تعصب، نفرت اور تقسیم


m t syedسماجی اور معاشرتی تعلقات کے لئے تعصب غالباً خطرناک ترین رویہ ہے، دیکھا جائے تو دنیا کا کوئی خطہ یا معاشرہ تعصب سے پاک نہیں۔ زندگی میں کبھی نہ کبھی ہر انسان کو اپنی شناخت کی وجہ سے تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم میں سے بیشتر افراد اپنی مذہبی، نسلی یا قومی شناخت کی بنیاد پر تعصب کہ شکار ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر تعصب کیوں برتا جاتا ہے؟ معنوی اعتبار سے تعصب کا مطلب کسی فرد یا گروہ سے متعلق اس کی جنس، رنگت، عقیدے، پس منظر یا قومیت کی بناء پر رائے قائم کرلینا ہے اور اس فیصلے یا رائے میں تبدیلی کے امکان کو ختم کر دینا ہے، اس کا مطلب ہے کہ مخصوص پس منظر کے حامل ہر فرد کو اس کی شناخت کی بنیاد پر جانچا اور پرکھا جائے گا اور اس ضمن میں حقائق کی بنیاد پر مزید تفتیش یا تحقیق کی کوئی گنجائش نہیں۔

تعصب کی سب سے اہم وجہ وسائل یا اختیارات کی تقسیم کی لڑائی ہے جس کی بنیاد پر وسائل اور اختیارات تک رسائی نہ رکھنے والا گروہ اپنی ضروریات پوری نہ ہونے کی بنا پر وسائل اور اقتدار پر قابض لوگوں کے خلاف تعصب کو جنم دیتا ہے اور آنے والی نسلوں کو منتقل کرتا ہے۔

وسائل سے محروم یہ مایوس اور جھنجھلایا ہوا طبقہ تعصب اور نفرت کے اظہار کے لئے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے اور مخالف گروہ کے کمزور افراد کو نشانہ بناسکتا ہے جیسے ریاست کے استحصال کے خلاف بلوچ مزاحمت کاروں کا پنجابی آباد کاروں پر حملہ کرنا ایسی ہی ایک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرہ اپنی معاشی اور سیاسی پیچیدگی تعصب کی شکل میں اگلی نسلوں تک منتقل کرتا ہے جو بہت حد تک ان تعصبات کو عقائد کی طرح تسلیم کرتے ہوئے اس نفرت کے وارث بن جاتے ہیں۔

ماہرین نفسیات اور سماجی سائنس دانوں کے مطابق تعصب نوجوان طبقے میں آسانی اور تیزی سے سرایت کرتا ہے، آبا و اجداد سے منتقل کئے گئے تعصبات کو آنے والی نسل بنا جانچ پرکھ کے قبول کر لیتی ہے۔ تقسیم سے قبل ہندو اور سکھ آبادیوں سے متعلق جو تعصبات پاکستانیوں کو منتقل کئے گئے ہیں اب یہاں کی مقامی اقلیتوں سے نفرت اور علیحدگی کی وجہ بن چکے ہیں۔ بچے بہت جلد اپنے والدین اور معاشرے کے سکھائے تعصب اختیار کر لیتے ہیں اور پھر جلد ہی وہ خود براہ راست یا بالواسطہ تعصب کے فروغ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

تعصبات عقائد، فنون، زبان، روایات اور لطائف کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں اور انہیں زندہ رکھنے کے لئے عموماً ہر نسل نئے ہیروز اور ولن تراشتی ہے جس کی واضح مثال امریکہ اور ترقی یافتہ یورپ کے خلاف پائے جانے والی تعصب کی بنیاد پر ملالہ یوسفزئی کی جگہ عافیہ صدیقی کو ہیرو سمجھنا ہے۔ نفرت انگیز مواد کے ذریعہ ہر گروہ خاص مقصد یا محرک کے تحت غلط بیانی، الزامات، شکوک و شبہات اور تاریخ کی ہئیت کذائی کر کے اس کی اثر پزیرائی میں اضافہ کرتا ہے۔ مسلم معاشروں خصوصاََ پاکستان میں تعصب محرومیوں کا انتقام لینے کا واحد طریقہ ہے چاہے سرمایہ دار طبقہ ہو یا خود کو اعلیٰ حسب و نسب میں سے کہلانے والے افراد، لوگوں سے صرف ان کے پیشے کی بنیاد پر نفرت کرتے ہیں ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد اپنی شناحت، ذات یا اقلیتی گروہ سے تعلق ہونے کے سبب میرٹ کی بنیاد پر جاب لینے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مذہب، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر تو مسلم معاشرہ پہلے ہی تعصب اور نفرت کا شکار ہے مگر اب محض سیاسی و سماجی یا فکری اختلاف رائے رکھنا جرم سمجھا جاتا ہے جو فریقین کے درمیان ذاتی تصب اور نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی بنیاد پر تشدد اور نفرت انگیز مواد کی اشاعت کو معاشرتی تحفظ حاصل ہے۔ جس کی مثالیں ہمارے چاروں اطراف اور سوشل ویب سائٹس پر عام ملتی ہیں۔

شناخت کی بنیاد پر انسانوں کی درجہ بندی اور ان کے متعلق تعصبات راسخ کرنے سے ہر گروہ میں ضمنی گروہ پیدا ہوتے ہیں اور تعصب کا دائرہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ یہ تقسیم فرقہ بندی، صوبائیت اور سیاسی دھڑے بندیوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جس کا نقصان سب سے زیادہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو ہوتا ہے۔ اسی تعصب کی بنیاد پر کسی ایک فرد کا عمل پورے گروہ کی شناخت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ تعصب کا شکار افراد بعض اوقات لاشعوری طور پر ان مفروضوں کو تسلیم کر لیتے ہیں جو ان کے خلاف پھیلائے گئے ہوں جس سے اپنی شناخت اور پہچان سے بغاوت کے جذبات جنم لیتے ہیں جیسے تقسیم سے قبل برصغیر کے افراد انگریزآقاؤں کے زیر اثر اپنے ہندوستانی پن سے متنفر ہو چکے تھے۔ اس اعتبار سے تعصب کا شکار افراد بیک وقت ظالم بھی ہوتے ہیں اور مظلوم بھی۔


Comments

FB Login Required - comments