بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم


چالیس سالہ شاہد نے جو پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر اور کراچی کے ایک متمول گھرانے کا فرد ہے، بتایا ”میری زندگی خصوصاً نوجوانی کا بیشتر حصہ یاسیت کی کیفیت میں گزرا۔ ہر صبح کالج جانا میرے لئے محال ہوتا، زیادہ تر ناغہ ہوجاتا۔ میرے ملنے والے کہتے تم بہت ”موڈی“ ہو، کبھی مزاج آسمان پر چڑھا رہتا ہے اور کبھی نارمل۔ میں تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور باوجود اپنی بدمزاجی کے اماں ابا کا لاڈلا۔ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرے ابا کا کاروبار سنبھالا، شادی کی تو بیوی سے میرا ”مزاج“ برداشت نہ ہوا۔ ایک سال کے اندر طلاق لے لی۔ دوسری شادی سے دو بچے ہیں، میری بیوی بہت پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے، وہ زبردستی مجھے ماہر نفسیات کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے مجھے بائی پولر ڈس آرڈر تشخیص کیا اور میرے اترتے چڑھتے موڈ کو قابو میں رکھنے کیلئے دوائیاں دیں۔ میری بیوی اور بچے کہتے ہیں کہ اب میں بہتر انسان ہوں“۔

ثنا کا تعلق امریکہ کی ریاست نیوجرسی سے ہے۔ اسکے والدین رابعہ اور منصور کئی سال قبل اپنی شادی کے بعد دہلی (انڈیا) سے امریکہ آئے تھے اور پھر یہیں بس گئے۔ ثنا اور اسکے دو اور بہن بھائی یہیں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانہ امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں مقیم ہے جہاں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کئی اور خاندان بھی بستے ہیں۔ ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ثنا ہائی اسکول میں تھی تو اسے لگا کہ اس کی امی کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ ہے۔ بچوں پر جان چھڑکنے والی اماں ایک لمحے بچوں کے ساتھ ہنس بول رہی ہوتیں، ان کیلئے دیوانہ وار کام کررہی ہوتیں تو دوسرے لمحے طیش کے عالم میں بچوں کی پٹائی کررہی ہوتیں۔ سہمے ہوئے بچوں کا اعتماد ختم ہونے لگا۔ اس حقیقت کے باوجود کے ذہنی کیفیت کا مسئلہ سنگین ہے، دماغی ڈاکٹر سے ملاقات کرنا اور مدد لینا شرم و تمسخر کی علامت سمجھا گیا کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“ لیکن ایک دن جب ثنا کی امی نے ڈیپریشن کی کیفیت میں اپنا ہاتھ کاٹ لیا تو 16 سالہ ثنا نے نہ صرف 911 فون کرکے اپنی امی کو ہسپتال پہنچایا بلکہ ڈاکٹر کو ساری صورتحال کھل کر بتائی۔ تفصیلی مشاہدے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ ثنا کی امی کو بائی پولر ڈس آرڈر ہے۔ ثنا کے خیال میں ہماری ثقافت میں ذہنی بیماریوں کا شکار افراد کو شرمناک اور تمسخر کی علامت قرار دینا انتہائی ذہنی پستی کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکہ کی سوزن ایک تعلیمی ادارے میں کمپیوٹر ٹیکنالوجسٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس نے بتایا ”جب میری شادی ہوئی تو نہ مجھے اور نہ ہی خود میرے میاں کو پتہ تھا کہ اس کو کوئی ذہنی مرض ہے، اس کا غصہ میں آنا، شراب نوشی کی کثرت اور کریڈٹ کارڈز کا بے دھڑک استعمال تشویشناک صورت اختیار کرگیا اور مایوسی کی کیفیت نے اس کے میاں کو خودکشی کی کوشش کرنے پر مجبور کیا۔ ڈاکٹر نے اس کو بائی پولر ڈس آرڈر تشخیص کیا لیکن اس کے میاں نے کبھی اس کو سنجیدگی سے قبول نہیں کیا اور دوائیوں میں بے قاعدگی اور سائیکالوجسٹ سے باقاعدہ ملاقات سے بے توجہی نے مرض پر قابو نہ پانے دیا، بالآخر اس کا انجام خودکشی کی صورت دردناک موت پر ہوا۔

شاہد، ثنا کی امی رابعہ اور سوزن کے شوہر مشرقی اور مغربی معاشرہ کے کردار ہیں کہ جن کو ایک ذہنی کیفیت بائی پولر ڈس آرڈر کا سامنا تھا۔ ان افراد کا مسئلہ بیماری سے نبردآزمائی کے علاوہ معاشرتی تحقیر کا بھی تھا۔ آپ نے بھی اپنے گردوپیش میں اس مرض سے نبردآزما افراد کو ضرور دیکھا ہوگا لیکن چونکہ وہ افراد معاشرے کے صحتمند افراد کی ”بیمار نفرتوں اور تمسخر“ سے خائف ہیں لہٰذا اپنی بیماری کے دکھ اکیلے ہی جھیلنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ان کو معاشرتی تعاون کی ضرورت ہے لیکن آگہی مرض کے بغیر معاشرہ تعاون کرنے سے قاصر رہے گا لہٰذا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔

بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟  Bipolar disorder

اس ذہنی مرض کو ”مینک ڈیپریشن“ بھی کہا جاتا ہے جو نسل، جنس اور رنگ کی تفریق کے بغیر دنیا کے تقریباً 1.2 فیصد افراد کو لاحق ہے اور محتاط تخمینے کے مطابق دنیا کا چھٹا اہم مرض شمار کیا جاتا ہے۔ یہ موڈ یا مزاج، خیالات رویہ اور طاقت کے احساس میں اچانک اور اہم تبدیلی کا سب بنتا ہے۔ اس مرض میں مریض دو انتہائی مزاجوں کی کیفیت (بائی پولر) کے ادوار سے گزرتا ہے یعنی ایک دور میں اسے لگتا ہے کہ وہ بے پناہ صلاحیتوں اور طاقت سے مالامال ہے اور جس کی بنیاد پر وہ ہر معرکہ سر کرسکتا ہے، اس کی نیندیں اس سرشاری کی کیفیت میں اُڑ جاتی ہیں، گفتگو بے تکان اور خیالات کی روانی میں سرعت ہوتی ہے۔ خود پر حد سے زیادہ اعتماد ہر قسم کے خطرات مول لینے پر مائل کرتا ہے۔ اس کیفیت کو ہائی مینیا (Mania) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کے بعد قدرے نارمل دور بھی آسکتا ہے لیکن پھر مریض مینیا کی متضاد کیفیت کے دور سے گزرتا ہے، وہ ہے یاسیت اور پژمردگی کی کیفیت کہ جس میں ہر تفریح سے منہ موڑ کر مایوسی طاری ہوجاتی ہے اور وہ اتنی غالب ہوتی ہے کہ اس کا انجام اکثر اوقات خودکشی پر ہوتا ہے۔ اس کیفیت کا نام ”ڈیپریشن“ (Depression) ہے۔ اس وقت امریکہ میں 20 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں اور پاکستان یا دوسرے ممالک میں مرض کا تناسب یہی ہے، یعنی کم از کم 1.2 فیصد۔

طب کی تاریخ میں شدید ڈیپریشن کا ذکر تو 2000 سال قبل مسیح میں بھی ملتا ہے لیکن فردِ واحد میں مینک اور یاسیت کی علامات کا بیک وقت ہونے کا ذکر انگلستان کے ایک معالج رچرڈ نیپئر نے کیا جو 17 ویں صدی کے دور کا تھا۔ پھر اسی صدی کے اختتام میں جرمن ماہر نفسیات ایمل کریپلن نے بتایا کہ موڈ کی متضاد شدتیں دراصل ایک ہی مرض کی علامات ہیں۔ اس نے اس مرض کو مینک ڈیپریشن (Manic Depression) کا نام دیا، تاہم 1980ءمیں امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن نے اس کا نام بدل کر بائی پولر ڈس آرڈر رکھ دیا۔ برسوں سے دنیا میں اس مرض کے رموز و اسرار سے پردہ ہٹانے کا تحقیقی کام سرگرمی سے جاری ہے۔ یہ مرض جو عموماً موروثی ہوتا ہے اس کے شدید اثرات مریض اور گھر والوں کی زندگی کے معیار کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ گو اس کا حتمی طور پر کوئی تدارک نہیں تاہم کئی ایسی دوائیں بازار میں آگئی ہیں کہ جو زندگی کے معیار کو بہتر کرتی ہیں اور امید ہے کہ مستقبل مزید تابناک ہوگا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں