خان صاحب کا لالی پاپ اور معیشت



پنجابی زبان کی ایک بہت معروف ضرب المثل ہے ”جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی“ اور یہ ضرب المثل ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان صاحب کی حکومت پہ بہت ہی احسن طریقے سے بیٹھتی ہے۔ “نیا پاکستان“اور ”تبدیلی“ یہ وہ دو نعرے تھے جن سے تحریک انصاف نے پرانے پاکستان کے باسیوں کو بیوقوف بنایا اور نئے پاکستان کےایسے خواب دکھائےکہ بیچارے عوام پرانے پاکستان کو ترسنے لگے۔

اقتدار میں آنے کے لئے خان صاحب نے جو خوشنما نعرے لگائے تھے وہ واقعی ہی اتنے خوشنما ثابت ہوئے کہ حقیقت سے ان کا ناطہ ٹوٹنے لگا اور عقل کے پردوں پہ ہتھوڑوں کی طرح برسنے لگے۔ بقول غالب

دل کے بہلانے کو غالب
یہ خیال اچھا ہے

خان صاحب نےعوام کا دل بہلانے کے لئے ایک نئے لالی پاپ کا بندوبست کیا تھا کیونکہ خان صاحب بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ عوام 70 برسوں سے ایک ہی طرح کے فلیور کے لالی پاپ سے اکتا گئے ہیں اور اب ان کو ایک نیا فلیور چاہیے چنانچہ خان صاحب نے 3 رنگوں سےایک نیا فلیور بنایا اور عوام کے درمیان جاکر بیٹھ گئے کہ بھیا کھا کے بتاؤ کہ ایسا سواد پہلے کبھی آیا؟ اور چونکہ یہ سواد سب سے الگ تھا اس لئے عوام نے خوشدلی سے قبول کیا۔

اس فلیور کا ایک رنگ تھا ”بیرونی قرضوں سے نجات“ خان صاحب اپنے ہر جلسے میں علی الاعلان یہ کہتے پائے گئے کہ ہم حکومت میں آکر سب سے پہلے آئی ایم ایف کا کشکول توڑیں گے اگر اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو میں خود کشی کو گلے لگا لوں گا تو اب جبکہ خان صاحب آئی ایم ایف کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئے ہیں تو یہ اعلان بھی کر دیں کہ خودکشی کے متبادل انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے؟

خان صاحب کے ”خیر خواہوں“ نے یہ تو بتا دیا ہو گا کہ خان صاحب جلسوں میں جتنی بڑھکیں مارنی تھی مار چکے اب عملی طور پہ کچھ کرنے کا وقت آگیا ہے اور آئی ایم ایف کا کشکول تھامنے کے سوا کوئی چا رہ نہیں ہے اور چونکہ خودکشی ٹھہری حرام تو اب اپنی زبان کے عوض کوئی متبادل راستہ اختیار کریں کیونکہ یو ٹرن کے ماہر تو آپ ہیں ہی۔

تو بھیا بات صرف اتنی ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر بڑی بڑی بڑھکیں مارنا بہت آسان کام ہے اور حکومت کرنا اس کے متضاد۔ جب آپ کو پتا ہو کہ آپ میں عملی طور پہ کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو خدارا عوام کو اور بیوقوف بنانا بند کر دیں۔ جب ڈالر 128 پہ تھا تو معشیت کی تباہی کا بہت واویلا مچایا تھا آپ نے تو اب آپ کی بدولت ڈالر 137 پہ چلا گیا ہے تو اب بتائیں کہ معشیت کیسے بحال ہو گی؟ حکومت استخاروں اور تعویذوں پہ نہیں چلتی خان صاحب اس کے لئے آپ کا سیاسی قد بلند ہونا چاہیے اور سیاست کرنے کے داؤ پیچ آنے چاہئیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں