عمران خان پر اپنے دعووں کا بہت پریشر ہے


خان صاحب اور ان کی ٹیم پر اس وقت بہت پریشر ہے۔ خان صاحب کو کوئی چیز خراب نہیں کر رہی سوائے ان کے اپنے نہ پورے ہونے والے وعدوں اور دعووں کے۔ ماضی کے دیگر حکمرانوں کی طرح ان کے ادرد گرد بیٹھے افراد بھی انھیں بار بار اس بات کی یقین دہانی کرواتے رہتے ہیں کہ ”خان صاحب آپ آئے تو بس نیا پاکستان بنا ہی بنا۔ تبدیلی آ جائے گی۔ بجلی یوں چٹکی میں پوری ہو گی۔ ڈالر 25 روپے کا ہو جائے گا۔ پٹرول سستا ترین ہو جائے گا۔ ”

اور خان صاحب بغیرکچھ سوچے سمجھے یا فزلبیلٹی رپورٹ لیے یہ باتیں سٹیج پر کیے جاتے تھے۔ اب وہی سب کرنا پڑا رہا ہے جو نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ مثال کے طورر پر فاریکس والے دوست جانتے ہیں عالمی منڈی میں پٹرول اس وقت 70.82 ڈالر فی بیرل بک رہا ہے۔ میاں صاحب کے دور میں اس سے آدھی قیمت پر فروخت ہوتا رہا ہے۔ اس وقت یہ کہنا کہ پٹرول 40 کا لیٹر پڑتا ہے باقی رقم حکومت اپنی جیب میں ڈال رہی ہے غلط تھا۔ اب دیکھیں یا قیمت ان سے قابو میں نہیں آ رہی۔

خان صاحب کی غلطی ہے کہ عوام کو اتنی آس امید دی ہے کہ ٹارکٹ ان کے لیے ناقابلِ حصول ہو گئے ہیں۔
مثلاً 5 سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنا۔ یعنی ایک سال میں 10 لاکھ گھروں کی تعمیر۔ ایک ماہ میں 83 ہزار 333 گھروں کی تعمیر۔ اور روزانہ 2777 گھروں کی تعمیر۔ یعنی ہر روز بغیر وقفے کے منٹ میں 2 گھر لگاتار 5 سال تیار ہوں تو یہ ٹارگٹ اچیو ہوتا ہے۔ جو کہ ناممکن ہے۔

فارن پیلسی بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس پر بھی جھوٹی خبروں کا سہارا لیا گیا حلانکہ اس وقت پاکستان کی اولین ترجیح اچھی فارن پالیسی ہونی چاہیے مگر اس فیلڈ میں اس وقت تک کوئی قابل تعریف کام نہیں ہوا۔

پولیس کے معاملات میں دخل اندازی پر خان صاحب نے درجنوں بیانات دیے اور ان گنت تقریریں کیں۔ ناصر درانی کو پولیس اصلاحات کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور یہ وعدہ کیا کہ پولیس کے معاملے میں سیاسی دخل اندازی نہیں کی جائے گی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ناصر درانی نے اس لیے استعفی دیا کیونکہ حکومت اس امر سے باز نہیں آئی۔

جنوبی پنجاب کو اب تک اگنور کیا جا رہا ہے حالانکہ اس پر بڑی سیاست ہوئی اور اس بیلٹ نے خان صاحب کو بہت ووٹ دیا۔

ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ شہریوں کو اسی ٹیکس کے خلاف اکسانا اور کہنا ہنڈی سے پیسے بھیجیں۔ بل جمع نہ کروائیں۔ دھرنے اور جلوسوں پر آنے والے موٹر وے اور دیگر سڑکوں کے ٹال ٹیکس ادا نہ کریں۔

ہم reality اور لاجک پر چلنے والے لوگ ہیں۔ جب خان صاحب کہتے تھے کہ مر جاؤں گا لیکن قرضہ نہیں لوں گا۔ تب بھی یہی سوچتے تھے کہ اس سیاستدان کہ ایسے بیان نہیں دینے چاہییں۔
جنوبی پنجاب کا اس وقت تک اگنور کیا جانا۔ ٹیکس کی بہتات، پبلک سٹنٹ اور بے بنیاد جھوٹی خبروں پر ملک نہیں چلا کرتے۔

ہم آج بھی مانتے ہیں کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ہم ہر قسم ک ٹیکس دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ کیونکہ ہم نے پاکستان چلانا ہے۔ ہم نے اسے ایک عظیم ملک بنانا ہے۔

ہم پاکستان کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بس ہماری یہ ڈیمانڈ ہے۔ کہ خان صاحب قوم کے سامنے سچ رکھیں۔ انھیں جھوٹے لارے اور تسلیاں نہ دیں۔ اب آپ وزیراعظم ہیں کوئی بھی بیان جاری کرنے سے پہلے 3 بار سوچیں اور 5 بار ریسرچ کریں۔ اپنے ہم پلہ سیاستدانوں اور غیر ملکی حکمرانوں کی عزت کریں۔ سب کو ساتھ چلا کے ملک کے لیے کام کریں اور برائے مہربانی ایک وزیر اعظم کا سا رویہ اختیار کریں۔ آپ دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ ہیں۔

پارٹی بدلنے والے ناکام سیاستدانوں اور واہ واہ کرنے والی ٹیم کی بجائے ٹیکنیکل لوگوں پر منحصر ٹیم اور مشیروں کی کابینہ بنائیں۔ تب پاکستان نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ ہم دنیا کے سامنے ایک عزت دار ملک و قوم بن کر بھی ابھریں گے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

مہر حسیب کی دیگر تحریریں
مہر حسیب کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں