وزیراعظم اسد عمر کی کارکردگی پر برہم، ہوم ورک کرنا چاہیے تھا


وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی معاشی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتےہوئے ان کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت چند پارٹی رہنماؤں کا غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی معاشی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اسد عمر کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر خزانہ کو اقتصادی صورتحال پر پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی، آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں پس و پیش کی پالیسی سے نقصان ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ اسد عمر کو ہوم ورک مکمل کرکے رکھنا چاہیے تھا، ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے سےعوامی رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے موجودہ اقتصادی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وہ قوم سے خطاب کریں گے اور انہیں روشن مستقبل کی نوید بھی سنائیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم قوم کو بتائیں گے کہ موجودہ حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ملک کو بحران سے نکالا جائے گا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی کی وضاحت

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کے حوالے سے وزیراعظم سے منسوب خبر من گھڑت ہے کیوںکہ نہ پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا اور نہ وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کی کارکردگی پر اظہار خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں اور وہ ملکی معیشت کے معاملات سے پوری طرح واقف ہیں لہذا وزیر اعظم کو وزیر خزانہ کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ واضح رہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں تاریخی اضافے سمیت سی این جی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ حکومت نے گزشتہ روز مالی امداد کے لیے آئی ایم ایف سے باضابطہ درخواست کی ہے۔

بشکریہ جیو نیوز۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں