قائم علی شاہ نے اپنے دور میں کراچی سے کچرا کیوں نہیں اٹھوایا؛ جاوید چوہدری کا انکشاف


معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں؛

“2013ء کو ابھی زیادہ دن نہیں گزرے‘ میری کراچی میں سندھ کے اس وقت کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے چھوٹی سی پبلک میٹنگ ہوئی‘ شاہ صاحب موج میں تھے‘ وہ اپنی سیاست کے ابتدائی دنوں کی باتیں دہرا رہے تھے‘ کسی صاحب نے عرض کیا‘ کراچی میں کچرے کے ڈھیر لگ رہے ہیں‘ لوگ سر پر ہاتھ رکھ کر دہائیاں دے رہے ہیں‘ آپ یہ گند صاف کیوں نہیں کرتے‘ وہ ہنس کر بولے ’’سائیں کر رہے ہیں‘ آہستہ آہستہ ہو جائے گا‘‘۔

صاحب نے عرض کیا ’’شاہ صاحب آہستہ آہستہ تو بہت دیر ہو جائے گی‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میں نے سیاست میں دو سبق سیکھے ہیں‘کچھ بھی ہو جائے‘ پارٹی نہ چھوڑیں‘ جس نے بھی چھوڑ دی وہ کٹی پتنگ بن گیا اور دوسرا ‘جو بھی کام کریں آہستہ آہستہ کریں‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’کراچی کا کچرہ نہیں اٹھ رہا‘ لوگ مجھے گالیاں دے رہے ہیں۔

میں آج کچرہ اٹھا دوں یہی لوگ کہیں گے قائم علی شاہ نے ہمارا قیمتی کچرہ بیچ دیا‘ میرے خلاف سوموٹو ہو جائے گا اور مجھے کچرہ اٹھانے کے جرم میں ہتھکڑی لگ جائے گی چنانچہ آپ فیصلہ کرو ہتھکڑی اچھی ہے یا پھر گالی‘‘ وہ صاحب خاموش ہو گئے۔”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں