ڈٰیم کے واسطے مطلوبہ فنڈ جمع کرنے لیےجاوید چوہدری کی ایک تجویز


معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں؛

“ملک میں اس وقت 6 ہزار جعلی اور غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں‘ یہ سوسائٹیاں عوام کے کھربوں روپے کھا گئیں‘ پارلیمنٹیرینز کے لیے 2005ء میں پارلیمنٹیرینز انکلیو سوسائٹی بنی‘ سی ڈی اے نے اس کی باقاعدہ منظوری دی۔

آج تک اس کی ایک سڑک نہیں بنی‘ سینیٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹی 1996ء میں بنی‘ آج تک کام شروع نہیں ہوا‘ سپریم کورٹ کی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی (سپریم کورٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی)1984ء میں شروع ہوئی‘ آج تک مکمل نہیں ہوئی۔

وزارت داخلہ سمیت ملک کی تمام وفاقی وزارتوں کی بھی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں‘ ان میں سے بھی کوئی مکمل نہیں ہوئی اور پولیس‘ رینجرز اور ائیرفورسز کی ہاؤسنگ اسکیمیں بھی پھنسی ہوئی ہیں لیکن ملک کا کوئی ادارہ‘ کوئی محکمہ ان سے نہیں پوچھ رہا‘ کوئی ان کا احتساب نہیں کر رہا اور احتساب اگر ہو رہاہے تو اس ملک ریاض کا ہو رہا ہے جو دو دو سال میں پورا پورا شہر آباد کر دیتا ہے اور ریٹائرڈ جنرلز‘ ایڈمرلز اور ائیر چیف ہوں یا پھر سفیر‘ تاجر‘ صنعت کار اور بیورو کریٹس ہوں وہ اپنے سرکاری پلاٹس بیچ کر اس کی ہاؤسنگ اسکیموں میں رہتے ہیں‘ اوور سیز پاکستانی سب سے زیادہ سرمایہ کاری ملک ریاض کی اسکیموں میں کرتے ہیں‘ یہ بینکوں پر اتنا اعتبار نہیں کرتے جتنا اعتبار یہ اس کے لوگو پر کرتے ہیں چنانچہ یہ کرنے کی سزا بھگت رہا ہے۔

آپ کمال دیکھئے ہم نیا پاکستان گھر اسکیم کے لیے باہر سے 20 ارب ڈالر کی توقعات لے کر بیٹھے ہیں لیکن تین ہزار ارب روپے مالیت کی کمپنی تباہ کر رہے ہیں‘ چیف جسٹس دیامر بھاشا ڈیم کے لیے پوری دنیا سے امداد مانگ رہے ہیں‘ میری درخواست ہے یہ ڈوبی ہوئی چھ ہزار ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان کو بلوائیں اور یہ ان کی جائیداد بیچ کر ان سے ایک ایک ارب روپے وصول کر لیں‘ ڈیم کے پیسے پورے ہو جائیں گے.”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں