کیا پی ٹی آئی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے ؟


مشیر سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد آج کل اہم ترلا مشن پر ہیں۔ سیٹھ لوگوں کے پاس جا جا کر کہہ رہے ہیں کہ حوصلہ کریں گزارا کریں ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس حکومت کو وقت دیں۔ ہم معیشت سنبھال لیں گے۔ اس ترلا مشن کی ہرگز نوبت نہ آتی ۔ اگر معیشت کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ۔ بیان بازی سے گریز کیا جاتا۔ بروقت فیصلے کر لیے جاتے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی تھا تو پہلے ہی اعلان کر دیا جاتا۔ کنفیوژن نہ پھیلتا۔ سٹاک ایکسچینج کی قلابازی نہ لگتی۔ اپنی روٹین میں گرتی چڑھتی رہتی۔

عقیل کریم ڈھیڈی کپتان حکومت کے ایک بڑے حامی ہیں۔ پاکستانی سٹاک مارکیٹ کے ایک بڑے پلئر ہیں۔ سرمایہ داروں کے ایک ہیوی ویٹ نمائندے ہیں۔ الیکشن دو ہزار اٹھارہ کے لیے ان کے دفتر کی تیار کردہ جائزہ رپورٹ بہت ٹھیک رہی۔ الیکشن نتائج کے حوالے سے ان کی پیش گوئیاں تقریبا ٹھیک ہی ثابت ہوئیں۔ کپتان کو مبارک باد دینے بنی گالہ پہنچنے والوں میں عقیل کریم ڈھیڈی نمایاں تھے۔ ڈھیڈی سے اپنا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ سیاست حکومت بارے جاننا ہو تو سیٹھ لوگوں کی خبر رکھنی ضروری ہے۔ اپنا اک نکا ہے سارا دن کراچی میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے۔ سیٹھ لوگوں کا سارا نہیں بہتیرا احوال اس سے مل ہی جاتا ہے۔

اپنے نکے سے پوچھا تھا کہ سیٹھ نے کپتان سے ملاقات میں کیا کہا ہو گا۔ حاصل وصول بتا ایک جملے میں۔ نکے کا کہنا تھا سیٹھ نے کہا ہو گا کپتان احتساب کا بخار جو چڑھا ہے تیرے کو۔ وہ اترتا نہیں لگتا اپنے کو۔ مہربانی کرنا احتساب کرنا پر کاروباری لوگوں میں اور سیاستدانوں افسروں میں فرق رکھنا۔ ورنہ بیڑے غرق ہون گے۔ ہمارے نکے کا خیال تھا کہ بات ہو گئی ہے۔ اپنا خیال تھا کہ بات کپتان کو سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی۔ ہمارے ہاں مرنا یہ ہے کہ جب احتساب ہوتا ہے۔ بڑے ناموں پر گھیرا تنگ ہوتا ہے۔ تو ایف بی آر کسٹم اور انڈسٹری کی وزارتوں کے چھوٹے اہلکار کاروباری طبقے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ کاروبار بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔

سٹاک مارکیٹ ویسے ہی ڈانواڈول تھی۔ حکومت کی طرف سے مکس معاشی سگنل آ رہے تھے۔ ایسے میں جب شہباز شریف کی گرفتاری ہوئی تو سٹاک مارکیٹ نے قلابازی لگا دی۔ اب ترلا مشن جاری ہیں۔ اسد عمر کا بیان بھی فوری آ گیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں۔ صورتحال کچھ واضح ہوئی۔ گراوٹ میں ایک ٹہراؤ بھی آئے گا۔ پر ہمارے مسائل یہاں پر ختم نہیں ہوتے۔ کرپٹ کرپٹ کا شور مچاتی پی ٹی آئی حکومت میں آ گئی ہے۔ اس شور سے کی کچھ پرانی کہانیاں ہیں ۔ کچھ اسی شور سے نئی پھوٹ رہی ہیں ۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کرپشن کی بات کرتی اور سی پیک پر بات نہ کرتی، اس پر بات کرنی تھی کی ۔ چینی اس پر رگڑے میں آنے تھے آ گئے ۔

سی پیک نون لیگ کا فلیگ شپ تھا۔شریف حکومت نے پچھلے دور میں سی پیک سی پیک کا ہی گیت گایا ہے۔ قطر سے گیس معاہدہ سائیڈ پر کریں تو نون لیگ کے باقی سب کام سی پیک سے متعلق ہی تھے ۔ بجلی منصوبے موٹر وے ڈیم میٹرو اور اورینج ٹرین۔ ان کی سیاست اسی کے گرد گھوم رہی تھی۔ جن منصوبوں کے گرد نون لیگ اپنی سیاست گھما رہی تھی ۔ انہیں پی ٹی آئی کیسے نظرانداز کرتی؟ یہ منصوبے کامیاب ہوتے تو سیاست بھی کامیاب ہو جاتی نون لیگ کی ۔ منصوبوں پر سوال اٹھائے گئے تو منصوبے تو گرتے پڑتے چل رہے ہیں ۔ سیاست ڈوب گئی نون لیگ کی ۔

اداروں کو بھی سی پیک سے کچھ حقیقی مسائل تھے۔ پہلی بار ہمارے ادارے یہ فیل کر رہے تھے کہ سی پیک نے پاکستان میں طاقت کا توازن سول کی طرف زیادہ کر دیا ہے۔ اک خدشہ یہ بھی تھا اور اصلی تھا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں چینی اندھا دھند ہر طرف نہ چھا جائیں۔ سیکیورٹی کمپرومائز نہ ہو جائے۔ اک حقیقی خدشہ معاہدوں پر بھی تھا کہ یہ واضح طور پر چین اور چینی کمپنیوں کے زیادہ فائدے میں ہیں۔ اس کا جواب نون لیگ اور چینی دونوں اچھا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر فائدہ نہ دیا جاتا تو سرمایہ کاری کیسے آتی کہ سی پیک میں بہت کچھ چینی پرائیویٹ سیکٹر نے بھی کرنا تھا۔ یعنی چینی سیٹھ جو ساری دنیا کے سیٹھ کی طرح فائدے کے پیچھے ہی جاتے ہیں۔

ہماری اندرونی سیاست میں یہ سب کھینچا تانی تب ہو رہی تھی ۔ جب امریکی بھی چینی بیلٹ اور روڈ منصوبوں سے چڑنا شروع ہو چکے تھے ۔ بہت سی متضاد آپس میں غیر متعلق طاقتوں کے مفادات ایک ہو گئے ۔ پی ٹی آئی کے لیے حالات سازگار ہوتے گئے وہ حکومت میں آ گئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ چینیوں کو ہم ناراض کر چکے ہیں۔ کتنا تو وہ اتنا ناراض ہیں کہ کہتے ہیں کہ آپ نے سی پیک سارا ختم کرنا ہے تو کر دیں۔ بس ایک مہربانی کریں منہ بند رکھیں۔ ہم نے پاکستان کے لوگوں میں جو ساکھ پچھلے ساٹھ پینسٹھ سال میں ایک دوست ملک ایک برادر ملک ایک اچھے ہمسائے کی بنائی ہے اسے ضائع نہ کریں۔ اب کپتان چین جائے گا تو اسے اندازہ ہو گا کہ اس نے خود کو کس مشکل میں ڈال لیا ہے۔

ہماری معیشت بہت گہرائی میں سعودیہ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ سعودیوں کے ساتھ بھی نئی حکومت بچوں کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔ چوھدری فواد حسین لدھڑ ( یاد رہے ان کا تعلق جہلم کے مشہور لدھڑ خاندان سے ہے، یہ ان کا فیملی نام ہے ) فرماتے ہیں کہ ہم نے سعودیہ سے کیش اس لیے نہیں لیا کہ ان کی شرائط ہمیں منظور نہیں تھیں۔ سعودی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے حد حساس ہیں ۔ وہ یاد رکھتے ہیں ردعمل دیتے ہیں۔  اک سعودی کا کہنا تھا کہ ہم یہ تو گوارا کرتے ہیں کہ ہمارا دوست ہمارے دشمن کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ اس کے ساتھ فوٹو کھنچوا لے۔ ہم یہ گوارا نہیں کرتے کہ اس فوٹو میں وہ مسکرا بھی رہا ہو۔

سعودیوں کی بات ہو گئی تو اب قطریوں کی بھی سن لیں۔ قطری شہزادہ پاکستان سے سرمایہ کاری نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اسے میڈیا پر طرح طرح سے ڈسکس ہونا ہضم نہیں ہو رہا۔ سرمایہ کاری سے یاد آیا کہ نواشریف کے بہت قریبی ایک بڑے سرمایہ دار نے نئے منصوبوں پر کام فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔ آپ نام سوچتے رہیں دھیان خود ہی چلا جائے گا ان کی طرف۔

اک امریکی نے ہماری نئی حکومت بارے بتا کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو ہم کپتان کو نہیں جانتے۔ اس کا جو بھی کرشما تھا کھیل کے حوالے سے تھا۔ ہم وہ کھیل ہی نہیں کھیلتے۔  پی ٹی آئی کے واشنگٹن میں جو طاقت کے مراکز ہیں وہاں کوئی رابطے نہیں ہیں۔ کپتان کی ٹیم ساری پرانی ہے۔ اس ٹیم کو ہم مشرف دور میں دیکھ چکے ہیں۔ یہ درمیانے سے ذرا کم لیول کے لوگ تھے۔ حکومت کا معمولی سا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی ذات سے کوئی کارنامہ منسوب نہیں ہے۔

ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ انہیں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی صلاحیت کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ وقت لگے گا اگر یہ اس قابل ہوئے تو ان کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم کر لیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ معیشت سنبھال سکے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 332 posts and counting.See all posts by wisi