پولیس اور مجسٹریٹوں کی جنگ اور ریل پر ڈاکہ


یورپ اور امریکہ کی پولیس تو جرائم کا سراغ سائنٹفک طریقوں سے لگاتی ہے، اور شاید ہی کوئی ایسا مقدمہ ہو گا، جس میں ان کو سائنٹفک طریقوں کو اختیا ر کرتے ہوئے کامیابی نہ ہو۔ چنانچہ مقدمہ میں شیشوں پر لگے ہوئے انگلیوں اور ہاتھوں کے نشانات، پستول اور بندوق میں سے نکلی ہوئی گولی اور نالی کے اندر کے فوٹو، السیشن کتوں کے ذریعے کپڑوں اور خون کی بو، موٹروں کے ٹائروں کے گھسے ہوئے حصہ کے نشان، خطوط پر لگے ہوئے ہاتھوں کی انگلیوں کے مارکس وغیرہ، سینکڑوں طریقے اختیارکیے جاتے ہیں، اور چند روز میں ہی ملزم گرفتار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہندوستان اور پاکستان میں جرائم کا ثبوت حاصل کرنے کے لئے پولیس کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے، جسے ” تھری ڈگری“ یعنی تشدد کہا جاتا ہے۔

اور اس ” تھری ڈگری“ کے طریقہ میں، ناک میں سرخ مرچیں ڈالنا، سردیوں میں برف کی سل پر لٹانا، مارنا پیٹنا، تھیلے میں، پاخانہ ڈال کر ملزم کے منہ پر باندھنا، ہتھکڑی لگا کر دن بھر کھڑے رکھنا، برسات کے دونوں میں تنگ کو ٹھڑی کے اندر کئی سو کینڈل پاور کا لیمپ بجلی کا جلا کر ملزم کے پاس مچھروں اور پتنگوں کو جمع کرنا، اور کئی کئی روز تک سونے نہ دینا وغیرہ ذریعے شامل ہیں۔

اس ” تھری ڈگری“ طریقے کے سلسلے میں مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا، جس کا علم مجھے گوڑ گاؤں میں اس وقت ہوا، جب کہ میں ایک مقدمہ کے سلسلہ میں وہاں گیا۔ یہ واقعہ۔ کا ہے۔ اس زمانہ میں انڈین سول سروس کے ایک نوجوان ممبر مسٹر لغاری ( یہ صاحب آج کل غالباً ملتان میں کمشنر ہیں، اور ڈیرہ غازی خاں کے ایک بہت بڑے رئیس اور زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ) سیٹلمنٹ کی ٹریننگ لینے کے لئے عارضی طور سیٹلمنٹ آفیسر گوڑ گاؤں میں تعینات تھے، اور آپ وہاں معہ اپنی بیوی کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھے۔

مسٹر لغاری اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے علاوہ نوجوان تھے۔ دو برس پہلے تعلیم حاصل کرنے اور انڈین سول سروس میں داخل ہونے کے بعد واپس ہندوستان آئے تھے، اور آپ پولیس کے طریقہ پائے تفتیش سے قطعی ناواقف تھے۔ سرکاری ریسٹ ہاؤس میں قیام گئے آپ کو دو تین ماہ ہوئے تھے، کہ گرمیوں کے زمانہ میں آپ جب کہ اپنی بیوی کے ہمراہ ریسٹ ہاؤس کے چھت پر سوئے ہوئے تھے، آپ کے کانوں میں ” ہائے مار دیا“۔
” ہائے میں بیگناہ ہوں“۔
” خدا کے لئے مجھے معاف کردو“۔
کی درد ناک آواز پہنچی۔

رات کے بارہ ایک بجے کا وقت تھا۔ آپ برداشت نہ کر سکے، اور کپڑے پہن کر پولیس کے تھانہ میں چلے گئے جہاں سے کہ یہ آوازیں آرہی تھیں۔ (پولیس تھانہ ریسٹ ہاؤس سے بہت کم فاصلے پر تھا) تھانہ میں پہنچنے کے بعد آپ نے دیکھا، کہ ایک ملزم کو کانسٹبلوں کے ہاتھوں پٹوایا جا رہا ہے، اور جب تشدد کے باعث ملزم کو چوٹ پہنچتی ہے، اور تکلیف ہوتی ہے، تو وہ بے چارا چلاتے ہوئے، ”ہائے مار دیا“ وغیرہ کہتا ہے۔ اور پولیس کے سب انسپکٹر صاحب جو ضلع گوجرانوالہ کے کھتری ہندو تھے، کرسی پر پاس بیٹھے زدو کوب کی پریکٹس دیکھ رہے تھے، اور ملزم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، کہ وہ اپنے جرم کا قرار کرے، اور بتائے، کہ چوری کا مال کہاں رکھا ہے؟

مسٹر لغاری نے تھانہ پہنچنے کے بعد جب یہ کیفیت دیکھی، تو آپ نے سب انسپکٹر سے مطالبہ کیا، کہ ملزم پر تشدد نہ کیا جائے۔ سب انسپکٹر مسٹر لغاری سے ناواقف تھا،
اس نے پوچھا، کہ :۔
” آپ کون ہیں؟ جو ہمیں نصیحت کر رہے ہیں“۔

مسٹر لغاری نے جواب دیا:۔
میں یہاں گوڑ گاؤں میں سیلمنٹ آفیسر ہوں۔ میرا نام لغاری ہے، اور میں انڈین سول سروس کا ممبر ہوں“۔ یہ سن کر سب انسپکٹر نے اپنے پولیسیانہ انداز میں کہا:۔
” اگر آپ سیٹلمنٹ آفیسر ہیں، تو جا کر جریب سے زمین ناپیے۔ آپ کو پولیس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں“۔

مسٹر لغاری یہ سن کر گوڑ گاؤں کے ڈپٹی کمشنر مسٹر کول ( کشمیری پنٹت) کے ہاں پہنچے۔ مسٹر کول بھی انڈین سروس کے ممبر تھے۔ ان سے تمام حالات بیان کیے، تو مسٹر کول کپڑے پہن کر مسٹر لغاری کے ساتھ تھانہ میں پہنچے، اور آپ نے بطور ڈپٹی کمشنر سب انسپکٹر کو حکم دیا، کہ ملزم ان کے حوالے کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر کا یہ حکم سن کر سب انسپکٹر کے ہوش اڑ گئے۔ ملزم کو مسٹر کول کے سپرد کر دیا گیا۔ مسٹر کول ملزم کو اپنے ساتھ اپنی کوٹھی میں لے آئے، اور مسٹر لغاری واپس ریسٹ ہاؤس چلے گئے۔

اگلی صبح ڈپٹی کمشنر کے حکم سب انسپکٹر کے خلاف ایک ملزم پر تشدد کرنے کے جرم میں مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس زمانہ میں گوڑ گاؤں میں سپرنٹنڈنٹ پولیس ایک انگریز تھے، جن کا نام میں بھول گیا ہوں۔ اس سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جب یہ دیکھا، کہ ڈپٹی کمشنر کے حکم سے سب ہوا ہے تو اس نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے یہ شکایت کی، کہ ڈپٹی کمشنر نے بغیر اس سے پوچھے یا اس کی اجازت لئے بغیر سب انسپکٹر پر مقدمہ دائر کر دیا ہے، اور یہ پولیس کے کام میں مداخلت ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے گورنر سے شکایت کی۔

ادھر اس زمانے کے وزیراعلیٰ سر سکندر حیات تھے، جو ڈپٹی کمشنر کی حمایت پر ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا، کہ گوڑ گاؤں میں پولیس اور مجسٹریٹوں کے درمیان ” اخلاقی جنگ“ شروع ہو گئی۔

مجسٹریٹوں نے پولیس کے چالان کیے ہوئے ملزموں کو چھوٹی چھوٹی باتوں کو سامنے رکھ کر اور شک کا فائدہ دے کر چھوڑنا شروع کر دیا۔ پولیس کے کسی بھی چالان میں کوئی مجسٹریٹ پہلے کی طرح امداد نہ کرتا، اور ایڈمنسٹریشن میں ایک سکتہ سا پیدا ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو تو سرگودھا تبدیل کر دیا گیا اور سب انسپکٹر پر مقدمہ قائم ہوا۔ چونکہ گوڑ گاؤں کی تمام مجسٹریسی پولیس کے خلاف تھی، سب انسپکٹر نے ہائیکورٹ میں مقدمہ کے کسی دوسرے میں تبدیل کیے جانے کی درخواست دی، جو منظور ہوئی۔

اس کا مقدمہ گوڑ گاؤں سے کر نال تبدیل کر دیا، اور اس مقدمہ میں اسے کرنال کے مجسٹریٹ نے دو برس قید سخت کی سزا دی۔ قید ہونے کے باعث سب انسپکٹر ملازمت سے علیحدہ کر دیے گئے، اور اب یہ دیلی کلاتھ ملز دہلی میں ملازم ہیں۔

یہ سب انسپکٹر ذاتی طور پر بہت ہی شریف اور تعلیم پافتہ بیان کیے جاتے ہیں۔ ایک اہل الرائے کا قول ہے :۔
” مجھے ان لوگوں سے ہمدردی ہے، جو بے نقاب ہو گئے“۔

یعنی دنیا میں تمام لوگ ہی گناہ کرتے ہیں، مگر بدنام وہ ہوتے ہیں، جن کے گناہ بے نقاب ہو جائیں۔ اسی طرح ہی پولیس ” تھرڈ ڈگری“ یعنی تشدد کا استعمال تو قریب قریب ہر مقدمہ میں کرتی ہے، اور تحقیقات کے متعلق سائنٹیفک طریقے رائج نہ ہونے کے باعث اگر یہ تشد د استعمال نہ کرے، تو شاید یہ کسی ایک مقدمہ کو بھی کامیابی کے ساتھ ثابت نہیں کر سکتی۔ مگر چونکہ یہ سب انسپکٹر مسٹر لغاری کے ہاتھوں بے نقاب ہوئے، نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہو گیا، بلکہ یہ سرکاری ملازمت سے بھی محروم ہو گئے۔

پولیس کے تشدد کے سلسلہ میں ایک دوسرا دلچسپ واقعہ بھی سن لیجیے :۔
کئی برس ہوئے، کالکا کے قریب شملہ سے آنے والی ریل موٹر پر ڈاکہ پڑا۔ رات کے نو بجے کا وقت تھا۔ ڈاکوؤں نے لائن پر ایک بڑا پتھر رکھ کر ریل موٹر کے ڈرائیور کو مجبور کیا، کہ وہ ریل موٹر کھڑی کرے۔ ریل موٹر کے کھڑی ہونے پر ڈاکوؤں نے اس کے یورپین مسافروں کو لوٹا، اور ڈرائیور کو پستول کو گولی سے ہلاک کر دیا۔ ریل موٹر کو لوٹ کر جب ڈاکو فرار ہو گئے، تو کالکا کے ریلوے سٹیشن سے پولیس اور ریلوے سٹاف موقع پر پہنچا، اور ریل موٹر کالکا کے ریلوے سٹیشن پر لائی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 24 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon