سوڈو سائنس سے کیسے بچا جائے؟


“تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ۔۔۔۔۔”

“ایک ریسرچ کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔”

“سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ۔۔۔”

یہ اور اس قسم کے بے شمار جملے آپ کو اکثر تحریروں کے شروع میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عام طور پر یہ جملے ان تحریروں کے آغاز میں درج کیے جاتے ہیں جن میں کچھ ایسے دعوے کیے گئے ہوں، جن کا لکھنے والے کے پاس کوئی ثبوت یا حوالہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ شروع سے ہی اپنے قارئین کو متاثر کرنے کے لئے ان مخصوص جملوں سے اپنی تحریر کا آغاز کرتے ہیں۔

سوڈو سائنس کیا ہے؟

جعل سازی اور فریب پر مبنی ایسے من گھڑت یا من پسند “حقائق”، علوم، روایات، دعووں اور بیانات کا پرچار جن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسی کوششوں کا نتیجہ اکثر لوگوں کو اپنا تابع بنانے اور بالآخر ان سے پیسہ بٹورنے کی شکل میں نکلتا ہے۔ سوڈو سائنس کے محبوب ترین موضوعات کیا ہیں، ان پر اکثر گروپ میں بات ہوتی رہتی ہے۔

 سوڈو سائنس کی پہچان کیسے کریں؟

بہت سے لوگ اپنے غیر منطقی اور غیر حقیقی دعووں کو لوگوں سے زبردستی منوانے کے لیے جہاں پہلے زور و ستم یا تقدیس کا سہارا لیتے تھے، وہیں آج کل یہ بھی رواج ہے کہ اس طرح کے دعووں کو سائنسی اصطلاحات کا سہارا لے کر اس طریقے سے بیان کیا جائے کہ سائنس سے کم واقفیت رکھنے والے لوگوں کو قائل کیا جا سکے۔ پس ایک سوڈو سائنس پر مبنی تحریر کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس میں سائنس، فلسفہ، پھلوں کے خواص، اخلاقیات، ما بعد الطبیعیات، اور کائنات کے اسرار و رموز وغیرہ جیسے موضوعات کو گڈ مڈ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ ایسی تحریروں میں کیے جانے والے بے سر و پا دعووں کو درست ثابت کرنے کے لئے بعض اوقات حوالے بھی دیے جاتے ہیں جن سے سائنس کا شوق رکھنے والے عام لوگ با آسانی متاثر ہو جاتے ہیں۔

لوگ سوڈو سائنس پر مبنی تحریروں سے متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

 اس کی بظاہر دو وجوہات ہیں:

ایک تو یہ کہ ایسی تحریریں ایک عام آدمی کے سامنے وہی کچھ پیش کرتی ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے۔ لوگ جب اپنے پہلے سے طے شدہ تصورات کا بیان جدید لب و لہجے میں اور بظاہر سائنسی ثبوتوں کے ساتھ پڑھتے یا سنتے ہیں تو انہیں متاثر ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ اس کو کنفرمیشن بائيایس (تصدیق تعصب) بھی کہتے ہے۔

دوسری وجہ ہمارے ہاں سائنسی اور تحقیقی رویوں کی کمی ہے۔ ظاہر ہے ایک عام آدمی کو نہ تو اس سے کوئی سروکار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اتنا وقت کہ وہ ہر تحریر میں کیے گئے دعووں کی تصدیق کے لئے حوالہ جات مانگے اور بعد میں ان حوالہ جات کی تخریج اور تحقیق بھی کرے۔ اس سے سوڈو سائنس والوں کا کام اور آسان ہو جاتا ہے اور وہ “تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ۔۔۔۔” جیسے جملوں سے آغاز کرنے کے بعد کچھ بھی لکھ دیتے ہیں، واقعی کچھ بھی!

کیا ایسی تحریروں کے حوالے درست ہوتے ہیں؟

آج تک میں نے سوڈو سائنس پروموٹ کرنے والوں سے جتنے بھی حوالے مانگے ہیں، ان کے جواب میں مجھے انٹرنیٹ آرٹیکلز اور یوٹیوب ویڈیوز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا۔ یاد رکھیں کہ خبروں اور معلومات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور یوٹیوب کا ایک بہت بڑا مقصد تفریح مہیا کرنا بھی ہے۔ لہٰذا سنجیدہ موضوعات پر ڈسکشن یا آگاہی کے لئے نیٹ پر بھی مناسب ذرائع سے ہی معلومات لینی چاہیئں۔

معلومات کہاں سے لیں؟

آپ کو جس موضوع پر معلومات چاہئیں، پہلے یہ دیکھیں کہ کیا اس موضوع پر کوئی انٹرنیشنل پروفیشنل سوسائٹی یا گروپ موجود ہے یا نہیں۔ پھر اس سوسائٹی یا گروپ کا کوئی آفیشل پیج یا میگزین وغیرہ ہے تو اس کی ممبر شپ حاصل کریں۔ عام طور پر ایسی ممبر شپ فری ہوتی ہیں۔ مثلاً میڈیکل کے موضوعات پر آپ کو ہر شعبے کے ماہرین کی بین الاقوامی سوسائٹیز ملیں گی جو اپنا کم از کم ایک ہفتہ وار، ماہوار، یا سہ ماہی میگزین بھی شائع کرتی ہیں۔ اسی طرح آسٹرانومی، نفسیات، مینیجمنٹ، اور دوسرے موضوعات۔

کیا ایک سائنسی یا میڈیکل میگزین میں دی گئی معلومات بھی غلط ہو سکتی ہیں؟

اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ میگزین یا رسالہ اس شعبے کے ماہرین میں کتنا مقبول یا قابل اعتبار ہے۔ عام طور پر جو میگزین جتنا زیادہ قابل اعتبار ہوتا ہے اس میں ایک نئے ریسرچر کے لئے اپنی تحریر یا آرٹیکل شائع کروانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میگزین میں تحریر شائع ہونے سے پہلے ایڈیٹوریل بورڈ، جو خود بھی اس شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے، اس کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کو پیئر ریویو بھی کہتے ہیں۔

کیا قابل اعتبار ہونے کا کوئی پیمانہ بھی ہے؟

جی ہاں، بالکل ہے۔ جو رسالہ جتنا زیادہ قابل اعتبار ہوتا ہے، اس میں چھپنے والے مضامین کو اس شعبے کے ماہرین اتنا ہی زیادہ کوٹ کرتے ہیں۔ ایک سائنسی میگزین میں پچھلے دو سالوں میں شائع ہونے والے مضامین کی تعداد پر انہی دو سالوں میں کوٹ کیے جانے کی تعداد کو تقسیم کرکے ایک عدد حاصل کیا جاتا ہے۔ اس عدد کو اس رسالے کا امپیکٹ فیکٹر کہتے ہیں اور یہ تحقیق ایک آزاد تنظیم کرتی ہے۔ مثلاً نیچر نامی سائنسی جریدے میں سن دوہزار بارہ اور تیرہ میں کل ایک ہزار سات سو انتیس مضامین شائع ہوئے جن کو دوسرے تحقیقی مقالوں میں اکہتر ہزار چھ سو ستتر مرتبہ کوٹ کیا گیا۔ اس طرح نیچر کا سن دوہزار چودہ کا امپيکٹ فیکٹر اکتالیس ہے، گویا اس میں شائع ہونے والی ہر تحریر اوسطاً اکتالیس مرتبہ کوٹ کی گئی جو اس جریدے پر اس شعبے کے ماہرین کے اعتماد کا اظہار ہے۔

اپنے من گھڑت “حقائق” کے ثبوت میں لوگ ایسے ایسے جرائد سے بھی تحریریں ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں جن کا امپيكٹ فیکٹر ایک سے بھی کم ہوتا ہے۔

آئندہ آپ کو کوئی کسی غیر معروف سائنسی جریدے کا حوالہ دیکر مرعوب کرنے کی کوشش کرے تو اس سے اس جریدے کا امپيكٹ فیکٹر ضرور پوچھیں۔

آخر میں ایک گزارش!

سائنس میں سوچنے سمجھنے کا طریقہ کار تجسس اور تشکیک سے شروع ہوتا ہے۔ سائنس سیکھنے کے لئے معلومات جمع کرنے سے زیادہ سائنسی رویے رکھنا ضروری ہے۔ آپ بھی اگر سائنسی طرزِ فکر اپنانا چاہتے ہیں تو اپنے سوچنے سمجھنے کا آغاز شک سے کیجئے۔ سائنس کے میدان میں شک رہنمائی کرتا ہے، یقین گمراہ کردیتا ہے:

ان کو تشکیک سے ملی منزل

ہم کو اپنا یقین لے ڈوبا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں