کیا بڑھتی ہوئی ہوس پرستی کا ذمہ دار صرف میڈیا ہے؟


عجب وقت آن پڑا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کے معاملے میں کسی سگے رشتے پر بھی اعتبار نہیں کر سکتے۔ آئے روز ایسے ایسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ والدین، سرپرست سے زیادہ محافظ بن چکے ہیں۔ یوں تو شیطان کے ساتھی ہمیشہ سے ہی کہیں نہ کہیں موجود رہے ہیں لیکن اب تو ہر روز ایسے درجنوں واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں اکثر بچے بچیاں ان انسانی درندوں کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں جنہیں بچوں کی معصومیت اور زندگی کا بھی کوئی احساس نہیں ہوتا۔

زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار اکثر اوقات میڈیا کو ٹھہرایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ‌کیبل، ڈش اور انٹرنیٹ پر موجود ہیجان انگیز مواد اس روش کو تقویت دے رہا ہے جس سے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی میں ان سہولیات کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیونکہ جدید دنیا کے ساتھ جڑے رہنے اور اردگرد کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے کیبل اور انٹرنیٹ کا استعمال ناگزیر ہے۔ لیکن فکر کی بات تو یہ ہے کہ اس اخلاقی گراوٹ کا شکار صرف نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ پچھلے دنوں ایک معروف عمر رسیدہ صحافی پر اس قسم کے الزامات لگائے گئے اور ثبوت کے طور پر ان صاحب کی آڈیو بھی منظر عام پر آئی لیکن وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے۔ موصوف کی جانب سے اسے فیک قرار دیا گیا اور معاملہ ہ جیسے خود ہی اٹھا تھا ویسے ہی ختم بھی ہو گیا۔ ویسے بھی معروف شخصیات کے وسیع تعلقات ہونے کی وجہ سے وہ اکثر بلکہ ہمیشہ ہی ”کلین ہینڈڈ“ ثابت ہو جاتے ہیں۔

ایسے بہت سے کیس سامنے آتے ہیں جن میں یا تو بدنامی کے ڈر سے لوگ رپورٹ درج ہی نہیں کرواتے یا پھر مجرم اس قدر طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ روپے پیسے اور اکثر اوقات دھونس جما کر معافی تلافی کرا لیتے ہیں۔

میری اپنی ذاتی رائے میں اس بڑھتے ہوئے اخلاقی دیوالیہ پن کا سبب صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ بہت سے عوامل ہیں جن میں سب سے اہم انفرادی وجہ ایک شخص کا ذاتی کردار ہے جس کا میڈیا سے کوئی لینا دینا نہیں۔ کیونکہ میڈیا صرف عریانیت پر مبنی پروگرام ہی نہیں دکھاتا بلکہ ایک بہت بڑی تعداد میں اصلاحی اور معیاری مواد بھی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ زمانے میں میڈیا ایک عام شہری کو آگاہی فراہم کرنے کا سب سے اہم زدیعہ بن چکا ہے۔ ایک اور اہم وجہ قانون کا نہ ہونا ہے، جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ ملک میں قانون کی حقیقی روح نہ ہونے کی وجہ سے طاقتور ظلم کو ظلم نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے پیسے سے غریب امیر سب کو رام کیا جا سکتا ہے۔

آج کے دور میں جب لوگوں میں اچھا خاصا شعور آ چکا ہے، ابھی بھی لوگ زیادتی یا ہراساں کیے جانے کے واقعات کو بدنامی مول لینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ جس سے مجرم کا حوصلہ مزید بلند ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے لوگ اس بارے اپنی رسوائی کر مارے کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔ لوگوں میں یہ شعور ہونا چاہیے کہ بدنام وہ نہیں جس کے بچے یا بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ بدنام تو ظلم و زیادتی کرنے والا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی رعایت کا حق دار نہیں۔ ہراساں کرنے کی رپورٹ درج نہ کروانا اس گھناؤنے جرم کی افزائش کی طرف پہلا قدم ہے۔

میرے خیال میں اس جرم کو صرف قانون کی حکمرانی سے ہی روکا جا سکتا ہے اس مقصد کے لیے شکایات درج کرانے کے لئے آن لائن طریقہ متعارف کرایا جائے تاکہ وہ لوگ جو بدنامی کے ڈر سے تھانہ کچہری کا رخ نہیں کرتے وہ گھر بیٹھے رپورٹ درج کروا سکیں۔ زیادتی سے متعلق کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور ملزمان کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ بچے اپنا بچپن اسی آزادی اور خوبصورتی سے گزار سکیں جس کے وہ حق دار ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں