میڈیا میں ملازمت اب آسان نہیں


انٹرکرنے کے بعد جب طالبعلم فارغ ہوتا ہے تووہ آگے بڑھنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا سوچتا ہے۔ اسی کشمکش میں وہ دوسروں سے بھی مشاور ت کرتا ہے اور لوگ اسے مختلف تجاویز دیتے ہیں۔ کوئی کسی شعبہ کی بڑائی بیان کرتانظرآتاہے تو کوئی کسی۔ اسی طرح اسفند بھی انٹر کے بعد پریشانی کاشکار تھا کہ آگے کیا کیا جائے تو سوچا کہ کیوں نہ مشورہ کرلیاجائے لہٰذا وہ پہنچا سینیئرز، قابل اور تجربہ کار لوگوں کے بیچ اور پھنس گیا مختلف مشوروں میں۔

کسی نے انجینئرنگ میں داخلے کا کہا تو کسی نے کمپیوٹرسائنس کوترجیح دی ذاتی دلچسپی نہ ہونے کے سبب مزید مشورہ کیا تو پھر ایک صاحب نے میڈیاکے شعبے کی تصویرکشی کچھ اس اندازمیں کی کہ اس نے حقیقت جان کر فیصلہ کرلیا کہ اب بس میڈیا کے شعبے میں داخلہ لے گا اور اسی میں ملازمت بھی کرے گا۔ اس طرح وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اس غرض سے داخلہ لیا کہ ڈگری لے کر بس آرام سے کام کروں گا۔ کیوں کہ اب تو ہمارا پڑھنے کا مقصد صرف اور صرف ملازمت کا حصول ہی ہے۔

اس طرح یونیورسٹی میں پہلے سمسٹر کا آغاز ہوا اور یوں میڈیا کے بارے میں پڑھنا اور جاننا شروع کیا اس طرح سات سمسٹر گزر گئے اور آخری سمسٹر آن پہنچا۔ پھر نوکری کے بارے میں فکر ہوئی کہ ڈگری تومکمل ہونے والی ہے اب کیا کرے۔ لہٰذا پھرکسی نے بتایا کہ ملازمت کے لئے ڈگری کے علاوہ تجربہ ہونا لازمی ہے اور تجربے کے لئے انٹرن شپ کرنے کا مشورہ دیا۔ اب انٹرن شپ کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیے۔

اسی سلسلے میں سب چینلز اور اخباروں کی ویب سائٹس پر سی وی بھیجا مگرکوئی جواب نہ آنے آیا بالآخر تنگ آکر خودجانے کا ارادہ کیا اور اگلے ہی روز دوست کوساتھ لیا اور پہنچ گئے چینل کے دفتر پہلے تو اندرجانے کی اجازت نہ ملی مگر پھر کافی اصرارکے بعد جب اجازت ملی تو کہا گیا کہ آپ سی وی ریسپشن پر چھوڑ دیں ہم ایچ آر میں پہنچا دیں گے۔ کچھ روز انتظار کے باوجود کوئی جواب نہ آنے پر دوبارہ جانے کا ارادہ کیا مگر ہر مرتبہ کی طرح کوئی جان پہچان نہ ہونے کی بناء پراس مرتبہ بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا اور خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

پھر وہ وقت بھی آن پہنچا کہ ڈگری مکمل ہوگئی مگر ابھی تک نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ کوئی جان پہچان کیوں کہ تجربے اور تعلقات کے بغیر ڈگری توکسی کام کی تھی نہیں اور نہ تو یونیورسٹی میں کوئی عملی کام سکھایا گیا کہ فیلڈ میں کس طرح کام کیا جاتا ہے کہ جس کی بناء پر نوکری ملے۔ اس طرح میڈیا کا طالبعلم ڈگری کے ہوتے ہوئے انٹرن شپ اور ملازمت کے لئے دھکے کھاتا ہے۔ کیوں کہ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم میرٹ یا کام کے بجائے تعلقات اور جان پہچان کو ترجیح دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں