ابن عربی روحانی دنیا کے بارے میں کیا راہنمائی کرتے ہیں؟


ابن عربی صوفی ازم کے سب سے بڑے استاد کہلاتے ہیں۔ ابن عربی مسلم اسپین میں پیدا ہوئے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ دمشق میں گزارا۔ ابن عربی کہتے ہیں کہ تقلید اور تحقیق اس مادی دنیا کے دو مختلف اصول ہیں۔ انسان کے لئے ان دونوں اصولوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ تقلید کا لفظ عقل سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ان شخصیات کی پیروی کرنا جو دانشور اور زہین انسان ہیں۔ ابن عربی کہتے ہیں کہ اتھارٹی فگرز کی پیروی کرنے سے بہتر ہے کہ مسلمان تحقیق کے اصول پر چلیں۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تقلید کی بجائے تحقیق کریں۔ ابن عربی کے مطابق تحقیق کا لفظ حق سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سچائی اور حق کی تلاش۔ ابن عربی کے مطابق محقق یا تحقیق کے رستے پر چلنے والے انسان وہ ہیں جو حق یا سچ کی تلاش پر پہنچ چکے ہیں یا سچائی کی طرف پہنچ رہے ہیں۔

ابن عربی کہتے ہیں کہ خدا کے ننانوے نام ہیں اور ان ناموں میں تمام بنیادی تصورات ہیں۔ یہ نام ان بنیادی صفتوں کو بیان کرتے ہیں جن کے نتیجے میں اس دنیا یا کائنات میں باقی تصورات یا خیالات ہیں۔ وحدت الوجود ابن عربی کا بنیادی تصور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا نور ہے، خدا روشنی ہے۔ اس روشنی یا نور کے ذریعے انسان دنیا اور کائنات کو دیکھ سکتا ہے، اس نور کے ذریعے ہی ہم دنیا اور کائنات کو سمجھ سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ نور نہ ہو تو انسان کسی چیز کا ادراک نہیں کرسکتا۔

ابن عربی کے مطابق اس نور کے بغیر انسان کچھ نہیں کرسکتا۔ انسان اس نور کے بغیر نہ ہی کچھ تصور میں لاسکتا ہے اور نہ ہی وہ سوچ کی قوت سے آشنا ہوسکتا ہے۔ انسان کے ذہن میں جو بھی خیال یا تصور ہے وہ صرف اور صرف نور کی وجہ سے ہے۔ تمام انسانوں کا علم و فکر صرف اور صرف نور ہے اور وہی حقیقت ہے اور وہ نور اللہ تعالی کی ذات ہے۔ ابن عربی کے مطابق اللہ کی ذات کے سوا انسان اور کچھ نہیں جانتا۔ ابن عربی کہتے ہیں یہ دنیا ہر وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ہر چیز تبدیل ہورہی ہے۔ ہر فانی چیز کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ صرف ایک چیز ہے جس میں ہمیشگی ہے اور وہ ہے نور۔

وہ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں، جو بھی علم و فکر اور تصورات و خیالات ہیں وہ صرف اور صرف خدا کا ہی تصور ہیں۔ تمام existence وحدت کے اندر ہے اور وہ ایک ہے اور اس کانام ہے نور۔ دنیا و کائنات ایک ہیں۔ ہر چیز ایک ہے اور وہ ہے نور۔ سب کچھ خدا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

ابن عربی کہتے ہیں کہ اس کائنات میں تین مختلف چیزیں موجود ہیں۔ ایک ہے جسم کی دنیا یعنی مادی دنیا۔ ایک ہے روحانی دنیا اور تیسری دنیا کو وہ خیال یا تصور کی دنیا کہتے ہیں۔ خیال یا تصور کی دنیا مادی اور روحانی دنیا میں تعلق پیدا کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حقیقت نور یا روشنی ہے، جو ناممکن ہے وہ ہے اندھیرا، جس کا وجود نہیں۔ ان دونوں کے درمیان برزخ ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم انسان رہتے ہیں۔ اس لئے انسان ایک لمحے میں اس چیز کو سمجھتا ہے جو لامحدود ہے جو نور ہے اور جو حقیقت ہے۔ دوسرے لمحے میں یہی انسان مادی دنیا کو سمجھنے اور سوچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سارا احساس دل کی دھڑکن کی طرح کا ہے۔

ابن عربی کہتے ہیں کہ کائنات میں دو مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ وہ مادی چیزیں جو نظر آرہی ہیں اور وہ جو آنکھ سے اوجھل ہیں، چھپی ہوئی ہیں یا پوشیدہ ہیں۔ جو چیزیں نظر آرہی ہیں ان کے ہم عینی شاہد ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں یا گواہی دے سکتے ہیں کہ مادی دنیا میں یہ چیزیں ہیں جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں۔ وہ جو غائب ہے، پردے کے پیچھے ہے، وہ روحانی دنیا ہے جسے ہم کھلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ اس لئے انسان دو چیزوں سے تخلیق کیا گیا ہے۔ ایک اس کا جسم ہے جسے وہ دیکھ سکتا ہے۔ ایک اس کی روح ہے جو اسے نظر نہیں آتی لیکن اس کے خیال یا تصور میں موجود ہے۔ انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ روحانی علم و فکرسے شعور و آگہی بڑھائے تاکہ سچ یا حق کی جانب اس کا سفر جاری رہے۔

جب انسان زیادہ سے زیادہ روحانی علم سے آشنا ہوگا تو وہ اس نور کے قریب پہنچے گا یا پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے اندر قابلیت پیدا کریں کہ وہ روحانی دنیا کو سمجھ سکیں اور اس کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔ ابن عربی کے مطابق مذہب کے ساتھ ساتھ انسان فلسفے کے ذریعے بھی روحانی دنیا، نور یا خدا تعالی کو سمجھ سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں