بیماریاں سو دوا ایک


مسئلہ نامی لفظ سنتے ہی خود بخود پاکستان کا نام ذہن میں آتا ہے، مسائل کا اک پہاڑ ہے جس کی چوٹی روز بروز بلند ہوتی جارہی ہے، جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے تاریخ کے نازک ترین اور مشکل دور سے گزر رہا ہے اور دن بدن مصائب کا یہ منہ سے آگ نکالتا جن توانا اور خوفناک ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان کے مسائل آخر ہیں کیا؟ ہوش اڑادینے والے مسئلوں کی بات کی جائے تو سب سے بڑا مسئؒہ ملکی خزانہ خالی ہونا ہے، اس کے علاوہ جگہ جگہ کچرے کے انبار لگے نظر آتے ہیں، ملک میں اسپتالوں کی کمی بھی ہے اور ان میں سہولتیں بھی ناکافی ہیں، صاف پانی کی عدم فراہمی، بے تحاشہ درآمدات اور بے حد کم برآمدات، بے روزگاری، دہشت گردی اور آبی ذخائر میں خوفناک کمی کا سوچ کر دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔

کوئی مسٗلہ ایسا نہیں جس کا حل نا ہو پاکستان کی آبادی لگ بھگ بائیس کروڑ ہے آبادی کے تناسب سے پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جس کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے یعنی نوجوان جن کی رہنمائی کی جائے تو حالات کو بدلا جاسکتا ہے۔
الہ دین کا زمانہ ہوتا تو چراغ رگڑ کر جن کو حاضر کیا جاتا اور ملک کی حالت بدلنے اور تبدیلی لانے کا حکم دیا جاتا لیکن اس دور میں جن کا کوئی متبادل ہے تو اسے تعلیم کہتے ہیں۔

پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اگر عوام کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائےتو علم کی موتیوں بھری راہ پر گامزن ہوکر پاکستان کا مستقبل سنہرا بنایا جاسکتا ہے، یہ تھوڑا طویل عمل ہوسکتا ہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ علم کی روشنی ملک کو کونے کونے میں پہنچائی جائے تو بائیس کروڑ افراد کو کارآمد اور مفید شہری بناکر ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔

اس کے لئے ٹیکنیکل تعلیم کے ادارے قائم کرنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ نوجوان ڈگری کے حصول کے بعد نوکری کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرتے رہیں بلکہ ہنر حاصل کرکے چھوٹے پیمانے پر ہی اپنا کام کرسکیں۔
ملک میں اس وقت کئی نظام تعلیم ہیں یکساں نظام تعلیم بہت ضروری ہے تاکہ معاشرے میں تفریق، احساس کمتری اور گھٹن کم ہو۔

کئی معاملات میں انسان تعلیم کی بدولت شعور حاصل کرنے سے اچھے برے کی تمیز کرلیتا ہے اور اس کو اچھائی یا برائی کا انتخاب کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جب انفرادی حیثیت میں انسان برائی کو برائی جان کر اس سے دور ہوجاتا ہے تو معاشرے میں خودبخود بہتری آنے لگتی ہے
علم کا ٹیکہ لگا کر ہم کئی تکلیفوں سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اور زندگی کی خوشیوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں