑ جاتی ہے، گلیوں سے محبت اڑ جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رمضان شریف سے برکت اڑ جاتی ہے۔

(قند مکرر)


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “یاد کے گھونسلے میں رمضان کا پرندہ

  • 08-06-2016 at 6:54 pm
    Permalink

    وجاہت صاحب کے اکثر کالموں کے انفرادی ٹکڑے بہت عمدہ ہوتے ہیں: جذبات سے بھرپور، ابلاغ سے بھرے اور ساتھ ہی میں شستہ۰۰۰ لیکن! گستاخی معاف! اکثر کالموں کے ان ٹکروں میں نامیاتی ربط اور جوڑ کچھ کمزور محسوس ہوتا ہے؛ مضمون کی کڑی سے کڑی قدرتی اور توانا طریقے سے جُڑتی اور جڑی ہوئی کم دکھائی دیتی ہے۔ قاری تک ایک یکجائی میں، کیفیتِ واحد میں احساس نہیں پہنچ پاتا۔
    پھر سے کہنے کی جسارت ہوگی کہ لفظ خوبصورت، جملے ُپر اثر، انفرادی پیرے نہایت اچھے، پر پیروں کا باہمی ربط کچھ وقفے کے بعد قاری کو بامرِ مجبوری جست بھرنے کی کیفیت میں مبتلا کرتا ہے۔

    صرف مثبت طور دیکھیں تو لگتا ہے کہ ان کی نثر ان کے اندر کے شاعر سے لاتعلق نہیں ہو پائی ہے؛ پر ان کے اندر کا نثر نگار اپنے آپ سے ہی جھگڑے کی کیفیت میں ہے۔ ان کی تخلیق سے مجھ ایسے نالائق اور ارتکازِ ذہنی کے کمزور قاری کو ایسے لگتا ہے جیسے سوچتے وہ نظم میں ہیں، معذرت ، بہ اندازِ غزل ہیں لیکن پیش کاری نثر میں کرتے ہیں۔
    اگر تھوڑا نقد کے انداز سے کہوں تو مرکزی بیانیہِ (میکرو نیریٹو) کے اندر ذیلی بیانیے (مائیکرو نیریٹیوز) الگ الگ حیثیت میں کھڑے نظر آنے سے باز نہیں آتے۔

    میرا یہ تبصرہ صرف اس کالم/مضمون کو زیرِ نظر رکھ کر نہیں بلکہ ان کہ کسی بھی ایک مہینہ کے اندر شائع شدہ کالموں/مضامین کا منتخب نمونہ کرکے پرکھے جا سکتے ہیں، لیکن “عقیدت” کے کعبوں کے طواف کر لینے سے پہلے۔

    خدا مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

  • 08-06-2016 at 7:00 pm
    Permalink

    میری کہانی لکھ گویا آپ نے، آنسووں نے ساتھ دیا نمک کی ڈلی کے بغیرـ

  • 10-06-2016 at 8:30 am
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب آپنے اپنی تحریراس عمدگی سے لکھی ہے کہ کیمرے کی آنکھ بھی وھ منظرپیش نہیں کرسکتی جومنظرآپکے الفاظ نے پیش کیاہےآپنے ایک عام انسان کے رھن سہن کا اور حقیقی حالات جس سے ایک غریب گھرانہ گزرتا ہے بہت خوبصورت اوربہت جذباتی اندازمیں پیش کیا ہے بہت عمدہ لکھا ہے باربارپڑہنے کوجی چاہتا ہے کیاخوبصورت کلاسیکل تحریرہے جتنی بھی تعریف کی جاۓکم ہے

Comments are closed.