اماراتی شخص کو بیٹوں نے غبارے میں اڑا دیا، سچ یا جھوٹ؟


آپ نے فیس بک اور وٹس ایپ پر ایک ویڈیو دیکھی ہو گی جس میں چند نوجوانوں نے ایک شخص کو کرسی پر بٹھایا گیا ہے۔ ساتھ واضح کیا گیا ہوتا ہے کہ بچوں نے موج مستی کی خاطر اپنے باپ کو غباروں سے باندھ کر ہوا میں اڑا دیا۔ ان کا یہ مذاق اس وقت ٹریجیڈی میں بدل گیا جب باپ ہوا میں توقع سے زیادہ بلند ہو گیا اور اڑتا اڑتا ہمسایہ ملک اومان میں پہنچ گیا۔ بارڈر کے محافظوں نے اسے اس طرح اڑتے ہوئے دیکھ لیا اور بعد میں تلاش کرنے پر وہ اومان کی ویران پہاڑیوں میں شدید زخمی حالت میں ملا۔

اس سیریز میں تین ویڈیو ہیں۔ پہلی میں اس شخص کو کرسی سے باندھ کر ہوا میں اڑایا جا رہا ہوتا ہے۔ دوسری میں ایک لانگ شاٹ میں ان غباروں کو انتہائی بلندی پر اڑتا ہوا دکھایا جا رہا ہے۔ تیسری میں ویران پہاڑوں پر چند افراد ایک زخمی شخص کو سٹریچر پر اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور اسے ایک ہیلی کاپٹر میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ ویڈیو اصل میں امارات کی مشہور کمپنی عمار کے لیے اشتہاری کمپنی مس فٹ کری ایشنز نے بنائی تھی جسے کراپ کر کے اشتہاری کمپنی اور عمار کے لوگو اور پیغامات ہٹا دیے گئے ہیں اور اسے چند غیر متعلقہ ویڈیوز کے ساتھ ملا کر فیک ویڈیو بنائی گئی ہے اور ایک حقیقی واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اصل اشتہار کی ویڈیو یہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں