نامعلوم افراد کی فائرنگ سے یونیورسٹی لاءکالج کوئٹہ کے پرنسپل جاں بحق


principle law college quettaکوئٹہ میں پرنسپل لا ءکالج کے پرنسپل کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ، وکلاءواقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ، حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، بیرسٹر امان اللہ گورنر بلوچستان اور محمود خان اچکزئی کے بھتیجے تھے۔ پولیس کے مطابق کلی ترخہ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بیرسٹر امان اللہ پر اس وقت فائرنگ کی جب اپنے گھر سے کالج جا رہے تھے۔ فائرنگ سے پرنسپل لاءکالج شدید زخمی ہو گئے اور سول ہسپتال منتقل ہونے سے قبل ہی دم توڑ گئے جس کے بعد وکلاءکی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری بھی صورتحال کو کنٹرول کرنے سول ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹرز کے مطابق پرنسپل امان اللہ کو 5 سے 6 گولیاں لگی ہیں۔ یونیورسٹی لا کالج کے پرنسپل امان اللہ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اور محمود خان اچکزئی کے بھتیجے ہیں جو لاءکالج کے گزشتہ سال اپ گریڈیشن کے بعد بیک وقت گورنمنٹ لاءکالج کے پرنسپل سمیت لاءیونیورسٹی کا اضافی چارج بھی سنبھال رہے تھے۔ واقعے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کی رپورٹ طلب کر لی جبکہ وکلاءکی بڑی تعداد احتجاج کرتے گورنر ہاﺅس کے سامنے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتی رہی جبکہ ابتدائی تحقیقات کے بعد سول ہسپتال کی انتظامیہ نے لاش ورثا کے حوالے کر دی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments